سکردو(پ ر) گلگت بلتستان کے تینوں ڈویژن میں وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن اور چیف سیکریٹری ڈاکٹر کاظم نیازکی ہدایت پر محکمہ سیاحت و ثقافت کی جانب سے منعقد ہونے والی پہلی عالمی محفل قرأ ت کی تقاریب سکردو میں اختتام پذیر ہو گئیں ۔ اس سلسلے میں آخری روز سکردو میں نیو یاد گار شہداء کے مقام پر عوام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی اور مصر سے آئے ہوئے مہمان قراء کا شایان شان استقبال کیا۔ تقریب میں سینئر وزیر حاجی اکبر تابان، صوبائی وزیر تعلیم حاجی محمد ابراہیم ثنائی ، ممبر جی بی کونسل وچئیر مین اسٹینڈنگ کمیٹی اشرف صداء ، ممبر جی بی کونسل وزیر اخلاق، سیکریٹری اطلاعات گلگت بلتستان فدا حسین، سینئر آفیسران کے ساتھ ساتھ جید علمائے کرام نے خصوصی طور پر شرکت کی ۔ اس موقع پر عوا م کی ایک کثیر تعداد کلام پاک سننے کے لیئے موجودتھی۔محفل میں شرکت کے لیئے خصوصی طور پر مصر سے نامور قراء حضرات کو مدعو کیا گیا تھا، جن میں فضیلتہ الشیخ ڈاکٹر القاری ایمن عیسی حطیبہ المصری،فضیلتہ الشیخ ڈاکٹر القاری عادل البازی المصری اور فضیلتہ الشیخ ڈاکٹر القاری عبدلغفار المکاوی المصری شامل تھے۔ ان قراء حضرات نے نہایت خوش الحانی کے ساتھ تلاوت کرکے سامعین کے دل موہ لیئے۔ شرکاء ہر آیت قرانی پر قراء کو داد و تحسین دیتے رہے۔ سکردو میں ہونے والی تقریب اتوار کی دوپہر دو بجے شروع ہوئی۔ اس بابرکت محفل میں کلام پاک سننے کے لیئے سکولوں کے بچوں کی ایک کثیر تعداد نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی ،جواس بابرکت اور روح پرور نشست تقریب میں انہماک سے تلاوت کلام پاک سنتے رہے۔ سکردو میں ہونے والی تقریب کے لیئے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ سیاحت گلگت بلتستان کی جانب سے بھرپور اور مکمل انتظامات کیئے گئے تھے۔ حاضرین کے بیٹھنے کے لیئے فرشی نشستوں کا بندبست کیا گیا تھا۔ اس موقع پر سیکیورٹی کا فول پرو ف انتظام بھی کیا گیا تھا۔ پروگرام میں شرکت کیلئے انتظامیہ کی جانب سے دعوت عام دی گئی تھی اور تقریب میں تمام مکاتب فکر کے لوگ شریک ہوئے اور اس بابرکت محفل میں شرکت کی سعادت حاصل کی ۔ تقریب کے آخر میں مہمان قراء کو علاقے کے روایتی تحائف بھی پیش کیئے گئے، اس موقع پر سینیئر وزیر حاجی اکبر تابان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں قرآن شریف کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے کیونکہ کلام پاک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاشرے کے ہر فرد کو دینی تعلیمات پر یکسوئی سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ہم دونوں جہاں میں سرخرو ہو سکیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا