سکردو( مہدی اکمل) ڈائریکٹر ایجوکیشن سکردو کارکردگی بہتر بنانے کے دعوے ڈھونگ ثابت ہوئی سرکاری سکولوں میں تعلیمی اصلاحات لانے کی بجائے محکمہ تعلیم آفس سکردو میں قابل سینئر استادوں سے کلرکل کام لیا جارہا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کسی کلرک کو رکھنے کے بجائے 2 ای ایس ٹی ٹیچرز کو ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن اپنی آفس میں بطور پی اے تعینات کر رکھا ہے جس کے سبب کئی سکولوں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہو رہا ہے سیاسی بنیادوں پر تجربہ کار ٹیچرز کو مختلف عہدے دے کر آفس میں بیٹھا رکھا ہے جو کہ تعلیم دشمن پالیسیوں کا تسلسل ہے ماضی میں بھی مذکورہ ادارہ کرپٹ مافیا کے نرغے میں رہی ہے اب بھی وہ اثرات موجود ہے ۔والدین کا کہنا ہے کہ قابل استادوں کو سکولوں سے نکال کر آفس میں بٹھائے رکھنا غریب بچوں سے زیادتی ہے ویسے بھی سرکاری سکولوں میں وہ بچے زیر تعلیم ہیں جو پرائیویٹ سکولوں میں بھاری فیس لینے کے سبب نہیں پڑھا سکتے ہیں سرکاری سکولوں کی کارکردگی حوصلہ افزا نہیں ہے سیکرٹری ایجوکیشن فوری نوٹس لے کر مذکورہ ٹیچرز کو واپس سکولوں میں بھیج دی جائے تاکہ قابل استادوں کی کمی پورا ہو سکے اور سرکاری ٹیچروں کے بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھنے پر پابند بنایا جائے تاکہ سرکاری سکولوں کو اپنی بچوں کے خاطر بھی معیار تعلیم کو بہتر بنانے پر مجبور ہو بصورت دیگر والدین راست اقدام لینے پر مجبور ہونگے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا