شگر(پ ر) حبل المتین فاؤنڈیشن شگر کے رہنماء مولانا اختر علی شگری نے کہا ہے کہ لانگ مارچ عوام کی بیداری کا ثبوت ہے۔افسوس کیساتھ کہنا پڑھتا ھے کہ غیور عوام چندہفتوں سے شدید سردی میں امکانات نہ ہونے کے باوجود ظلم کے خلاف سڑکوں پر بازاروں میں صداے حق بلند کرتے رہیں بالاخر ھمارے حکمرانوں سے نا امیدہوکر گلگت کی طرف لانگ مارچ کرنے پر مجبور ہوئے تاکہ صداے حق حکمرانوں کے کانوں میں جا گونجیں۔عوام کی ووٹ سے سیٹ لیکر عوام پر پریشر ڈال رہیں ہیں۔ ہمارے حکمران اتنے بے حس ہوئے ہیں۔ ظلم اور زیادتی کے خلاف صداے حق بلند کرنے سے ڈرتے ہیں۔ اپنی ذاتی مفادات کیلے عوام کے منہ کا نوالہ چھن رہے ہیں۔ قومی مفادات پر ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہیں ہیں۔ اسمبلی میں گلگت بلتستان کے حقوق پامال ہوتے ہوے دیکھ کر بھی زبان ہلانے سے قاصر ہیں۔اگرہمارے حکمرانوں کے دلوں میں عوام کیلے ذرہ برابر بھی جگہ بنی ہوتی ، محبت ہوتی، عشق ھوتا۔ تو حکومت وقت کی مجال جو آئینی حقوق دئے بغیر ٹیکس کا مطالبہ کرے۔ سی پیک کے مفادات سے ہمیں محروم رکھے۔ ایسا کبھی نہیں ہوتا دیگر صوبوں کی طرح گلگت بلتستان بھی پاکستان کا پانچواں صوبہ بناہوتا آئنی حقوق ملتے اورہم خوشی سے ٹیکس ادا کر رہے ہوتے اور حکومت وقت کے ممنون و مشکور ہوتے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا