گلگت ( ڈسٹرک رپورٹر) گلگت میں ایڈز سے متعلق سمینار سے خطاب کرتے ہوئے ناردن ایریا ایڈز کنٹرول کنشوریم کے سیکرٹیری جنرل اشتیاق احمد نے کہا ہے کہ سی پیک (CPEC) بلاشبہ سماجی و معاشی انقلاب کا ایک اہم ذریعہ ہے مگر اس پر عمل درآمد کے دوران حکومت اور تمام شراکت داروں (Stakeholders) کے لیے ضروری ہے کہ وہ گلگت بلتستان ایڈز سے بچاؤ کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ اس حوالے سے ناردرن ایریاز ایڈز کنٹرول کنشورشیم (نیک) گلگت بلتستان کے صدر اعجاز احمد خان نے ورلڈ ایڈز ڈے کے سلسلے میں گورنمنٹ ڈگری کالج برائے طلبا، گلگت میں ’’نیک‘‘ کی جانب سے طالب علموں کے لئے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اشتیاق احمد یاد کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد ڈیڈھ لاکھ کے قریب ہے جبکہ گلگت بلتستان میں بھی چار پانچ افراد ایڈز میں مبتلا ہو چکے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق ایک محتاط اندازے کے تحت گلگت بلتستان میں ایڈز کےمریضوں کی تعداد سینکڑوں میں ہو سکتی ہے۔ اشتیاق یاد نے مذید کہا کہ ایڈز کے پھیلنے کے اسباب میں بغیر ٹیسٹ انتقالِ خون کروانا، ڈسپوزبل سرنج کا استعمال نہ کرنا، آلودہ آلاتِ جرّاہی اور آلودہ ڈینٹل کے آلات کا استعمال کرنا، باربر شاپ میں آلودہ آلات کا استعمال کرنا اور اخلاقی برائیوں میں مبتلا ہونا شامل ہے۔ لہٰذا اِن معاملات میں مکمل احتیاط ایچ آئی وی ایڈز سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایڈز کے مریضوں کے ساتھ ناروا اور امتیازی سلوک روا رکھنے اور اُن کو بُرا بھلا کہنے سے اس مرض کے معاشرے میں بڑھنے کے امکانات بہت زیادہ بڑھ جاتے ہیں اس لیے ایسے مریضوں کے ساتھ اچھا سلوک رکھنا اور اُن کا خیال رکھنا ہم سب پر فرض ہے۔ انہوں نے پاکستان نیشنل ایڈز کنشورشیم (PNAC) اسلام آباد، نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام (NACP) اسلام آباد ، گلگت بلتستان ایڈز کنٹرول پروگرام اور UNAIDS اسلام آباد کی ایڈز کے روک تھام کے لیے کی جانی والی خدمات کو سراہا۔سیمینار میں سوشیالوجی کے لیکچرر اکبر خان نے خصوصی شرکت کی جبکہ طالبعلم یاسر حسین نے نوجوانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا