سکردو ( تحریر نیوز) سیاحت گلگت بلتستان کی معشیت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن سیاحت کیلئے سہولیات نہ ہونا گلگت بلتستان میں ایک سنگین مسلہ ہے یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کی فروغ کا مسلہ وسائل کی کمی اور حکومتی عدم توجہی کے ساتھ ساتھ محکمہ سیاحت میں من پسند افراد اور افسر شاہی کی وجہ سے سیاحت کے فوائد کم اور عوام کیلئے اس وجہ سے مسائل ذیادہ نظر آتا ہے۔ گلگت بلتستان میں محکمہ سیاحت آج بھی جہاں دور دراز علاقوں میں سیاحتی مواقع پیدا کرنے میں ناکام نظرآتا ہے وہیں بہت سے مقامات پر صفائی کا انتظام نہ ہونا ایک سنگین صورت حال اختیار کرچُکی ہے۔ پورے گلگت بلتستان کی سطح پر سیاحوں کی آمد اور جانے کے بعد سیاحوں کی جانب سے گندگی پھیلائے کا معاملہ فوری توجہ طلب ہے۔ اس سلسلے میں ای وی کے ٹو سی این آر گزشتہ کئی سالوں سے ماحولیاتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ پہاڑوں اور گلیشرز کی صفائی کا عمل بھی سر انجام دے رہا ہے۔ ای وی کے ٹو سی این آر نے مونکلیر Monclear کے تعاون سے اس سال کے ٹو بیس کیمپ، غورو ۲، کنکورڈیا، بروڈ پیک، اور بلتورو گلیشیر پہ صفائی کی مہم چلائی۔ اس عمل میں 3650 کلو انسانی فضلہ ، 2000 ٰٰ کلو کچرا اکھٹا کیا گیا جو کہ جون سے ستمبر تک ۴ ماہ تک جاری رہا۔ انسانی فضلہ داس کیمپ کے قریب دفنایا گیا۔ اسی طرح کچرا اسکولی لایا گیا جس کی چھان کر کے جلانے کے قابل حصے کو وہاں پہ لگی جدید مشین incineratorمیں جلایا گیا جبکہ باقی کچرا مناسب طریقے سے تلف کیا گیا۔ سی کے این پی کے سٹاف بھی اس مہم میں شامل رہے۔ اس طرح کی صفائی مہم سے پاکستان اور اس کے پہاڑوں اور گلیشرز کے حوالے سے ایک عمدہ تاثر پوری دنیا کو ملتا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ماحول کی آلودگی سے بھی بچا جا سکتا ہے، ۔ خاص طور پر انہی گلیشرز سے بہتا ہوا پانی پیا اور استعمال کیا جاتا ہے۔
حکومت کو چاہئے کہ چند ایک مقامات کے بجائے پورے گلگت بلتستان کی سطح پر صفائی کیلئے مہم جوئی کریں اور جہاں جہاں ٹورسٹ پوائنٹ ہیں وہاں ماحولیاتی آلودگی کو روکنے کیلئے ہدایتی بورڈ آوایزاں کریں اگر حکومت نے اس طرف توجہ نہیں دیا تو گلگت بلتستان میں سیاحوں کی آمد پر جہاں غریب عوام کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں وہیں ناقص صفائی کے انتظامات کی وجہ سے کئی قسم کے بیماریاں پھوٹ پڑھنے کا خدشہ بھی ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا