سکردو(پ،ر) پیپلز پارٹی میڈیا سیل بلتستان ڈویژن کے انچارج طالب حسین اور ڈپٹی انچارج قیصر علی شاہد نے کہا ہے کہ خالصہ سرکار جیسے بنیادی اور اہم ترین معاملے کو وزیر اعظم کے سامنے پیش نہ کر کے صوبائی حکومت نے ثابت کیا کہ وہ قبضہ گروپ ہے۔جس شخص کو اسمبلی کا گیٹ کیپر ہونا چاہئے تھا اسکا ڈپٹی سپیکر ہونا اسمبلی کے معیار پر سوالیہ نشان ہے۔کونسل کے ممبران نے چارٹر آف ڈیمانڈ کے بجائے کاسہ گداگر لے کر بھکاریوں کی طرح ٹیکس سے چھوٹ مانگ کر گلگت بلتستان کے عوام کی توہین کی حالانکہ گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کی وجہ سے ٹیکس لاگو نہیں ہوتا اور اسی نقطے کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹیکس کے خاتمے کا مطالبہ کرنا چاہئے تھا۔اپنے لئے گاڑیوں کی مانگ اور بیرون ملک دوروں کے مطالبات سے ممبران کونسل کے عزائم اور اقتدار کا لالچ کھل کر سامنے آیا ہے۔سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی بیوروکریسی کی آشیرباد حاصل کرنے میں مگن جبکہ ڈپٹی سپیکر پہلے گالیاں دے کر پھر ان سے معافی مانگتے ہیں۔ڈپٹی سپیکر کے سکردو روڈ کے حوالے سے خیالات انکی بدنیتی اور ذہنی پستی کا آئینہ دار ہیں۔وزیر اعظم کا عدم استقبال اور مکمل شٹر ڈاون ہڑتال گلگت بلتستان کے عوام کے اس اجتماعی شعور کا ثبوت ہے جو پیپلز پارٹی کے صدر امجد ایڈوکیٹ نے حق ملکیت اور حق حاکمیت تحریک کے ذریعے دیا ہے۔یہ واقعات صوبائی حکومت کے اعصاب پر بجلی بن کر گرے ہیں۔جس سے تلملا کر اوٹ پٹانگ حرکتیں کی جا رہی ہیں۔گلگت بلتستان کے عوام کے اتفاق و اتحاد اور سیاسی بلوغت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ نااہل وفاقی اور صوبائی حکومت کو بری طرح سے مسترد کر دیا۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا