شگر(عابدشگری)شگر میں قدیمی تہوارجشن مے فنگ لوسر اس سال 22دسمبر کو بھرپور اور روایتی انداز میں منایا جائے گا۔جس میں روایتی کو پولو کے علاوہ رات کو مے فنگ اورآسمان میں فانوس چھوڑا جائے گا۔۔ جس کیلئے بھرپور تیاری اور تشہیر کیا جائے گا۔جشن مے فنگ لوسر کی ایونٹ میں مے فنگ کیساتھ قدیمی کھیل کوپولو،رسہ کشی اور دیگر کھیلوں کا انعقاد کیا جائے گا۔اس بات کا فیصلہ ڈپٹی کمشنر شگر کی صدارت میں ہونے والے اہم اجلاس میں کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر شگر ذاکر حسین کی صدارت میں شگر کی قدیمی تہوار جشن مے فنگ کی انعقاد اور تیاری کے سلسلے میں اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام ضلعی اداروں کی سربراہوں ،ٹورزم ڈیپارٹمنٹ اور شگر ٹورزم ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔ جس میں تمام ممبران نے شرکت کی اجلاس میں جشن مے فنگ کو اس سال بھی بھرپور انداز میں منانے پر اتفاق کیا گیا۔جشن مے فنگ 22دسمبر کو منایا جائے گا جس میں روایتی کو پولو وزیر پور اور شگر کے درمیاں کھیلا جائے گا۔ جبکہ اسی رات اصل تہوار مے فنگ اور غوروم چھوڑنے کا رسم بھی ادا کیا جائے۔ جس کیلئے انتظامات مکمل ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر شگر ذاکر حسین نے کہا کہ جشن مے فنگ شگر کا قدیمی تہوار ہے اسے زندہ رکھنے اور اسے بھرپور انداز میں منانے کیلئے شگر کی عوام کیساتھ تمام ضلعی ادارے بھرپورحصہ لیں گے۔اس ایونٹ کو شگر سنٹر تک محدود رکھنے کے بجائے شگر اور دیگر شہروں سے لوگوں کو اس خوبصورت ایونٹ کو دیکھنے کیلئے بلایا جائے گا۔ضلعی انتظامیہ کوشش کررہے ہیں اس ایونٹ کو صرف مقامی تہوار تک محدود رکھنے کے بجائے اسے قومی اور بین الاقوامی سطح کی ایونٹ کے طور پر منایا جائے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس تہوار کی بھرپور تشہیر کیلئے سکردو سمیت دیگر علاقوں میں خرمقدمی بینرز آویزان کیا جائے گا۔ اور لوگوں کو اس ایونٹ کو دیکھنے کیلئے راغب کیا جائے گا۔ توقع کی جارہی ہے کہ اس تہوار کو دیکھنے کیلئے گرد نواح اور دیگر علاقوں سے ہزاروں افراد شگر آئیں گے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا