گلگت ( نمائندہ خصو صی )عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئر مین مو لا نا اسلطان رئیس و انجمن تاجران بلتستان کے صدر غلام حسین اطہر نے کہا ہے کہ ہم کٹ مرینگے لیکن ٹیکس ایڈاپٹیشن ایکٹ 2012کو قبو ل نہیں کرینے اس لیئے چلاس کے تبلیغی اجتماع کے پیش نظر 20تاریخ تک حکومت کو وقت دیا جا تا ہے اور اکیس تاریخ سے پورے گلگت بلتستان میں شٹر ڈاو ن ہڑتال اور پہیہ جام ہڑتال کیا جائے گا اور تین روز تک اس دوران ٹیکسز کے اس ایکٹ کو ختم نہیں کیا توبلتستان کے چار اضلاع اور دیگر پانچ اضلاع سے گلگت کے لیئے لانگ مارچ کیا جائے گی اور اس وقت جو بھی ہو گا اس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پہ عائد ہو گی ۔منگل کے روز عوامی ایکشن کمیٹی اور انجمن تاجران کا اجلاس مقامی ہو ٹل میں منعقد ہو اجس میں انجمن تاجران کے صدر محمد ابراہیم ، ایکشن کمیٹی کے چیئر مین مو لانا سلطان رئیس، ہو ٹل ایسو سی ایشن کے صدر را جہ نا صر ،جماعت اسلامی کے جہانزیب انقلا بی،مجلس وحدت المسلمین کے غلام عباس ،انسانی حقوق کی تنظیم کے محمد فاورق ، پی پی پی کے میر باز کیتھران ،منرلز اینڈ جمز کے شوکت علی ،اما میہ کونسل کے سید یعصب الدین ، انجمن اما میہ کے فدا حسین ،کنٹریکٹرز ایسو سی ایشن کے صدر فردوس احمد،،بلتستان کے چار اضلاع سے اشرف حسین ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن بلتستان کے صدراشرف حسین انجمن تاجران سکردو کے صدر غلام حسین اطہر ، آغا تقی علی سبز واری ،ضلع غذرسے راجہ میر نواز میر ، بشارت حسین ،شاہ جہان ،ہنزہ سے امتیاز گلگتی ،نگر سے شیخ شبیر حکیمی ،اصغر شاہ ،محمد رمضان ،مسعود الرحمن ،طارق حسین ،استور کی جانب سے مو لانا عبدلاسمیع ،جماعت اسلامی کے نظام الدین نے شر کت کی اور متفقہ طور پہ کہا گیا کہ ہمیں ٹال مٹول کے با تیں نہیں چا ہیئے ہم نے حکومت کو جتنا وقت دینا تھا وہ دیا ہے اب پیچھے ایک قدم بھی نہیں جا ئینگے اور اب کی تحریک میں شدت لا ئی جا ئے گی اور ایڈاپٹیشن ایکٹ 2012میں تر میم کو مسترد کر دیتے ہیں اور یہ مطا لبہ کر تے ہیں کہ حکومت اس ایکٹ کو مکمل ختم کر دے ۔ اجلاس میں میں کہا گیا کہ چلاس اجتماع 16تاریخ سے تین دنوں کے لیئے شروع ہے اس لیئے ہم حکومت کو بیس تاریخ تک وقت دیتے ہیں اور اکیس تا ریخ سے مکمل شٹر ڈاﺅن اور پیہ جام ہوگا اور پھر بھی ٹیکس ختم نہیں ہوا تو گلگت کی جانب سے تمام اضلاع سے لانگ مارچ ہو گی ۔اجلاس میں کہا گیا کہ مزاکرات کے لیئے ہمارے دروازے کھلے ہیں ہم اپوزیشن سمیت سب سے ملاقات کر ینگے اور ٹیکس کے خاتمے کے علاوہ کو ئی اور آپشن قبول نہین ہے ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا