شگر(نمائندہ خصوصی)ہماری خواتین اور طالبات کسی سے کم نہیں اگر انہیں مواقع ملیں تو یہ ملک و قوم کا نام روشن کرنے کیلئے ہمیشہ میداں میں اول رہیں گے۔ہماری ملک کی ترقی میں مردوں کیساتھ خواتین ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔اور ملک کی ترقی میں بہتر کردار ادا کررہی ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ مسلم دنیا کی پہلی وزیر اعظم کا تعلق ہمارے ملک سے ہیں۔ آج ہماری خواتین پائلٹ ۔جج،وکیل،سائنسدان،ہر شعبے مین پیش پیش ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر شگر ولی خان، سابق صوبائی وزیر راجہ اعظم خان،ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن شگر نذیر شگری، پرنسپل نثار حسین،معرو ف سیاستدان و وکیل آمنہ انصاری،ثریا منی اور دیگر نے شگر میں بین اسکول تقریری اور پوسٹر مقابلے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔گرلز ہائیر سکینڈی سکول شگر میں خواتین کی حقوق اور عدم تشدد کی عنواں پر تقریری اور پوسٹر مقابلہ منعقد ہوا۔ جس میں شگر کے سکولوں کی طلباء و طالبات نے شرکت کی۔اس موقع پر بچیوں نے اپنے تقاریر مین معاشرے میں کواتین پر ہونے والی ظلم و ستم کیساتھ خواتین کی حقوق کی استحصالی پر تقریر پیش کیا۔اس موقع پر بچیوں نے اپنے تقاریر میں ملک کی ان خواتین کی زندگی کی پہلوؤں پر روشنی ڈالی جو پاکستان کی مختلف شعبہ زندگی میں خواتین کی حقوق کی جنگ لڑرہی ہے خصوصا ملالہ یوسف زئی،عاصمہ جہانگیر اور دیگر خواتین جنہوں نے خواتین کو ان کا جائز مقام دلانے کیلئے میدان میں اترا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا یہاں بھی خواتین کیساتھ استحصالی کا نظام اب بھی کسی صورت میں باقی ہے تاہم ہم خوش قسمت ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کا مقام بلند ہے ۔ تاہم خواتین کو فیصلہ سازی اور دیگر امور میں شامل کئے بغیر معاشرہ نامکمل ہے۔یہاں کی کواتین معاشرے کی خوف سے اپنے اوپر ہونے والی زیادتیوں کو ریکارڈ میں نہیں لاتے جس کی وجہ سے مجرموں کی حوصلہ افزائی ہورہے ہیں۔انہوں نے خواتین پر زور دیا کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی مظالم اور زیادتیوں کو سامنے لائے۔ تاکہ مجرموں کو عبرت ناک سزاء مل سکیں۔مقریین نے اس خوبصورت مقابلے کی انعقاد پر الشہاز ویمن آرگنائزیشن شگر،US-Aid کے پرجیکٹ سیگاف کا شکریہ ادا کیا کہ اس طرح کی ایونٹ سے سکولوں میں پڑھنے والے بچیوں کی حوصلہ افزائی اور اعتماد سازی کو فروغ ملے گا۔تقریری مقابلے میں منیبہ ہائیرسکینڈری سکول نے اول،شریفہ نے دوسری اور نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ جبکہ سید طیب نے اول نورین فاطمہ سکینڈ اور شازیہ بتول نے تیسری کومل چوتھی پوزیشن حاصل کی۔جنہیں بالترتیب پانچ ہزار،چار ہزار اور تین ہزار روپے کیش انعام دیا گیا۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا