کھرمنگ (نمائندہ خصوصی) ضلع کھرمنگ یونین کونسل کتی شو شمائل ون میگا واٹ پاور ہاوس کو بند کردیا گیا بغیر تنخواہ کے ایک عرصے سے ڈیوٹی دینے والے ملازمین اور معاوضہ نہ ملنےوالے لینڈ ڈونرز کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا علاقہ سخت سردی اور برفباری میں بھی اندھیرے میں ڈوب گیا۔لوگوں کو انتہائی پریشانی اور مشکلات کا سامنا ہے بجلی بند ہونے سے اس وقت سخت سردی اور برفباری بھی جاری ہے اوپر کے علاقوں میں اس بجلی گھر پر جن کی زمینیں لگی ہیں ان میں سے کچھ کو نوکری کا وعدہ کیا تھا اور وہ پچھلے کئی سالوں سے بغیر تنخواہ ڈیوٹی دے رہے ہیں اور باقی تمام متاثرین کو ابھی تک معاوضہ بھی ادا نہیں کیا گیا۔اس بجلی گھر سے یونین کونسل کتی شو مھدی آباد غاسنگ اور سکردو ہسپتال تک روشن کیا جارہا ہے۔ملازمین نے یکم دسمبر کی تاریخ دی تھی اور کہا تھا ایکسیئں یا ڈی سی کھرمنگ ہمیں یہاں آکر اعتماد میں لین اور مذاکرات کریں تو ہم بجلی بند نہیں کریں گے مگر دونوں میں سے کسی نے بھی یہاں آنا گوارا نہیں کیا ، آج دن دس بجے سے بجلی گھر کو مکمل تالہ لگا دیا ہے، کنٹریکت ملازمین اور لیںد ڈونرز نے ایک قرار داد کئ ذریعے حکام بالا سےمطالبہ کیاہے کہ 5 اکتوبر 2017 کو حکومت اور متاثرین زمین کے درمیان ہونے والے مذاکرات اور اے سی کھرمنگ کو پیش کردہ دستاویزات کی روشنی میں فوری طور پر امیدواران کو ریگولرکیا جاےمحمدکظم ولد موسی ، مھمد تقی ولد حاجی حسین ، سخاوت ولد محمد حسین اور محمد رضا ولد محمد علی کے ذریعے پیش کئیے جانیوالے قرارداد خبر دار کیا گیا ہے کہ بجلی گھر میں زمین کے متاثرین کے علاوہ کسی کو کھپانے کی کوشش کی مزاحمت کی جائے گی اور مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ متاثرین جنہیں اب تک امیدوار کے طور پر بھی آرڈر جاری نہیں ہوا انہیں بھی آرڈر جاری کر کے ریگولر کیا جاۓ تاکہ سٹاف کی کمی کا مسئلہ بھی حل ہو ۔
عمائدین علاقہ نے بھی حکومت کی عدم توجہی کی مذمت کرتے ہوۓ مسئلے کو اس نہیج تک پہنچانے کا ذمہ دارحکومت کو قرار دیا ہے اور مطابلہ کیا ہے کہ لینڈ ڈونرز کے مطالبات فوری طور پر حل کر کے عوام کو بجلی بحال کر دی جائے۔
دوسری طرف منٹھوکھا گیمل بجلی گھر کے متاثرین بھی پچھلے چار سالوں سے معاوضے کی انتظار میں سرکاری دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک چُکے ہیں اور اُنہوں نے بھی گیمل کے لینڈ ڈونر کو معاوضہ نہ پر شاہراہ کھرمنگ کو بند کرکے احتجاج کرنے دھمکی دی ہے
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا