چلاس(خصوصی رپورٹ)ڈسٹرکٹ ہسپتال چلاس مسائلستان بن گیا دور دراز سے علاج معالجے کیلئے آنے والے مریض چلاس ہسپتال میں ڈاکٹروں کی عدم دستیابی اور سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے در بدر کی ٹھوکریں کھانے لگے۔ہسپتال میں صفائی کی ناقص صورت حال اور عملہ کی مریضوں کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ نے عوام اور مریضوں کو ذہنی مریض بناکر رکھ دیا ہے ۔دیامر کے عوامی و سماجی حلقوں صدام حسین،مولنا محفوظ ،اکرام اللہ،محمد دین و دیگر نے کہا کہ چلاس ہسپتال کا کدا حافظ ہے ،ڈیوٹی پر معمور داکٹر وقت سے پہلے ہسپتال چھوڑ کر اپنی اپنی کلنکوں کی طرف نکل پڑتے ہیں جبکہ ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ اکثر ڈاکٹروں سے خالی رہتا ہے ہسپتال کا پورا نظام چند جونئیر سٹاف کے حوالے کرکے ڈاکٹرز اور دیگر ملازمین رفو چکر ہوتے ہیں مگر پوچھنے والا کوئی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ کمشنر دیامر کو چلاس ہسپتال کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا مکمل علم ہے لیکن داکٹروں کے سامنے وہ بھی بے بس نظر آرہے ہیں ،ہسپتال میں اندھیر نگری چوپٹ راج ہے ،مریض بے موت مررہے ہیں ،نظم درہم برہم ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی اور چیف سیکرٹری فوری نوٹس لیکر چلاس ہسپتال کا نظام ٹھیک کروائیں ورنہ ڈاکٹروں کی بے حسی اور عملہ کی غفلت سے انسانی جانوں کی ضیائع کا اندیشہ ہے۔
ڈسٹرکٹ ہسپتال چلاس مسائلستان بن گیا دور دراز سے علاج معالجے کیلئے آنے والے مریض چلاس ہسپتال میں ڈاکٹروں کی عدم دستیابی اور سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے در بدر کی ٹھوکریں کھانے لگے۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا