گلگت ( نمائندہ خصوصی) وفاق پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ گلگت بلتستان کو کسی قسم کی آئینی اور سیاسی حقوق دیئے بغیر ٹیکس نافذ کرنے اور حالیہ دنوں میں بنکوں کی جانب سے وڈ ہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی نے تاجر برادری اور عوام کو سوچنے پر مجبور کیا ہے۔ گزشتہ ہفتے وزیر اعظم پاکستان کی آمد کے موقع پر گلگت بلتستان کے عوام نے تمام تر حکومتی مکروفریب اور ہتکنڈوں کے باوجود شٹر ڈوان اور سکردو میں وزیر اعظم کا استقبال نہ کرکے واضح پیغام دیا تھا کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کو واضح کئے بغیر یہاں کسی بھی قسم کی ٹیکسز کے نفاذ کی صورت میں مزاحمت کیا جائے گا۔ موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے وزیر اعظم نے ودہولڈنگ ٹیکس معطل کرنے کا اعلان تو کیا لیکن تاحال نوٹفکیشن جاری نہیں ہوسکے۔ یوں انجمن تاجران گلگت بلتستان، انجمن تاجران سکردو، گلگت بلتستان پیٹرولیم ایشوسی ایشن اور گلگت بلتستان منرلز اینڈ مائنینگ ایسوسی ایشن نے عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے گلگت بلتستان تمام قسم کے ٹیکسز کو مکمل طور پر کعلدم قرار دینے تک پورے گلگت بلتستان کی سطح پر شٹردوان اور پہیہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں پورے گلگت بلتستان کی سطح پرجگہ بینرز لگنا شروع ہوگیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ گلگت بلتستان کی حکومت اس سلسلے عوامی نمائندگی کرتے ہیں یا ہمیشہ کی طرح غیر قانونی قوانین کی پاداش میں گرفتاریاں کرکے عوام میں اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں وقت آنے پر پتہ چلے گا۔ اس بار قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے بھی خلاف توقع شٹرڈوان ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا