مادر وطن گلگت بلتستان کے باشندوں کے بنیادی انسانی حقوق کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن قارئین کی توجہ آج چند چیدہ مسائل کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں ۔اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ تعلیم ہی ترقی اور خوشحالی کی کنجی ہے ہمارا دین بھی ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہیے لیکن جدید دور کا تقاضا یہ ہے کہ تعلیم کے حصول کیلئے اچھے اور جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق تعلیمی ادارے ہر جگہ بنائے جائیں جہاں بچے بلاتفریق زیور تعلیم سے آراستہ ہوسکیں، بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں اعلیٰ تعلیمی درسگاہ نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے طلبہ وطالبات ملک کے دوسرے علاقوں میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے جانے پر مجبور ہیں گویا حصول علم ان کیلئے ایک مسئلہ بن گیا ہے جس کیلئے انھیں ہر قسم کی ذہنی ،جسمانی اور مالی مسائل اور تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ حصول علم کا مسئلہ ایک طرف یہاں پر تو انسانوں کیلئے صحت کی بنیادی سہولت بھی میسر نہیں گلگت بلتستان میں جدید سہولیات سے آراستہ ہسپتال نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے باسی مشکلات سے دو چار ہیں ستم ظریفی یہ کہ جب ایک مریض کو جی بی سے لے کر اسلام آباد آتے ہیں تو راستے میں سفری سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہ اپنی زندگی کو مزید جینے سے زیادہ موت کو ترجیح دیتے ہیں متعدد واقعات ایسے ہیں کہ مریض راستے میں ہی دم توڑ دیتے ہیں ۔بنیادی انسانی حقوق سے یعنی گلگت بلتستان کے عوام مکمل محروم ہیں معیاری خوارک کی عدم دستیابی یہاں کے عوام کا ایک گھمبیر مسئلہ ہے محکمہ خوراک کی غفلت کی وجہ سے مضر اشیاء جن کی خرید وفروخت پر دوسرے شہروں میں پابندی لگائی جاتی ہیں وہ گلگت بلتستان میں جا کر بآسانی فروخت کرتے ہیں جن کی وجہ مختلف قسم کی بیماریاں جنم لیتی ہیں اور یہاں کے معصوم لوگ بے موت مر جاتے ہیں یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے خواب خرگوش سو رہے ہیں ۔
جس مسئلہ کی زد میں آج کل تقریبا ہر نوجوان ہے وہ ہے روزگار کا اعلی تعلیم
یافتہ نوجوان اور ہنر مند نوجوان آج کل بے روزگاری کی وجہ سے در بدر ہو رہے ہیں اور اس مہنگائی کے دور میں زندگی گزارنا گویا ان کے لئے اک بڑا چیلنج بن چکا ہے پڑھے لکھے اور ہنر مند نوجوان اپنے ملک میں روزگار نہ ملنے کے باعث دیگر ممالک میں اپنی تعلیم کی نسبت بہت چھوٹی اور مشقت والی نوکری کرنے پر مجبور ہیں ۔
گلگت بلتستان کے ہر ذی شعور شخص سے اپیل ہے کہ جن حقوق اور مسائل کی نشاندہی کرائی ہیں ان پر اپنی گوناگوں مصروفیات سے وقت نکال کر ذرا سوچیں بالخصوص طلباء جو ملک کے مختلف جامعات میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اپنے آپ سے سوال کریں اور ان سب محرومیوں کی وجہ تلاش کریں،
جب تک ہم ان حقوق کے بارے میں غور وفکر نہیں کریں گے اور ان پر گفتگو،مکالمہ، نہیں کریں گے اس وقت تک ہم ان سے محروم رہیں گے کیونکہ دنیا میں وہی قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کو بالا طاق رکھ کر اپنے حقوق کے لیے جہد و جہد کرتی ہیں، اسی لئے شاعر کیا خوب فرماتے ہیں،
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی۔
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا۔
ازقلم اسد عادی چلاسی
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟