شگر(عابدشگری)ڈگریاں انسان کی پہچان نہیں۔ انسان کی کردار اور معاشرے کیلئے ان کی خدمات ہمیشہ ان کی پہچان رہے گا۔ بلتستان کے بیشتر اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات سرکاری سکولوں کے ٹاٹ پر پڑھے ہوئے ہیں۔اساتذہ جدید طریقہ تدریس کو اپنا کر اپنے تدریسی عمل میں چاشنی لائیں تاکہ طلباء کلاس رومز کی ماحول میں خوشی محسوس کریں۔ جی ایم سکندر اور فدا علی شگری جیسے شخصیا ت بھی ہائی سکول شگر سے فارغ التحصیل ہے۔ جنہوں نے پورے پاکستان میں اپنا نام روشن کیا۔سرکاری سکولوں کی زبوں حالی کی اصل ذمہ دار اساتذہ کا اپنے شعبے کیساتھ خلوص کی کمی ہے۔ لہذا اساتذہ اپنے کام میں نکھار لائیں اور فرائض کیساتھ خلوص اور ایمانداری کیساتھ پیش آئیں۔ ان خیالات کا اظہار بوائز ہائی سکول شگر کی سالانہ نتائج کے اعلان کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن شگر محمد نذیر شگری،سابق سیکریٹری صحت راجہ حسن خان اماچہ،سابق ممبر ضلع کونسل حاجی وزیر فداعلی،ہیڈ ماسٹر سید محمد عراقی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مقررین نے کہا کہ ہائی سکول شگر ہمارا قومی ادارہ ہے اس سکول سے پاکستان لیول کی لیڈر اور اعلیٰ عہدوں پر فائز شخصیات پڑھ کر نکلے ہیں۔ ہمیں اس ادارے پر فخر ہے۔ وسائل اوراساتذہ کی کمی کے باؤجود سرکاری سکولوں کی کارکردگی تسلی بخش ہے۔اساتذہ بچوں کی تعلیم و تربیت کو محض نوکری سمجھنے کے بجائے اس کو فرض سمجھیں۔ اور فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی اور غفلت کا مظاہرہ نہ کریں۔ڈیوٹی سے غفلت کا مظاہرہ کرنے والے اساتذہ کیساتھ آئندہ سختی کیساتھ نمٹا جائے گا۔ مقررین نے کہا کہ محکمہ تعلیم گلگت بلتستان کی جانب سے ضلع شگر کیساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا ہوا۔ یہاں کے سکولوں میں سینکڑوں طلباء کیلئے محض ایک دو اساتذہ تعینات ہیں۔ جبکہ دیگر اضلاع میں اساتذہ کی کمی کا کوئی مسئلہ نہیں۔ مقررین نے اساتذہ پر زوردیا کہ وہ وقت کی پابندی اور تدریسی معاونت پر سختی سے عمل کریں اور طلباء کیلئے ایک رول ماڈل بنے۔ڈپٹی ڈائریکتر ایجوکیشن شگر نے اس موقع پر اعلان کیا کہ آئندہ سال سے اساتذہ کیلئے خصوصی یونیفارم متعارف کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہاکہ معیاری تعلیم اور بہتر تربیت کیلئے اساتذہ ،طلباء اور والدین تینوں کی باہمی شراکت داری لازمی ہے لیکن والدین کی جانب سے توجہ کی کمی قابل مایوس کن ہے۔ اس سلسلے آئندہ سال ضلع سطح پر تعلیمی سیمینار منعقد کیا جائے ۔ جس میں بہتر کارکردگی کے حامل اساتذہ اور طلباء کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔تقریب کے اختتام پر پوزیشن ہولڈر طلباء میں شیلڈ اور نقد انعامات تقسیم کیا گیا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا