گلگت(نامہ نگار خصوصی ) بین الاقوامی طور پر مسلہ کشمیر سے منسلک متنازعہ گلگت بلتستان کے عوام کو بنیادی سیاسی حقوق دئے بغیر چند افراد کی مراعات کیلئے غیر قانونی ٹیکس نے گلگت بلتستان کے عوام جو پچھلے ستر سالوں سے مختلف جھوٹے نعروں کے درمیان مسلسل پریشانیوں میں مبتلا کیا ہوا ہے۔اس خطے کے حوالے سے غیر سنجیدہ فیصلوں کی وجہ سے یہاں کے عوام کو ہر چند سال بعد سڑکوں پر آنے کیلئے مجبور کرتے ہیں۔ 1998 میں بھی یہاں کے عوام نے غیر قانونی اقدمات کے خلاف قومی یکجہتی کا عملی مظاہرہ کرکے دکھایا پھر 2013 میں گندم سبسڈی کے حوالے سے عوام کو سڑکوں آنے پر مجبور کیا اور حکومت آخری وقت تک سبسڈی کے حوالے سے ڈٹے رہے لیکن دنیا کا دستور ہے کہ اصل طاقت کا سرچشہ عوام ہی ہوتے ہیں اور حکمرانوں کے عہدے دراصل عوامی ووٹ سے اہمیت بن جاتی ہے۔ آج 2017 میں بھی ٹیکس ایڈاپٹشن 2012 کو پیپلزپارٹی کے دور میں نافذ ہوئے لیکن اُنہوں نے عوامی غیظ غضب کے خوف سے نافذ کرنے کی غلطی نہیں کی لیکن جب سے حافظ حفیظ الرحمن کی حکومت آئی ہے تو ایسا لگتا ہے کہ یہاں عوامی رائے انسانی حقوق سب سے بڑھ کر خطے کی متنازعہ حیثیت کی کوئی اہمیت نہیں بلکہ اُنہوں نے گلگت بلتستان میں ہر سطح پر ایک عجیب صورت حال پیدا کیا ہے یہی وجہ ہے کہ مسلسل عوامی احتجاج اور دھرنوں سے بے خبر اُنکی کابینہ اسلام اور لاہور کے گرم ہواں میں مزے لے رہے ہیں اور گلگت بلتستان میں اُنکے حکومت کی آخری ہچکیاں چل رہی ہے لیکن مشیر چونکہ ہر دور میں حکمرانوں کو گمراہ کرتے ہیں بلکہ اُسی طرح مشیروں کی مشاورت سے ایسا لگتا ہے کہ 10 اضلاع کے لاکھوں عوام کی کوئی اہمیت اور حیثیت نہیں۔ مسلسل عوامی احتجاج کے باجود حکومت کے ڈٹ جانے پر عوام نے فیصلہ کن احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کے عوام نے انجمن تاجران اور عوامی ایکشن کمیٹی کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے گلگت کی طرف لانگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک اور تاریخی احتجاج کیلئے گلگت شہر کے اتحاد چوک پر بڑا پنڈال سج گیا10اضلاع سے آنے والے عوام تاجروں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے طعام و قیام کیلئے گلگت شہر کے چھوٹے بڑے ہوٹلوں کو خالی کرادیا گیا ہے ترجمان عوامی ایکشن کمیٹی نے اس حوالے سے میڈیا کو بتایا کہ تمام اضلاع کے تاجر تنظیموں اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے غیرقانونی ٹیکسز کے خلاف فیصلہ کن احتجاج گلگت میں کرنے کیلئے آمادہ تھے اور گلگت کی جانب لانگ مارچ کرنے پر بضد تھے جس پر مرکزی انجمن تاجران اور عوامی ایکشن کمیٹی نے گلگت کے عوام کی جانب سے مہمان نوازی کے فرائض انجام دینے کیلئے تیاریاں شروع کردی ہیں جو بروز اتوار کے شام تک مکمل ہوگئے۔ اس سلسلے میں مختلف اضلاع سے آنے والے عوام کی گاڑیوں کی پارکنگ کیلئے بھی گلگت شہر کے دو سے تین مختلف مقامات پر پارکنگ کا نظام تیار کیا ہے ۔
یاد رہے آج جس چوک پر عوام ایک بار پھر تمام تر مسلکی اختلافات کو بھلا کر بطور ایک منظم قوم کے جمع ہوریا ہے اس چوک کا نام 1998 سے پہلے ہنزہ چوک تھے سے عوامی اتحاد بنا دیا تھا سیاسی اور علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس چوک پر ماضی میں بھی فیصلہ کن احتجاج کامیاب ہوئے ہیں اس بار بھی چونکہ سوشل میڈیا نے یوتھ اور نئی نسل پہلے سے کہیں ذیادہ متحرک کیا ہے لہذا اس بار بھی کامیابی یقینی ہے۔ دوسری طرف عوامی تحریک کے خلاف ایک لابی سرگرم ہوگیا ہے جو سوشل میڈیا پر عجیب قسم کے منفی پروپگنڈے پھیلایا جارہا ہے۔ چیرمین عوامی ایکشن کمیٹی مولانا سلطان رئیس نے اپنے پیغام میں عوام سے اس قسم کے منفی پروپگنڈوں سے دور رہنے کی اپیل کی ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا