گلگت ( تحریر نیوز) عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے مطابق حقوق کی حصول اور خطے پر گلگت بلتستان کونسل کی ایماء پر وفاقی حکومت کی جانب سے نافذ کردہ غیرقانونی ٹیکسز کے خلاف گلگت بلتستان پھر میں پرُامن شٹرڈوان کا سلسلہ آج سے شروع ہوا ہے۔ ہڑتال کو ناکام بنانے کیلئے حکومت گلگت بلتستان کی جانب سے ہرقسم کے ہتکنڈے استعال کئے گئے یہاں تک کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے چیرمین مولانا سلطان رائیس کو براہ راست دھکمی بھی دی گئی۔ اس دھمکی آمیز پریس کانفرس نے گلگت بلتستان کے عوام کو اور ذیادہ متحد کردیا اور شٹرڈوان ہڑتال کو کامیاب بنانے کیلئے گلگت بلتستان لائزر فورم، سول سوسائٹی،فارمیسٹ ایسوشی، پولٹری ایسوس ایشن سمیت گلگت بلتستان بھر کے تمام تجارتی تنطیموں نے اپنے حقوق کیلئے عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کامیاب شٹرڈاون ہڑتال کا سلسلہ آج سے شروع کیا ہے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے چیرمین مولانا سلطان رئیس کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پُرامن احتجاج عوام کا حق ہے اور گلگت بلتستان کے عوام کو متنازعہ حیثیت کی بنیاد پر حقوق مانگنے کا قانونی اور آئینی حق آئین پاکستان اور اقوام متحدہ نے دیا ہوا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کا مطالبہ ہے کہ حکومت ہود ہولڈنگ ٹیکس سمیت تمام قسم کے ٹیکسز کو گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق ملنے تک مستقل طور پر کعلدم قرار دیں اور عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹرڈ آٖف ڈیمانڈ پر عمل کریں۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا