سکردو( بیورو رپورٹ) آج سکردو سمیت تمام اضلاع میں غیرقانونی ٹیکسز کے خلاف تیسرے مرحلے کے دوسرے روز بھی احتجاج اور شٹر ڈاون کیا گیا، سکردو میں یادگار شہدا ء پر خطاب کرتے ہوئے ممتاز عالم دین آغا علی رضوی اور صدر انجمن تاجران سکردو غلام حسین اطہر اور دیگر مقررین نے اپنے خطاب میں ٹیکس ایڈپٹش ایکٹ کے مکمل خاتمے تک ہرتال جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ عوامی مطالبات کی عدم منظوری پر گلگت کی طرف لانگ مارچ کرکیا جائے۔ اس سلسلے میں بلتستان ڈویژن کے تمام اضلاع سے قافلے سکردو پہنچیں گے اور سکردو سے گلگت کی طرف لانگ مارچ میں 300سے زائد گاڑیاں شامل ہو نگی۔ اُنہوں نے مزید کہا لانگ مارچ کے حوالے سے لائحہ عمل ترتیب دے دیا گیا ہے اور مطالبات کی عدم منظوری پر 24 دسمبر کو گلگت کی طرف لانگ مارچیقینی ہے۔ اس موقع پر عوام نے مسلم لیگ نون کی حکومت کے خلاف شدید نعرے لگائے اور پورا سکردو گو حفیظ گو کے نعروں سے گونچ اُٹھے۔
دوسری طرف گلگت میں بھی عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے عظیم الشان جلسے کا انعقاد کیا اور مرکزی قائدین نے حکومت کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے اگر مطالبات تسلیم نہیں کئے گئے تو کل سے تمام اضلاع سے لانگ مارچ کا اغاز کرینگے۔ لہذا حکومت فوری طور پر انکم ٹیکس ایکٹ معطلی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ اسی طرح آج گلگت شہر میں عوام نے پولیس کے ذریعے دوکان اور مارکیٹ زبردستی کھلوانے کی حکومتی کوشش ناکام ہوگئی اور گلگت کے عوام نے غیرقانونی ٹیکسیز کو مسترد کردیا اور انجمن تاجران اور عوامی ایکشن کمیٹی اپوزیشن سیاسی جماعتوں ٹرانسپورٹ یونین ہوٹلز انڈسٹری اور دیگر سٹیک ہولڈرز پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
حکومت کی جانب سے مشیر اطلاعات شمس میر اور وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ کا ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری حکومت کو پیپلزپارٹی کی حکومت مت سمجھیں جو ہڑتال والوں کے مطالبات تسلیم کرے۔ انہوں نے عوام ایکشن کمیٹی پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران عوام کو گمراہ کررہی ہے انکم ٹیکس ایکٹ 2012 کو کسی بھی صورت ختم نہیں کرسکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں جو بھی قانون کو ہاتھ میں لے گااُن کے خلاف سخت کاروائی ہوگی۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا