نگر ( اقبال راجوا) ون میگا واٹ چھلت پاور ہاؤس کا چینل تباہ،بے وقت تباہی پر عوام نے بجلی ملازمین کو اس ساری صورت حال کا زمہ دار قرار دیا ۔ چینل تباہ ہونے کی وجو ہات معلوم نہیں ہو سکیں ۔ اس قدر تباہی مچ جانے تک ملازمین نے خطرے سے آگاہ کیوں نہیں کیا گیا۔ عوام کا محکمہء تعمیرات عامہ کے حکام سے سوال ۔چینل تباہ ہونے کے سبب مین ٹاؤن ایریاء نگر میں مکمل اندھیرا چھا گیا۔ اگر مستقل کام کرانا ہے تو کم ازکم دو مہینے لگنے کا وقت درکار ہے حکام کا عوام کو جواب۔ خبر ملتے ہی ممبر اسمبلی جاوید حسین اور ایگزیکٹیو انجینئیر صادق حسین کے ساتھ متاثرہ حصے کے مشاہدے کے لئے پہنچ گئے۔ ماہ دسمبر میں عمو ماً زمینی کٹاؤ نہیں ہوتا ہے لیکن نہیں معلوم کہ چینل تباہ کیسے ہو گیا۔ ممبر اسمبلی جاوید حسین نے دورے کے عوام سے بات چیت میں کہا کہ علاقے میں چینل کی مستقل بحالی تک کسی نہ کسی طرح حلقے کے کے دیگر بجلی گھروں سے بجلی فراہم کی جائے گی ۔ قابل زکر بات یہ ہے کہ نگر کے سب سے بڑے تجارتی مرکز میں بجلی نہ ہونے سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہونے کے سبب معاشی نقصان سمیت دیگر مسائل بھی میں اضافہ ہوگا ۔ مواصلات، ہسپتال ،سکول ،بازار اور میڈیا نمائندوں کو بھی شدید دشواریوں کا سامنا ہوگا۔ باوثوق زرایع کے مطابق محکمہء برقیات کے ایگزیکٹیو انجینئیر کا یہ کہنا ہے کہ مستقل کام کے لئے کم از دو مہینے لگ سکتے ہیں ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا