۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روایتی طرز پر بنے آتش دان سے دھوئیں کے مرغولے آٹھ اٹھ کر نہ صرف چمنی سے نکل کر چھت میں بادل کی صورت اختیار کر رہے تھے بلکہ کمرے کو بھی گھیر رہے تھے۔ بیچ بیچ میں شہتوت کی لکڑی کے چٹکنے سے کوئی چنگاری اڑ کر سرخ لکیر سی بنا کر غائب ھو جاتی اور ملگجے اندھیرے میں سبز چائے سڑکنے کی آوازیں وقفے وقفے سے آتی رہتی تھی۔ پھر یکدم آتش دان میں آگ کا جھماکا سا ہو جاتا اور کمرے میں بیٹھے لوگوں کے چہرے اچانک روشن ہو جاتے کیونکہ آپو شکور نے شہتوت کی لکڑی کے کچھ ٹکڑے آگ میں پھینک دیے تھے۔ کاریول پیالوں میں ایک بار پھر سبز چائے بھر دیا جاتا جس میں باشہ شگر سے منگوایا گیا زومو کا گھی ملایا گیا تھا اور پھر وہیں سڑکنے کی آوازیں۔
یہ مختصر سا ہوٹل جو فقط دو دکانوں کو آپس میں ملا کر بنایا گیا ہے سکردو شہر کے مرکزی جگہ یادگار چوک کے ساتھ جنوب کی جانب اترائی میں گاڑیوں کے ورکشاپ اور بخاری بنانے والے کاریگروں کی بے ترتیب دکانوں کے اندر کہیں کونے میں واقع ہے۔ دن بھر اس اطراف میں بڑی گہما گہمی رہتی ہے ایک طرف تو کمانی بنانے والوں کی تڑ تڑ، پنکچر لگانے والوں اور بیٹری کے تیزاب بدلنے والوں کا شور رہتا ہے تو دوسری طرف ٹیوٹا گاڑیوں کے انجن، بورنگ اور خراد کے کام میں مشغول گریس اور موبلائل میں لتھڑے مستریوں اور ڈرائیوروں کی تو تکار اور پھر اورہال کئے انجنوں کی چیک کرنے کے دوران ٹر ٹر کی اونچی آوازیں۔
لیکن اس سب کے باوجود آپو شکور کے ہوٹل کا ماحول کسی اور زمان و مکاں میں وجود رکھتا ہے، یہاں لگتا ہے کہ وقت ٹھہرا ہوا ہے اور ایک دبیز گہری خاموشی نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہو۔
یہاں بلتستان کا روایتی سبز چائے ہر وقت تیار ملتا ہے اور خاص بات یہ ہے کہ چائے کو ایل پی جی اور کیروسین آئل کے چولہے کے بجائے لکڑی کے آتشدان میں پکایا اور تیار کیا جاتا تھا۔ سبز چائے مخصوص گول پیالے جنہیں یہاں کاریول کہا جاتا ہے اس میں پیش کیا جاتا ہے۔ کچھ سالن اور ترکاری بھی پکتا ہے مگر زیادہ تر چائے کے گاہک آتے ہیں۔ یہ سب آتشدان والے حصے میں ہوتا ہے۔ جبکہ دوسرے حصے میں فرشی بستروں کا انتظام ہے جہاں کھرمنگ، شگر، گلتری، خپلو اور روندو کے دوردراز گاؤں سے پینشن پانے والے بوڑھے اور چھوٹی چھوٹی دکانوں کے سودا سلف لینے والے آکر ٹھہرتے تھے۔ ہر مہینے کے پہلے ہفتے میں یہاں بڑی گہما گہمی ہوتی، ان کی اکثریت لنڈے کے کوٹ، واسکٹ، گول اونی ٹوپیاں( شنا سٹائل) ، دھاگے سے بندھے عینک پہنے اور سفید ریش کو سستا مھندی کلر میں رنگنے والوں پر مشتمل تھی۔ کوئی اپنے جوڑوں کے درد کا ذکر چھیڑتا تو کوئی اپنی مدھم ہوتی نظروں کی کہانی لے بیٹھتا۔ پرانے وقتوں کے دنوں کو خوشحالی سے تعبیر کرتے ،پانچ اور دس روپے میں ملنے والی سستی اشیاء کا تذکرہ کرکے آہیں بھرتے اور مجودہ مہنگائی پر خوب کڑھتے۔ آپو شکور جو خود ستر کے پیٹے میں تھا ایک پھرکی کی طرح کبھی کسی کو چائے تھماتا تو کسی کو وضو کے لئے لوٹے میں پانی ڈال کر رفع حاجت کی جگہ کی طرف رہنمائی کرتا۔ کوئی سر درد کی شکایت کرتا تو فوراً ٹین کے ڈبے سے تمبرک کا تھیلا نکالتا اور قہوہ بناکر پلا دیتا۔ اس دوران پرانے وقتوں میں مقامی جڑی بوٹیوں سے کئے جانے والے علاج کا تذکرہ چھیڑتا اور سب متفقہ طور پر موجودہ ایلوپیتھک دوائی کو محض پیسوں کا ضیاع قرار دیتے۔
آپو شکور کا تعلق خپلو سے تھا اور کہیں دور پار سے یبگو خاندان سے بھی رشتہ داری تھی۔ بہت کم عمری میں روزگار کے لئے سکردو آئے اور پھر یہیں کے ہو کر رہے۔ پہلے پہل چھوٹا سا چائے کا کھوکھا کھولا اور پھر سفید چاول، دال اور موٹا گوشت کا ترکاری بنانا شروع کیا۔ چھوٹی چھوٹی رکابیوں میں سالن روٹی اور پھر بعد میں سبز چائے یہی مینو سال بھر چلتا رہتا تھا۔ کم رقم سے چلنے والے کام کو ایک جگہ دوام کہاں ملتا، کبھی یادگار، کبھی بٹھو بازار اور کبھی ورکشاپ ایریا غرض جگہ بدلتی رہی لیکن اس کے مخصوص گاہک اس کے ساتھ ساتھ چلتے رہے یوں ایک فیملی کا سا رشتہ قائم ہو گیا تھا۔ آپو شکور کو سکردو کے تمام صاحب حثیت اور سیاسی و ادبی لوگوں سے ملنے کا اتفاق رہا کیونکہ آج سے بیس تیس سال پہلے کوئی بڑا ہوٹل تو تھا نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے کھوکھے اور ایک دو کمروں پر مشتمل رہائشی ہوٹل تھے جہاں پر ہر خاص و عام کا آنا معمول تھا. آپو شکور کا ہوٹل بھی ان میں سے ایک تھا اور یوں وہ ہر کسی کو جانتا تھا۔ اس کے ہوٹل میں ٹھہرنے والے اس کے لئے بہت عزیز تھے مگر دو بڑے خاص تھے ان میں سے ایک بشو تھور میگ (سلطان آباد) کا محمد حسین اور دوسرا ڑگیایول کا غلام محمد جو چیئرمین غلام محمد ٹر کے نام سے مشہور تھا۔
محمد حسین ایک ہنس مکھ اور سادہ دیہاتی آدمی تھا جوانی میں مضبوط اور گھٹہ دار رہا ہوگا مگر بڑھاپے اور بیماری نے جسم کو گھلا کر رکھ دیا تھا۔ زندگی کا زیادہ تر حصہ سخت محنت مزدوری پر گزری تھی اور کچھ حصہ ویٹرنری کے محکمہ میں چوکیداری کرتے صرف کیا۔ اب بشو سے بغیر سیٹ والی ٹیوٹا گاڑیوں میں جھٹکے کھاتے اور ہڈیوں کا درد سہتے سکردو آنا اس کی مجبوری تھی ماہانہ پنشن جو وصول کرنی تھی چند ہزار روپے ۔ دو لڑکے بڑے ہوتے ہی گلگت سدھار گئے تھے سب سے بڑا لڑکا پیدائشی گونگا تھا لہذا وہ گاؤں میں رہ گیا تھا اسکے بچے اب محمد حسین کی زندگی تھے اور ان سب کی دال روٹی اس کی پنشن سے جڑی ہوئی تھی۔
پنشن لینا بھی جوئے شیر سے کم نہیں تھی ایک ھفتہ پہلے سکردو آنا پڑتا اور اس کم پنشن پر سستی جگہ ہی ٹھہرنے کے لئے درکار تھی۔ایسے میں آپو شکور کا ہوٹل اور اس کی رفاقت کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں تھا۔ آپو نہ صرف محمد حسین بلکہ ان جیسے کئی اور بوڑھوں کا دم ساز اور ایک طرح سے خدمت گار تھا۔ وہ ان سب کا اپنے بچوں کی طرح خیال رکھتا، رات کو اٹھ اٹھ کر دیکھتا کہ رضائی تو نہیں سرک گئی ہے۔ بخاری میں لکڑی ڈالتا اور انہیں گرم گرم کھانا کھلاتا ان کے مسائل سنتا ، کندھا تھپ تھپاتا اور ہمت بڑھاتا کہ آنے والے دنوں میں سب کچھ اچھا ہوگا۔
محمد حسین کے چہرے میں ہر وقت مسکراہٹ رہتی تھی ، ستر سال کے تھے مگر بزلہ سنجی نہیں جاتی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر دیر تک ہنستا رہتا اور یوں زندگی سے جڑی محرومیوں اور معاشی تنگ دستی کو کچھ دیر کے لئے بھول جاتا۔ اس کا معمول تھا کہ جب بھی بشو سے پنشن لینے آتا تو آپو شکور کو سلام کرنے کے فورآ بعد حیدری مارکیٹ کا رخ کرتا۔ وہاں سے سرخ سرخ کلیجی خریدتا اور آپو شکور اس کلیجی کا کباب بنا کر دیتا۔ محمد حسین کے تقریباً سب دانت گر گئے تھے اور منہ پوپلا سا ہو گیا تھا مگر گوشت کھانے کی لت ابھی گئی نہیں تھی اس لئے گوشت کی جگہ نرم کلیجی بھون کر کھاتا۔ لیکن کچھ عرصے سے اس کلیجی مہم میں کوئی اور بھی شریک ہوا تھا اور وہ تھا بشارت ساقی جو آپو شکور کے ہوٹل میں دن کو کم از کم دو بار چکر ضرور لگاتا۔ یہیں پر ان کی محمد حسین اور غلام محمد ٹر سمیت کئی بڑے بوڑھوں سے دوستی ہوئی تھی اور ان سب سے بڑی بے تکلفی تھی۔ جب تینوں آپو شکور کے ہوٹل میں اکھٹے ہوتے تو دور دور تک ان کے قہقہوں کی آوازیں وقفے وقفے سے آتی اور قرب وجوار کے لوگوں کو پتہ چلتا کہ آج کورم مکمل ہوگیا ہے۔ محمد حسین سردی ہو یا گرمی قمیض کے اوپر دو بنیان پھر ایک بھاری کوٹ ہر وقت زیب تن کئے رہتا تھا۔ میں بھی بشارت کے ساتھ کبھی کبھی آپو شکور کے ہوٹل پہنچتا اور یوں میری بھی ان تینوں سے اچھی خاصی دوستی ہوگئی تھی۔ میں بھی کئی بار محمد حسین کی “کلیجہ پارٹی” میں شامل ہوا ۔ ہم یہ ہاتھ کرتے تھے کہ محمد حسین کو ماضی کے قصے کہانیوں میں الجھا کر چپکے سے کباب کی پلیٹ چٹ کر جاتے. اس واردات کا محمد حسین کو علم رہتا تھا مگر وہ عمدا لاعلمی ظاہر کرتا لیکن وہ ہماری چالاکی پر اندر اندر سے خوش ہوتا تھا۔
محمد حسین سے مجھے زیادہ لگاؤ اس وجہ سے بھی تھا کہ اسے پرانی کہانیاں، لوگ گیت اور بشو کی سماجی تاریخ کی بڑی معلومات تھیں۔ تین سال میں بڑی کوشش اور شد و مد کے باوجود اس سے کچھ ریکارڈ نہ کر پایا۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ میں نے کوئی کسر اٹھا رکھی ہو بلکہ وجہ یہ تھی کہ محمد حسین بھی دوسرے بوڑھوں کی طرح اس عمر میں لوک گیت، بھوت پریت کے قصے اور شلوک سنانا عار سمجھتا تھا۔ لھذا وہ مجھے روز چکمے دے جاتا، کبھی بیماری کا بہانہ، کبھی یاداشت کا عذر اور کبھی اپنے ان پڑھ ہونے کا سہارا یوں میں بمشکل کچھ معلومات اکٹھی کر سکا مگر تشنگی اسی طرح رہی۔ محمد حسین سے تعلق کا ایک اور پہلو یوں نکلا کہ اس نے جوانی میں ہمارے بزرگ حاجی محمد اکبر خان کے پاس کام کیا تھا اور بعد ازاں حاجی صاحب ہی کی کوششں سے ویٹرنری کے محکمہ میں ملازمت ملی تھی۔
آپو شکور کے ہوٹل میں تیسرے شخص کی انٹری بڑی دھواں دھار ہوتی تھی۔ سفید شینا سٹائل کی ٹوپی وہ بھی تھوڑی ترچھی، ڈبل بلیزر کا کوٹ گو کہ لنڈے کا تھا، صاف اجلے کپڑے جن کا رنگ کب کا اڑ چکا تھا اور پاؤں میں چپلی۔ عمر ان کے اپنے مطابق نوے سال سے زائد مگر یہ مغالطہ لگتا تھا ، چھوٹی چھوٹی آنکھیں ، چہرہ تبتی اور پتلی سفید داڑھی ، غلام محمد ٹر کا تعلق ڑگیایول سے تھا۔ اس کے ہوٹل میں داخل ہونے کا انداز نرالا تھا، ہوٹل کے دروازے کے قریب گلی میں پہنچتے ہی “لے آپو شکور” کی آواز نکالتا اور سب کو خبر ہو جاتا تھا کہ چیرمین پہنچ گیا ھے۔ غلام محمد ٹر سیدھے ہوٹل میں داخل نہیں ہوتا بلکہ دروازہ کھول کر ایک پاؤں اندر رکھنے کے بعد سب کو طائرانہ نظر سے دیکھتا اور ایک شان استغنا سے لباس سنبھالے کچھ لمحےخاموش کھڑا رہتا تھا اور پھر اپنی پسند کی جگہ میں جا کر فروکش ہوتا۔
غلام محمد کی زندگی بھی بڑی دلچسپ تھی وہ سکردو کے قدیم گاؤں ڑگیایول سے تھا اور روز اول سے انہیں لیڈری کا شوق تھا چاہے وہ محلہ کی سطح کی کیوں نہ ہو۔ کوئی کہے نہ کہے محلہ کا کوئی مسلئہ خواہ سکول کا ہو یا پینے کے صاف پانی کا، بجلی کا ہو یا گندم کی فراہمی کا ، ڈسپنسری میں دوائی کی کم یابی کا مسلئہ ہو یا دایہ کی تعنیاتی کا غلام محمد ٹر درخواستوں کی فائل بغل میں دبائے متعلقہ افسر کے پاس حاضر ہوتا۔ وہ شستہ اردو میں علاقے کی فریاد صاحبان جاہ و حشم کے حضور پیش کرتا۔ اس لئے وہ چیرمین کے نام سے مشہور تھا۔
لیکن جس دوران ہماری ان سے آپو شکور کے ہوٹل میں ملاقات ہوئی اور تعلق بنا تو اس وقت بڑھاپے نے غلام محمد کے کس بل نکال دیا تھا تاہم آواز اور انداز میں وہی پرانا طنطنہ موجود تھا۔ بشارت ساقی اس کی دکھتی رگ کو چھیڑ دیتا اور ملکی سیاست میں زوال پذیری کا المیہ سامنے رکھتا پھر غلام محمد ٹر رکتا کہاں۔ سیدھا کھڑا ہو جاتا اور ٹرانس کی حالت میں حکمرانوں کے نام لے لے کر نصیحتوں کے انبار لگا دیتا۔ وہ زور زور سے چلا کر کہتا سنو مشرف، سنو نواز شریف، سنو زرداری اور سنو عمران خان یہ ملک ایسے نہیں چلے گا اوپر مشیروں اور وزیروں کی مت سنو عوام میں آجاؤ اور سچ دیکھ اور سن لو کہ عوام کا کیا حال ہے۔ پھر وہ جذب کی کیفیت میں آکر کہتا کہ میرے پاس آجاؤ میں بتا دوں گا کہ کیا کرنا ہے۔ غلام محمد کو کیا خبر تھی کہ ان حکمرانوں کے کانوں میں چربی بھر گئی ہے اور وہ عام آدمی کی آواز کہاں سن پاتے ہیں۔
ہوٹل میں موجود سب لوگ پہلے پہل تو حیرت سے غلام محمد ٹر کو سنتے اور پھر قہقہے لگاتے لیکن اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کون ہنستا ہے اور کون سن رہا ہے۔ وہ خلا میں انگلیاں لہراتے ہوئے قصہ درد سناتے جاتا اور فرط جذبات سے اس کی تبتی سٹائل کی آنکھیں سکڑ کر اور چھوٹی ہوجاتی۔
بشارت ساقی کے پاس اس کی کئی ویڈیو کلپس موجود ہیں جن میں غلام محمد ٹر دنیا و مافیہا سے بے خبر عام آدمی کا دکھ اپنے خاص انداز میں پیش کر رہا ہے۔ نہ جانے اس بات میں کتنی صداقت ہے کہ وہ بار بار بتایا کرتا تھا کہ 1948 میں سکردو آزاد ہونے کے بعد جب ڈوگرہ قیدیوں کو لاھور کے ذریعے واپس بھیجنے کا مرحلہ آیا تو وہ بھی ان میں سے کچھ قیدیوں کو لے جانے والی ایک ٹیم میں موجود تھا۔ بڑھاپے کے باوجود دل میں ہلچل اب بھی باقی تھی اور کبھی کبھار ساقی کے اکسانے پر ٹوپی ترچھی کرکے اپنی بلغمی ترنم میں یہ گیت گاتا تھا۔
یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے
غلام محمد ٹر کی ایک جذباتی تصویر مشہور بلاگر اور ٹریولر Remo Bellaroma نے سوشل میڈیا میں ڈال دیا ہے۔ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بلاگر جب 2020 میں سکردو آئی تو اتفاقاً یادگار چوک میں ایک سبزی کی دکان کے پاس ان کی غلام محمد ٹر سے ملاقات ہوئی۔ سیلفی لی گئی اور کیا سیلفی ہے کہ حسینہ افرنگ کے کتابی چہرے پر غلام محمد ٹر کا جھریوں سے بھرا چہرہ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ کی مانند جڑا ہوا ہے۔
آپو شکور، محمد حسین بشو اور پھر غلام محمد ٹر 2021 میں دو دو ماہ کے وقفے سے اس جہان رنگ و بو سے اس لامتناہی منزل کی طرف کوچ کر گئے جہاں سے کوئی کبھی واپس لوٹ کر نہیں آتا۔
تحریر عاشق فراز
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟