گلگت(نمائندہ خصوصی) قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کپٹن ریٹائرڈ محمد شفیع خان نے کہا ہے کہ ٹیکس کے معاملے پر میرے بیان کو کچھ مقامی اخبارات نے اپنے سیاسی مقاصد کیلئے توڑ مڑوڑ پر پیش کیا جسکی میں مذمت کرتا ہوں اور صحافیوں سے گزارش کرتا ہوں کہ صحافتی اقدار کا خیال رکھا جائے،اُنہوں نے کہا کہ میں نے انکم ٹیکس آرڈینس میں گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے ترمیم اور وفاق اختیارات کی منتقلی کی بات کی تھی اور یہ موقف صرف میرا نہیں بلکہ اپوزیشن کے دیگر سات اراکین کا بھی ہے اور ہم نے حکومت کو بھی اس معاملے میں قائل کیا کیونکہ گلگت بلتستان کونسل کے ممبران کی کوئی حیثیت نہیں لہذا ہم چاہتے ہیں کہ عوامی منتخب نمائندے گلگت بلتستان کونسل اسلام آباد اور وفاق میں براہ راست عوامی مقدمہ لڑے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ میرا ہمیشہ سے موقف ہے کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا فیصلہ کئے بغیر اس خطے پر کسی بھی قسم کے ٹیکس کا نافذ ظلم ہے اور ہم اس قسم کے عوام دشمن پالیسوں کے خلاف ہمیشہ دیوار بن کر کھڑے رہے ہیں۔ وفاق کا اگر گلگت بلتستان کے عوام پر ٹیکس لگانے کا اتنا شوق ہے تو پہلے ہمارے وسائل کی رائلٹی دیں اس خطے کی قانونی اور آئینی شناخت کو واضح کریں اور اس قسم کے معاملات کا فیصلے کا حق گلگت بلتستان اسمبلی کو دیں۔ ورنہ گلگت بلتستان کا کوئی بھی ڈومسائل ہولڈر ٹیکس نہیں دے گا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا