اسلام آباد(ٹی این این) گلگت بلتستان کے حکمرانوں کا اپنے عوام نے جھوٹ بولنا ویسے تو معمول کی بات ہے، لیکن جعفراللہ خان نے ایک ایسے موقع پر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے جب پورا گلگت بلتستان سیلاب کے بعد کی صورت سے پریشان حال ہیں ،لوگ بے یار مددگار عبادت گاہوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں،کھانے پینے اور دوائیوں کی شدید قلت ہیں۔سکردو کے نواحی گاوں گیول میں ستر کے قریب گھر صفحہ ہستی سے مٹ گیا، ہزاروں کی تعداد میں عوامی املاک سیلابی ریلے کا شکار ہوگیا لیکن مقامی حکمران تمام تر صورت حال کو نظر انداز کرتے ہوئے سیلاب کے دوسرے دن ہی نواز شریف سے اظہار یکجہتی کیلئے اسلام آباد چلے گئے۔اُس دن سے لیکر آج تک قانون ساز اسمبلی اور جی بی کونسل کے تمام اراکین نے اسلام آباد میں ڈیرا جمایا ہوا ہے۔ لیکن جعفر اللہ خان کا مقامی میڈیا میں سیلاب متاثرین کو تنہا نہ چھوڑنے کی باتیں دیکھتی آنکھوں کو دھوکہ دینے والی بات ہے۔ مقامی پرنٹ میڈیا کو بھی چاہئے کہ صحافتی اقدار کا خیال رکھتے ہوئے اس قسم کی جھوٹی خبروں کو اخبارات میں شائع کرنے سے گریز کریں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا