شگر(عابدشگری) نوربخشی عوام مدرسے میں آتشزدگی کے حوالے سے پولیس اور انتظامیہ کیساتھ تحقیقی امور میں ساتھ دے اور نقص امن کی حوصلہ شکنی کرے۔اور سازشی عناصر کو کامیاب نہ ہونے دے۔میر واعظ و امام جمعہ وجماعت خانقاہ معلی شگر سید حسن شاہ نے حالیہ نوربخشی مدرسہ کو پیش آنے والے حادثے کے بارے میں خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس موقع پر صبر و استقامت سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ساتھ ہی اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا اور نوربخشی پیروکاروں کو پر امن رہنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت امت مسلمہ کو اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرنے اور پاکستان کی سالمیت و استحکام کے لئے کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت ہے. انتظامیہ سے بھرپور مطالبہ کی ہے کہ اس واقعہ کی صاف و شفاف تحقیقات کرے اور حقائق کا عوام کے سامنے پیش کرے. اس سلسلے میں عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ تحقیقی امور میں انتظامیہ کا ساتھ دے اور نقص امن کی حوصلہ شکنی کرے۔ پیر طریقت صوفیہ امامیہ نوربخشیہ سید محمد شاہ نورانی نے بھی شگرآتشزدگی سے متاثرہ ہ مدرسے کا دورہ۔اس موقع پہ علماء کرام، ڈی سی اور ڈی ایس پی ضلع شگر نے ان سے ملاقات کی۔اس موقع پر پیر طریقت نے دکھ کا اظہار کیا اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس کی اصل حقائق کا کھوج لگائے اور سامنے لائے. اس معاملے میں ہم مکمل تعاون کے لئے تیار ہیں. اس موقع پر کہا کہ نوربخشی عوام پر امن رہے اور انتظامیہ کا ساتھ دے۔جب تک اصل حقائق سامنے نہیں لائیں گے ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے. اس کے پیچھے اگر کوئی سازش ہے تو بے نقاب کر کے کڑی سے کڑی سزا دے تاکہ آئندہ اس قسم کے نقص امن پیدا نہ ہو۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا