ایک ظالمانہ استحصالی نظام اور ہمارا معاشرہ

0 0

قومی و بین الاقوامی سیاست کامیاب اس وقت ہوتی ہے جب یہ سیاست مضبوط معیشت کی بنیاد پر کی جائے۔ وطن عزیز پاکستان میں حال ہی میں جانے والی اور آنے والی دونوں حکومتوں سے سیاست اسی لیے نہیں سنبھالی گئی ہے اور نہ سنبھالی جا رہی ہے کیونکہ معیشت کی حالت دونوں کے لیے پنجہ آزما رہی ہے۔ عام آدمی کو سیاست سے نہیں معیشت سے دلچسپی ہوتی ہے ۔ اس لیے عام آدمی کے نزدیک ہر وہ حکومت ایک ناکام حکومت ہوتی ہے جو اس کی معاشی پریشانیوں کا مداوا نہ کر سکے۔

بدقسمتی سے پاکستان کی نام نہاد جمہوری پارٹیاں اشرافیہ کی بزنس انٹرپرائز ہیں۔ یہ پارٹیاں اشرافیہ کے گروہی مفادات کی پاسبانی کے لیے سیاست کرتی ہیں۔ عام آدمی کے لیے ان کے پلے کچھ نہیں ہوتا ہے۔ اگر ان پارٹیوں کو عام آدمی کی معیشت یا قومی معیشت سے دلچسپی ہوتی تو وہ اقتدار سے فراغت کے وقت کو معاشی منصوبندی میں صرف کر کے الیکشن کے وقت قوم کے سامنے اپنا معاشی ایجنڈا رکھتیں ۔ مگر ایسا نہ کبھی ہوا ہے اور نہ کبھی ہو گا۔

مجھے حیرت ان علمائے کرام پر ہوتی ہے جو حب جاہ میں ان اشرافیہ کے مفادات کی رکھوالی سیاسی پارٹیوں کے لیے شکاری کتے کا کام دے رہے ہیں۔ یہ لوگ قرآنی سیاست کے ذریعے مساوات پر مبنی معاشی نظام کے حامل سیاسی نظام کے قیام کے لیے تمام مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر سسکتی انسانیت کے لیے ایک آبرومندانہ و عادلانہ نظام متعارف کرانے کی بجائے بے شعور عوام کو حیض و نفاس ،وضو غسل ، نکاح و طلاق، متعہ و دائمی، حلالہ و مسیار ، آٹھ رکعات و بیس رکعات تراویح، توحید و شرک ،سنت و بدعت، مسنون و غیر مسنون جیسے لاینحل کلامی مسائل و مباحث میں الجھا کر سیاسی و معاشی طور پر ان کو جہالت میں رکھتے ہیں۔ پھر یہی غریب جاہل عوام معاشی مجبوریوں کے تحت خود کشی کرتے ہیں تو ان پر یہی علماء جہنمی ہونے کا فتویٰ عائد کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ پہلے ہی ایک جہنمی فضا میں سانس لے رہے ہوتے ہیں۔ جب آپ کا معاشی نظام ہی استحصالی اور ظالمانہ ہو وہاں بڑے سے بڑے موحد بھی قدم قدم پر شرک میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایک ظالمانہ استحصالی نظام میں کوئی بھی توحید پر قائم نہیں رہ سکتا ہے۔ معاشی مجبوریوں تلے اسے خدا کے در کو چھوڑ کر سینکڑوں استحصالی دروں پر سجدہ ریز ہونا پڑتا ہے۔ پھر قیامت کے دن اس کے شرک میں میں وہ نام نہاد علماء بھی شریک ٹھہرائے جائیں گے جنہوں نے عامہ الناس کو فروعی اختلافات میں ڈال کر استحصالی قوتوں کے ہتھے چڑھا کر خود ان استحصالی قوتوں سے مفادات بٹورتے رہے۔

شنید ہے کہ معاشی چیلنجرز سے گھبرا کر حکومتی اتحاد میں شامل جماعتیں جلدی الیکشن کی طرف جانے کے لیے face saving کے راستے تلاش کرنے لگ پڑی ہیں۔ ریجیم چینج کے سابقہ و حالیہ گناہاں بے لذت سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ مضبوط معیشت سے عاری سیاست ایک بے پیندا لوٹا ہوتی ہے۔

 

 

 تحریر حیدر یبگو

Happy
Happy
100 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website