کھرمنگ(نمائندہ خصوصی) مسلم لیگ نون کی حکومت ڈسٹرک ہیڈکوارٹر کھرمنگ کی تعین کیلئے ہمیشہ سے سازشوں کا شکار رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ ضلع کھرمنگ ہیڈکوارٹر کا تعین نہ ہونے سے اس وقت کھرمنگ مسائلستان بن بنا ہوا ہے۔ یہاں سرکاری منصوبے اور نوکریاں لسانی اور پارٹی بنیادوں پر تقسیم ہورہا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ڈسٹرک ہیدکوارٹر کھرمنگ کیلئے بنجر زمینوں کو معاوضہ دیئے بغیر ہتیانے کے فارمولے نے عوام ایک طرح اذییت میں مبتلا کیا ہوا ہے لیکن بے اختیار ممبران کے پاس اس حوالے سے کوئی حکمت عملی نہیں یہی وجہ ہے کہ ضلعی ہیڈکوارٹر کیلئے اب میدانی علاقوں کے بجائے عوام کے زیر استعمال کھیتوں کو استعمال کرنے کیلئے فارمولا تیار کیا جارہا ہے جس سے ضلع کھرمنگ کے عوام اگلے چند سالوں کے اندر اپنے ہی علاقے میں مہاجرین کی زندگی گزارنے پر مجبورہونگے۔ ذرائع کے مطابق آغا محمد علی شاہ (آغا فوکر) کی سربراہی میں ایک پرپوزل تیار کیا ہے جس میں ضلعی ہیڈکوارٹر کیلئے منٹھوکھا پل سے طولتی مرکون تک مارک کیا ہے یوں اب تمام ضلعی دفاتر ان علاقوں کے کھیتوں میں بئیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو ہیڈکوارٹر کا مسلہ مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ مسلسل سازشوں اور عوام پر اپنی مرضی مسلط کرنے کے بجائے گوہری سے ملحق میدان کیلئے جو نوٹفکیشن جاری ہوا ہے اُس پر عمل درآمد کریں اور متاثرین کو معاوضہ یقینی بنائیں۔
حکومت کی جانب سے خالصہ سرکار کی تعریف میں ناکامی کے بعد ضلعی ہیڈکوارٹر کھرمنگ کیلئے پلان (بی) کا انکشاف،عوامی حلقوں میں تشویش۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا