استور(سبخان سہیل) ڈپٹی کمشنر استور ولی خان کے زیر صدارت تمام ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ کا ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر استور کے آفس میں ہوا ۔اجلاس میں 15جنوری 2018سے جاری تین روزہ پولیو مہم کا کامیاب کرنے لے لیے اہم امور پرگفت شندی ہوئی ۔ اس موقعے پر ڈپٹی کمشنرولی خان کے علاوہ ڈی ایچ او استور، ممتاز احمد، ایم ایس ڈاکٹر نواب، ڈی ایس پی محمد شرین، اسسٹنٹ کمشنر زید احمد، اسسٹنٹ کمشنر شونٹر شیر افضل، ایکسن محکمہ تعمیرت سردار ، سمیت دیگر تمام سرکاری محکموں کے سربرہان نے شرکت کیا۔ ڈپٹی کمشنر ولی خان نے اس موقعے پر کہا کہ ہم نے نیشنل پولیومہم کو کامیاب کرنے کے لیے گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا ہے۔ پندرہ جنوری سے جاری تین روزہ پولیو مہم کے دوران ہم سب نے ایک ایک گاوں میں جاکر کراس چیکنگ کرنا ہے تاکہ اس تین روزہ مہم میں کوئی بھی بچہ پولیو کے قطرے سے محروم نہ رہے سکے۔ استور میں تین روزہ پولیو مہم کے دوران ضلع بھر میں گیارہ ہزار پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا ہے ۔ استور کے بالائی علاقے قمری، منی مرگ، کلشی، ٹٹول سمیت برزل ٹاپ سے اس طرف یہ پولیو کمپین نہیں کی جاری ہے کیوں کہ ان ایریا میں برف باری سے پہلے یہ مہم چلائی جاچکی ہے موجودہ صورت حال میں یہ ایریا برف باری کے بعد مکمل بند ہے جس کے باعث پولیو کمپین ان علاقوں میں ممکن نہیں ہے۔ میں اس موقعے پر تمام نیشنل میڈیا اور لوکل میڈیا سمیت والدین سے گزارش کرتا ہوں کہ اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے ہمارے ساتھ تعاون کریں اور والدین اپنے پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں۔ اس موقعے پر ڈی ایچ او استور ممتاز احمد نے تین روزہ پولیو مہم کے حوالے سے بریفنگ دئتے ہوئے کہا کہ ہم نے تین روزہ پولیومہم میں ضلع استور کے اندر گیارہ ہزار بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا ہے تین روزہ پولیو مہم کے دوران ہمارے 98موبائل ٹیمیں، 8زونل سپرویزراور 4انٹری پوئنٹ پر پولیوکے قطر پلائے جائیں گے۔ جہاں جہاں ہماری موبائل ٹیم پولیوکے قطرے پلائے گی وہاں پر کراس چیکنگ بھی کی جائے گی تاکہ پولیوکے قطرہ پلانے سے کوئی بچہ محروم نہ رہے سکے۔ اور استور کے چار انٹری پوئنٹ پر بھی ہم نے اپنی ٹیمیں رکھا ہے تاکہ ڈسٹرکٹ انٹرہونے والے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو وہی پر قطرے پلائیں ۔ اس موقعے پر تمام ہیڈ آف ڈپارٹمنٹ نے تین روزہ پولیو مہم کو کامیاب بنانے کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرئی۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا