ھوشے گاؤں ۔۔۔۔ لٹل کریم کے بغیر اداس ہے

0 0

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گاؤں کی وہی ٹیڑھی میڑی گلیاں، مٹی سے لیپائی کئے گئے نیچی چھت والے بے ترتیب گھر، ہر طرف سبزہ و گل ، نیلا صاف آسمان اور مشہ بروم گلیشیر سے آتا ہوا پر شور دریا کا پانی سب وہی کا وہی تھا مگر آنکھیں کچھ اور ڈھونڈ رہی تھی، دل کسی اور سے ملنے کے لئے بے قرار تھا لیکن وہ تو منوں مٹی تلے جا سویا تھا۔
بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور
24 مئی کو ھوشے گاؤں پہنچا اور سیدھے جاکر لٹل کریم کے قبر پر حاضری دی، دل تسلیم نہیں کر پا رھا تھا کہ وہ مٹی تلے جا کر اب خاموش ہے۔ ابھی تو مشہ بروم کی لشکتی برفیں اسی طرح ہیں، ابھی تو غنڈوگورو کی تابناکی میں دم خم  باقی ہے کہ وہ مہم جو افراد کے لئے دعوت مبارزہ دے۔ ابھی تو لینگسا نالہ گئے شکاری اپنی اپنی جواں مردی کی کہانیاں بیان کرنے واپسی نہیں لوٹے۔ ابھی تو آپو غلام علی ھوشے
کی آواز  ڑگیانگ خلو گاتے گاتے مدھم نہیں ہوئی ہے اور تم لٹل کریم خاموش ہوگئے، مٹی کی رزق بن گئے۔
24 مئی کو صبح نو بجے کے قریب سید آصف کاظمی کی کال آئی کہ ھوشے چلنا ہے تو تیار ہو جاؤ۔ میں بسترے سے فورآ نکلا اور چہرے پر پانی کے چند چھپاکے مارے ، ہلکا ڈون جیکٹ جو لنڈے کی بہترین چھانٹی کا نتیجہ تھا اس کو ساتھ لیا اور روانگی ڈالی۔ شاہ صاحب سیلانی بندے ہیں اور ویسے بھی ان دنوں سیلانی کام یعنی ٹوارزم کا کام کر رہے ہیں اپنے کسی مشہ بروم بیس کیمپ تک  جانے والے گروپ کی پیشگی انتظام کے لئے ھوشے جارہے تھے۔ گول گاؤں میں جاکر اسی پرانے طرز والے ہوٹل میں کچھ نوش جاں کیا گو کہ کئی اور نئے ہوٹل کھل گئے ہیں جہاں چمچماتی کرسیاں اور میزیں ڈال دی گئیں ہیں لیکن اپنا دل تو اسی پرانے طرز کے ہوٹل میں اٹکا ہوا  ہے سو کسی اور طرف قدم بڑھانا ممکن نہیں تھا۔ وہاں سے نکلے تو سیدھا غواڑی چیری فارم میں جاکر دم لیا۔ شاہ جی نے بتایا کہ اس باغ میں دریائے شیوک کے کنارے کنارے  کاٹیج بن رہے ہیں تاکہ سیاحوں کو ٹھہرنے اور گردوپیش کے نظاروں سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملے۔ جا کر دیکھا تو بڑے باغ کے کنارے کنارے دریائے کی طرف کافی کمرے بن رہے تھے مگر ان کی فنیشنگ اور انٹیریئر پسند نہیں آیا۔ آج کل بلتستان میں ٹوارزم زوروں پر ہے لھذا ہر کوئی اس پر انوسمنٹ کرہا ہے مگر بدقسمتی سے کسی جامع پلاننگ اور ڈیزائننگ کے بغیر ، بس کمرے بنانا مقصود ہے۔ سائٹ کیا ہے اس پر کیا تھیم بنتا ہے اور  کوئی بھی تعمیر کس طرح انوائرمنٹ سے مطابقت رکھنی چاہئے اس سے کسی کو غرض نہیں۔
سیلنگ گئے تو وہاں ہمارے دوست نے فش فارم کے ساتھ ساتھ ایگلو سٹائل کے کمرے بنائے ہیں، جگہ بڑی خوب صورت ہے وہاں بھی ہم نے اپنی عادت سے مجبور مشوروں کے انبار لگائے کہ یہ جگہ خالی رکھو، فلاں فلاں ایگلو کو وہاں شفٹ کرو، تالاب کے ارد گرد یہ یہ کرو تاکہ visually لینڈ سکیپ آنکھوں کو تراوٹ بخشے۔ وہ شریف بندہ سر ہلاتا رہا پتہ نہیں اقرار کرتے ہلا رہا تھا یا ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال باہر کر رہا تھا۔ سیلنگ ، غورسے اور سرمو تینوں گاؤں کا ھوشے سلترو سے آنے والا دریا اور دریائے شیوک نے مل کر حصے بخیرے کر دیا ہے پانی کا جہاں جی چاھا  وہاں جا نکلتا ہے اور سینکڑوں کنال زمین پر دریائی پتھر اور بجری بچھا گیا ہے۔ خصوصاً غورسے گاؤں کو تو لمبی ایک لکیر بنا گیا ہے ، کسی دل جلے نے کیا خوب کہا ہے کہ غورسے کو کھڑا کیا جائے تو اس کا ایک  کنارہ آسمان کو سہارا دے سکتا ہے۔ سیلنگ گاؤں سی نکلتے ہی چھوٹی سے چڑھائی اور سڑک کے دو چار خم کے بعد جو منظر آپ پر کھلتا ہے وہ تو بیان سے باہر ہے۔
مچلو گاؤں کی مرکزی خانقاہ جو روایتی طرز تعمیر ٹھٹھیر کی بنی ہوئی ہے وہ دیو قامت انداز میں دیکھائی دیتی ہے اس کا کلس سورج کی روشنی سے چمک اٹھتا ہے۔ خانقاہ کے چاروں اطراف میں ڈھلوانی سطح پر بنے روایتی گھر ایسا لگتا ہے کہ کسی نے سلیقہ کے ساتھ کینوس پر رنگ برنگے خانے بنا دئے ہوں اور  پھر اسے لٹکا دیا ھو۔ جو کے کھیت اور خوبانی کے باغات کے بیچوں بیچ پیلے ڈنڈالین کے خودرو پھولوں کی قطاریں کہ قدرت نے ہر طرف پیلے رنگ کا برش پھیر دیا ھے۔ مچلو ٹاپ دو دن کی ٹریکنگ کے فاصلے پر ہے اور وہاں سے K2 ، مشہ بروم سمیت کئی اونچے پہاڑوں کا کیا خوب نظارہ دیکھنے کو ملتا ہے. مچلو کے بعد تلس ایک خوبصورت گاؤں جسے چند سال پہلے اونچائی سے آنے والے گلیشیر اور برف کے پانی نے کچھ خراب کردیا ہے تاہم گاؤں والوں کی بلند ہمتی کہ برفانی سیلاب کے لائے گئے پتھروں اور ملبے کو صاف کر کے کھیت کھلیان بنا رہے ہیں۔ مرضی گونڈ پھر بلے گونڈ دونوں گاؤں کے بیچوں بیچ سے بجلی گھر کی بڑی پائپ لائن ایسا لگ رہا ہے کہ ڈریگن کچھ دیر سستانے کے لئے رک گیا ہو ۔ بچے پائپوں سے جھول رہے ہیں۔ پھر کاندے، دریا کے دوسری طرف کھانے اور نغمہ ویلی۔ کھانے گاؤں کے ساتھ ھی قراقرم کے سیاہ، بھر بھرے پہاڑ  اچانک  اپنی جون بدلتے ہیں، کالے پہاڑ جن کے دامن میں ملبہ ہی ملبہ تھا کا سلسلہ ایکدم ختم ہو کر صاف ستھرے، عمودی اور نوکیلے پہاڑوں کی قطاریں دیکھائی دیتی ھے۔ صاف ایسی کہ چوٹی سے دامن تک کرسٹل کی طرح اور یہی Cones کا سلسلہ ھوشے سے ہوتا ہوا کندوس تک پھیلا ہوا ہے۔
ھوشے گاؤں جو وادی کے آخر میں واقع ہے کئی حوالوں سے منفرد اور مشہور ہے۔ ٹریکنگ کے حوالے سے دیکھیں تو یہی سے مشہ بروم اور غنڈوگورو کے راستے نکلتے ہیں۔ سارکسا نالہ،  چھوگو لنگسا نالہ،عالینگ نالہ، چھری نالہ، مشہ بروم نالہ ٹریکنگ اور شکار کے حوالے مقبول عام ہے۔ یہ سب اپنی جگہ لیکن ھوشے کے لوگ خاص الخاص ہیں۔ گاؤں کے باہر چنگرا یعنی چوپال میں اکثر بوڑھے دھوپ تاپتے رہتے ہیں۔ ان کے پاس بیٹھ کر ان کا حال چال پوچھنے پر پتہ چلتا ہے کہ جن کو ہم بوڑھے کھوسٹ سمجھ رہے تھے وہ تو کبھی مشہور پورٹر رہے ہیں یا ہائی پورٹر۔ کسی نے ۔۔۔ کے ساتھ ٹریکنگ کی ہے تو کوئی روہنالڈ میسنر کے ساتھ پہاڑوں کو ماپ چکا ہے. لٹل کریم تو اپنی جگہ روزی، غلام علی، حاجی روزی علی، ابراھیم زاہد، حاجی غلام رسول، محمد خان، حاجی جاوید  سب کے سب کوہ نوردی میں آبلہ پائی کرچکے ہیں اور درجنوں داستانیں ان کے سینوں میں دبی ہوئی ہیں۔اور پھر نئی پود میں سے حنیف کریم،  حسن جان، علی درانی، یوسف، علی امان، محمد بشیر،  حسین علی، ذاکر حسین، مشتاق احمد، حسن حر جیسے جواں ہمت نکلے ہیں۔حسن جان، علی درانی، یوسف، مشتاق احمد، حسن حر، یوسف میری ، علی امان ، حسین علی اور ذاکر حسین نے تو K2 بھی سر کرلیا ہے مگر مناسب کوریج اور حوصلہ افزائی نہیں ملنے کی وجہ سے مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔ جب ہم 24 مئی کو ھوشے پہنچے تو گاؤں میں اسماعیل سے پہلی ملاقات ہوئی، اسماعیل نہایت ہنس مکھ اور زندگی دل نوجوان ہے۔ انہوں نے لٹل کریم کی جائے مدفن تک رہنمائی کی دل عجب بوجھل سا رہا، بقا اور فنا کے وہی بنیادی مسائل  نے دل و دماغ میں اتھل پتھل مچا دی ، انسان ، کائنات اور قدرت کا رشتہ ، علت و معلول کا لامتناہی سلسلہ غرض کچھ بوجھ نہیں پائے، خیالات کو جھٹک دیا اور Refugio Hushe کی راہ لی۔
یہ ہوٹل جس کا نام سپین کی زبان سے لیا گیا ہے اور مطلب ہے پناہ گاہ۔ سپین کے مشہور کوہ پیما ۔۔۔۔۔ نے سربستال کے نام سے ھوشے کی فلاح و بہبود کے لئے تنظیم بنوائی اور اس ہوٹل کے لئے رقم فراہم کی۔ بنیادی مقصد یہ ہے کہ اس کی آمدن کو ھوشے گاؤں کی سماجی بہتری کے لئے خرچ کیا جائے۔ گاؤں کی منتخب کمٹی کے ہاتھوں میں اس کا انتظام و انصرام ہے اور آمدن سے فلاح و بہبود کا کام کیا جارہا ہے۔ اسماعیل اور خادم نے رات کے کھانے کا جو اہتمام کیا تھا اس کی لذت مدتوں رہے گی۔ دیسی گھی، مرزان، ژھپ کھور، کھوربا، تازہ تازہ سبز پتوں کی سبزی اور شوربہ، ہاں دھنیا ملائی گئی دھی۔ دل کہہ رہا تھا کہ کوئی شے واپس نہ جائے۔
لیکن سب سے قیمتی وقت آپو غلام علی کے ساتھ گزرا۔ ہوٹل میں پہنچتے ہی میں نے حسب عادت اسماعیل اور خادم سے ھوشے کی عمرانی تاریخ بر بات چیت کی تو کچھ چیزیں بتانے کے بعد دونوں نے کہا کہ ابھی آپو غلام علی کو بلاتے ہیں اسے تاریخ، لوگ گیت، شکار کی کہانیاں اور انگریزوں سے متعلق سب کچھ ازبر ہے۔ ہماری بے تابی دیکھ کر انھوں نے آپو غلام علی کو فورآ بلایا، دیکھا تو 65 سال سے زائد عمر کا ایک شخص جس کے بال سارے سلامت تھے مگر داڑھی اور سر کے بالوں میں چاندی غالب آگئی تھی زبردست مسکراہٹ لئے ہماری ٹیبل پر آگیا۔ سلام و دعا کے بعد جب بات چیت کا سلسلہ چل نکلا تو بس ہم سنتے رہے، سر دھنتے رہے اور وہ کانوں میں رس گھولتے رہے۔ آپو غلام علی ھوشے وادی کے ان ابتدائی افراد میں سے ہے جنہوں نے 1978 سے پورٹر اور ہائی پوٹر کا کام شروع کیا۔ ان کے اس حصے کی کہانی کسے دوسرے کالم میں۔ شام چھ بجے کے قریب آپو غلام علی تشریف لائے تھے اور رات باہ بجے ہم نے ان سے درخواست کی کہ وہ آرام کریں۔ کیسر کی اساطیری کہانی ہو یا ڑگیالوچو لوبزانگ کی، غوطہ  چو سنگھے کی راجگی کا قصہ یا گوری تھم کے تخت و تاج کی یبگو کے ہاتھوں بربادی ، محبت سے لبریز لوگ گیت ہوں یا شکار کے دلچسپ واقعات غرض آپو غلام علی نے کیا کیا نہ سنایا کہ ہم بس سکتے میں ہی رہ گئے۔ صبح چڑیوں کی چہکار کے ساتھ آنکھ کھلی تو کھڑکی سے باھر دیکھا کہ ہر طرف روپیلی دھوپ پھیل رہی ہے اور سامنے برف کی دوشالہ پہنے مشہ بروم پہاڑ  اپنے تمام تر رعنائیوں کے ساتھ صاف نیلے آسمان تلے اپنا جادو بکھیر رہی تھی نیز ہر طرف سکوت تھا صرف خاموشی چھائی ہوئی تھی اور ہم اسی خاموشی میں تحلیل ہوتے جا رہے تھے۔ لیکن اس بے پناہ قدرتی حسن کے باوجود ھوشے گاؤں کے در و دیوار اداس اداس لگ رہے تھے کیوں کہ لٹل کریم جو نہیں تھے

تحریر. عاشق فراز
۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website