گلگت (نامہ نگار خصوصی ) گلگت میں عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام یوم مردہ بھارت کے نام سے جلسے کا انعقاد کیا گیا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے چیرمین عوامی ایکشن کمیٹی مولانا سلطان رئیس نے کہا کہ ہم انڈین میڈیا کی طرف سے گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کے تحریک کو منفی طور پر پیش کر نے کی شدیدمزمت کرتے ہیں اور ساتھ ہی ہز ہا ئنس پرنس کریم آغا خان کو سر زمین گلگت بلتستان پہ آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ اپنے خطاب میں اُنہوں نے کہا کہ حکومت وعدہ پورا کرے اور ٹیکسز کا خاتمہ کرے ورنہ اب مزید برداشت نہیں کرینگے۔ جلسے میں عوامی ایکشن کمیٹی کے دیگر عہدے داران نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم محب و طن پاکستانی ہیں ہمارا بچہ بھی جب ہو ش سنبھا لتا ہے تو پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگا تا ہے ہم نے 1947میں اپنا فیصلہ سنا دیاہے اور ہمارے آبا و اجداد نے نہتے ڈوگرہ کو سر حد پار کرا کر اپنی وفا داری کا ثبوت دیاہے ہمارے قبرستانوں پہ پاکستان زندہ باد کے نعرے اندراج ہیں ہمارے گھروں کے چھتوں پہ پاکستان کے پرچم لہرارہے ہیں ہم نے اپنے قانونی و آئینی حقوق کے لیئے ٹیکسز کے حوالے سے احتجاج کیا جس کو انڈیا کے چینلز نے منفی طور پر پیش کیا ہے جس کی بھر پور الفاظ میں مزمت کر تے ہیں اور ہم اپنی میڈیا سے گذارش کر تے ہیں کہ وہ عوام کے جا ئز حقوق کے حوالے سے ہو نے والی سر گرمیوں کو کوریج دیکر دشمن ملک کو موقع نہیں دے ۔ انہوں نے کہاکہ حفیظ الرحمن ٹیکسز کے افادیت اور فضا ئل بیان کر نے کے بجا ئے ٹیکسز خا تمے کے لیئے اقدام اٹھا ئے اور بر جیس طاہر نے سکردو میں جو بیان دیا ہے اس سے حکومت کے جھوٹ کھل کر عوا کے سامنے آچکا ہے ۔انہوں نے حکومت کو دس دسمبر کی ڈیڈ لا ئن دیتے ہو ئے کہا کہ ٹیکس ایڈاپٹیشن ایکٹ 2012کے منسو خی کے حوالے سے نو ٹیفیکشن نہیں کیا گیا تو 12دسمبر سے عوامی ایکشن کمیٹی حکومت کا بوری بسترہ گول کر دے گی اور اس مر تبہ ان کرپٹ حکمرانوں اور دشمن پاکستان حکمرانوں کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی ۔انہوں نے کہا کہ نرندر مو دی کا یار ان کا قائد نواز شریف ہے اور نواز شریف کے ہو تے ہو ئے کسی کو انڈیا کا ایجنٹ ہو نے کی ضرورت نہیں ہے ان حکمرانوں کے اندر ہی را کے ایجنٹ ہیں اور یہ پاکستان کی سالمیت کے خلاف کام کر رہے ہیں اور عوام کو اکسا کر سڑکوں پہ لانا چا ہتے ہیں لیکن عوامی ایکشن کمیٹی اپنے جا ئز مطا لبات کیلئے پہلے بھی کام کر تی رہی ہے اور آئندہ بھی عوامی حقوق کے حصول کے لیئے کام کرتی رہے گی ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا