نگر ( اقبال راجوا) ضلع نگر کا قیام کے اڑھائی برس مکمل لیکن ابھی تک ایک ضلع کے تمام سرکاری ادارے نامکمل ،حد تو یہ ہے کہ محکمہ صحت جیسے اہم ترین منصوبے کے ضلعی سربراہی اور ڈپٹی کمشنر نگر کی زمہ داریان ہمسایہ ضلع ہنزہ کے ضلعی اداروں کے سربراہان کے حوالے کیا گیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ نگری عوام کے ساتھ اس طرح کا امتیازی سلوک کیوں روا رکھا جاتا ہے ۔ خواہ مخواہ ضلع نگر کی عوام کو دیگر اضلاع پر جانے کے لئے مجبور کیوں کیا جاتا ہے ۔ ضلع کو قائم ہوئے اڑھائی برس مکمل ہو چکے ہیں لیکن اتنی مدت میں تمام دفاتر کا قائم نہ ہونا کیا کسی ظلم و نا انصافی نہیں ہے ۔ عوام جب ایک مسئلے کو لیکر احتجاج کرتی ہے تو احتجاج کو خاموش کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی ایک دفتر قائم کیا جاتا ہے یا کوئی حیلہ بہانے سے خاموش کرایا جاتا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر کے تبادلے کے کے فوری بعد سینیارٹی کا بہانہ بنا کر ڈپٹی کمشنر نگر کے اختیارات ڈی سی ہنزہ کو منتقل کئے گئے جبکہ یہ اختیارات اسسٹنٹ کمشنر نگر کو ہی تفویض کئے جاتے تو کون سے مسائل پید اہوجاتے ۔ اب جب ضلع ہنزہ سے ضلع نگر الگ ہو چکا ہے تو تو پھر بار بار عوام نگر اور ضلع نگر کے ضلعی ٓآفیسران کو ضلع نگر کے ضلعی آفیسران کے ماتحت کیا جانا نہایت افسوس کا مقام اور ناانصافی ہے ۔ دو الگ الگ اضلاع کے لئے حکومت اگر مکمل سیٹ اپ نہیں دے سکتی ہے تو پھر اضلاع بنانے کے دعوے کس لئے کرتی ہے ۔ ہنزہ اور نگر کے عوام کو دو انتظامی حدود میں تقسیم کرنے کے بعد عوام کو تمام حقوق فراہم کس لئے نہیں کیا جارہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف صوبائی حکومت ضلع نگر کی قیام کا کریڈٹ لیتے نہیں تکھتی تو دوسری طرف ڈپٹی کمشنر کے تبادلے کا آج دوسرا ہفتہ ہے نہ تو کسی کو ڈپٹی کمشنر تعینات کر رہی ہے اور نہ ہی اسسٹنٹ کمشنر نگر کو قائم مقام ڈپٹی کمشنر کے اختیارات تفویض کر چکی ہے ۔ بلا ضرورت اور بلاوجہ دپٹی کمشنر ہنزہ کو ضلع نگر کا بھی چارج دینا عوام نگر کے ساتھ ایک بھیانک مذاق اور سوتیلی ماں جیسا سلوک ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ہم احتجاج کریں گے تو فوری طور پر نگر قوم کو جنگجو قوم ہونے کا طعنہ دیا جائے گا لیکن اگر اپنے حقوق کے لئے خاموش رہیں تو حکومت نگر قوم کے ساتھ نا انصافی پر مبنی سلوک جاری رکھے گی۔ چیف سیکریٹری محمد کاظم نیاز اور سیکریٹری داخلہ سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ضلع نگر کے عوامی مسائل کے حل کے لئے مکمل ضلعی سیٹ اپ دیا جائے اور ضلع نگر کے ضلعی آفیسران کا تبادلہ یا وقتی رخصتی عمل میں لایا جائے تو ضلع نگر میں تعینات آفیسران کو ہی زمہ داریاں سونپ دی جائیں تا کہ عوام کو اپنے ضلع میں مسائل کے حل کے لئے آفیسر دستیاب ہو،دیگر اضلاع میں نگر کے عوام کے ساتھ بے شمار مسائل درپیش آتے ہیں۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا