سکردو کے عوامی مسائل جلد حل کیا جائے سول سوسائٹی سکردو کے مقررین کا یادگار شہداء پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب

0 0

ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے کیا جلوہ دکھایا کہ اب پوری دنیا ایک مختصر سے موبائل اور انٹرنیٹ کنکشن پر سمٹ آئی ھے۔ گوگل کے ذریعے دنیا کی کسی بھی شے کے بارے میں معلوم کرنا ھو تو بس ایک کلک کریں اور پھر سر کھجاتے رہیں کہ کیا کیا دیکھیں۔ ویکیپیڈیا پر کسی مضمون کا نام ٹائپ کریں اور انگلی دانتوں تلے دبائیں کہ کیا کیا کام اس جادو کی زنبیل سے نکلتا ہے۔ کوئی ڈاکیومنٹری دیکھنا ھو یا انٹرٹینمنٹ کی دنیا میں جانا ھو تو یو ٹیوب کی فسوں کاری سے آپ ایک جہاں حیرت میں چلے جائیں گے۔ کیا تاریخ کیا سائنس کوئی موضوع ایسا نہیں جو اس کے احاطے سے باھر ھو۔ فقہ سمجھنا ھے یا تفہیم دیں، فلسفہ کی گھتیاں سلجھانا ھو یا عبقری معاملات سے جانکاری غرض ایک برق رفتاری سے علوم کے خزانے آپ کو خیرہ کرتے چلے جاتے ہیں۔ اب تو ڈیجیٹل لائبریریوں کی ایک وسیع رینج تشنگان علم کے لئے خزانے لٹانے کو بے قرار ہے۔ ان لائن کلاسیں لینی ھو ، یا زوم پر روزمرہ کی میٹنگز بس لمحوں کی دیر ہے۔ ڈیجیٹل کتابوں کے علاؤہ اب تو اھم اھم کتابیں آڈیو شکل میں بھی موجود ہیں بس ایک ننھا منا سا ہیڈ فون کان میں ٹھونسیں اور آنکھیں بند کر کے آڈیو میں کتابیں پڑھیں بلکہ درست معنی میں سنیں۔ اگر آپ کچھ شوخ سے ہیں تو پھر ٹک ٹاک ، سنیپ ویڈیو،Reel وغیرہ پر جائیں اور زندگی کے مختلف رنگوں کا حظ اٹھائیں۔
لیکن ان سب کے باوجود لائبریری کی کشش اور جاذبیت کم نہیں ہو پارہی ہے۔ زمانہ طالبعلمی میں سکردو کالج کی لائبریری سے لیکر میونسپل لائبریری سکردو ، بڈلف لائبریری گلگت اور پھر اسلام آباد اور لاھورمیں برٹش لائبریری، امریکن لائبریری، لیاقت باغ لائبریری راولپنڈی، نیشنل لائبریری اسلام آباد ، ڈاکٹر احمد حسن دانی لائبریری قائد اعظم یونیورسٹی، پنجاب لائبریری لاھور، لاھور میوزیم لائبریری غرض جس کا سنا وہاں حاضری دی۔ گلگت کی بڈلف لائبریری میں جب تک شیر باز برچہ صاحب تھے تو جب بھی گلگت پہنچے ان کے پاس حاضری لازمی تھی۔ ان کی طرح نفیس، حلیم اور صاحب علم کم لوگوں کو دیکھا۔
لائبریری کا شوق اب بھی جوان ھے لھذا گاہے بگاہے
اب بھی میونسپل لائبریری سکردو میں جانے کا اتفاق رہتا ہے لیکن اب ایک اور مشکل آن پڑی ہے۔ پچھلی سردیوں میں اور اب کے بھی کئی بار میونسپل لائبریری سکردو جانے کا موقع ملا مگر صرف حسرت سے در و دیوار دیکھ کر واپس لوٹنا پڑا وجہ یہ رہی کہ لائبریری کے اکلوتے کمرے کی محدود نشستوں پر آٹھویں سے لے کر میٹرک  ایف اے کے طلبا کا قبضہ رہتا ہے۔ یہ طلباء لائبریری کھلنے سے کئی گھنٹے پہلے پہنچ جاتے ہیں اور مرکزی دروازہ اور برآمدے میں دھرنے کی شکل میں بیٹھے رہتے ہیں اور جونہی قفل کھلتا ہے کمرے کو اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں۔ گو کہ یہ ایک صحت مندانہ رحجان ھے مگر ہمارا اپنا مشاہدہ ہے کہ یہ تمام بچے لائبریری کی کسی کتاب کو ہاتھ نہیں لگاتے اور نہ ہی کوئی ریفرنس بکس کا استعمال کرتے ہیں۔  بلکہ تمام کے تمام اپنی اپنی کلاسوں کے نوٹس لے کر آتے ہیں اور اسی کی ریڈنگ کرتے رہتے ہیں۔ پچھلےکچھ علم دوست ڈپٹی کمشنرز  نے لائبریری میں کتابوں کا اضافہ کیا اور اب موجودہ اسسٹنٹ کمشنر وقاص جوہر بڑی دلچسپی لے رہے ہیں ۔کافی سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور نظام الاوقات میں اضافہ کر کے رات گیارہ بجے تک لائبریری کھلی رکھی جارہی ہے۔  سننا ہے کی موبائل لائبریری بھی چلائی جارہی ہے۔ لھذا ارباب اختیار سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ طلبا کے “کورس ریڈنگ” کے لئے مختص ایک علحیدہ کمرہ تعمیر کروائیں تاکہ لائبریری سے مستفید ہونے والے دیگر احباب کو بھی بیٹھنے کی جگہ ملے۔ کمرہ بننے تک ان طلباء کے لئے ساتھ متصل پریس کلب سکردو کا ہال بھی باہمی گفت و شنید سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔
خیر بات کہیں اور طرف نکل گئی۔
میونسپل لائبریری اول اول تو نیا بازار  کے اطراف میں کسی دکان کے اوپر ایک تاریک سے کمرے میں قائم ہوئی تھی اور غالباً مرحوم نذیر (ایل جی آر ڈی والے) اس کو دیکھ رہے تھے۔ یہی پر ہماری پروفیسر حشمت کمال الہامی، غلام حسن حسنی ، محمد عباس کھرگرونگ ، وزیر حمایت حسین ، غلام حسن لوبسانگ، محمد علی PIA اور دیگر صاحبان علم و دانش سے ملاقات ہوئی اور عمر بھر کا رشتہ قائم ہوا۔ ڈسٹرکٹ کونسل کے سٹور میں بھی کتابیں ہی کتابیں تھیں جن تک شاد و نادر کسی کی رسائی تھی۔ سننا تھا کہ مرحوم وزیر مہدی ایم اے علیگ نے تاریخ ، جغرافیہ اور دیگر اہم موضوعات پر کتابیں خرید کر ڈسٹرکٹ کونسل میں رکھ دیا تھا مگر ان کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ بعد ازاں راجہ جلال حسین نے جب وہ ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئرمین تھے تو کچھ کتابیں میونسپل لائبریری کو حوالہ کر دیا تھا۔
موجودہ میونسپل لائبریری جو پولو گراؤنڈ کے ساتھ والے ٹیلے میں قائم کی گئی اور یہ صرف ایک ہال اور دو نہایت چھوٹے کمروں پر مشتمل ہے۔ صدر دروازے کا رخ سدپارہ کی جانب رکھا گیا ہے اور جب ہوا چلتی ہے تو لائبریری کے نہ صرف در و دیوار لرز اٹھتے ہیں بلکہ چھت کی جی آئی شیٹ بھی  دیر تک گونجتی رہتی ہے۔ لائبریری میں کتابوں کی تعداد اچھی خاصی ہے۔ لائبریری کا ایک  مختص حصہ ہمارے حساب سے خاص ہےاور وہ ہے گلگت بلتستان اور لداخ کی تاریخ و ثقافت اور تہذیب سے متعلق اہم کتابیں کا کونہ۔ اس میں تقریباً دو سو کے قریب کتابیں سید عباس کاظمی کی جانب سے تحفہ کی گئی رکھی ہوئی ہیں۔ ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ، علاقے کی فوک لور، تاریخ اور جغرافیہ سے متعلق اتھارٹی ہیں۔ جاپان حکومت کی طرف سے آنر ایبل کا تمغہ بھی مل چکا ہے۔
2011-12 میں امریکن ایمبیسی کی جانب سے اسی لائبریری کے دو مختصر کمروں میں لنکن کارنر بھی قائم ہوا تھا۔ یہ ایک بڑی پیش رفت تھی جس کے تحت
نہ صرف کتابیں، انٹرنیٹ سروس اور دنیا کے مشہور رسالے
National Geographic Magazine Discovery, Future , Natural Science سمیت کئی اہم بین الاقوامی جریدے پہلی دفعہ یہاں کے پڑھنے والوں کے لئے دستیاب ہوئیں تھیں۔ اس کارنر میں جواں سال اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے بلتستان کے تعلیم یافتہ سید آصف یاسین کوآرڈینیٹر مقرر ہوئے تھے۔ انہوں نے بڑی تندہی اور ذوق و شوق سے اس کانر کو فعال بنانے میں اپنی تمام توانائیاں صرف کئی تھیں۔ نوجوانوں کے لئے یہاں کلچر، زبان اور تعلیم و تدریس کے حوالے سے مباحثے منعقد کروائے بلکہ انہیں زوم کے ذریعے بین الاقوامی ماہرین اور ایکیڈیمک افراد سے براہ راست گفتگو کرائی گئی۔ علاؤہ ازیں کئی بین الاقوامی یونیورسٹیز کی ڈیجیٹل لائبریریوں تک مفت میں رسائی حاصل تھی۔ لیکن بدقسمتی سے یہ کارنر 2019 کے اواخر میں بند ہوگیا اور کسی نے روکنے کی کوشش بھی نہیں کی یوں ایک بڑی سہولت ہاتھ سے چلی گئی

 

تحریر عاشق فراز

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website