“یقین محکم”

0 0

کسی بھی شخص کا ذہنی رویہ اس کی زندگی میں بہت گہرا اثر رکھتا ہے۔ اگر انسان کو خود پر یقین نہ ہو تو اس کے اندر توانائیاں اندر ہی دم توڑ دیتی ہیں۔ انہیں کھل کر سامنے آنے کا موقع نہیں ملتا۔ جس کا یقین جتنا پختہ ہوتا ہے اس کے لئے اتنے ہی دروازے کھلنا شروع ہو جاتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ ایک روز میں کامیاب ہو جاؤں گا۔ یہ یقین ایک فولاد کی طرح ہے جو کسی بھی صورت میں نرم نہیں ہوتا۔ میرے اندر اللہ تعالی نے جو انرجی اور توانائیاں دی ہیں اس کو میں ضرور استعمال کر کے رہوں گا۔ میرے رستے سے مجھے کوئی بھی ہٹا نہیں سکتا۔ میرا یقین اس قدر پختہ ہے کہ میں چاہ کر بھی خود کو روک نہیں سکتا۔ میرا یقین پہاڑ جتنا بڑا اور مضبوط ہے اور میرے راستے میں آنے والی رکاوٹیں صرف ذرے جیسی ہے۔ میرا دل اس قدر وسیع ہو چکا ہے کہ منفی لوگوں کی باتیں مجھ پے بے اثر ہو گئی ہے۔ میں نے ہر صورت کامیاب ہونا ہے یہ اتنا ہی بڑا سچ ہے جیسے دو جمع دو چار۔ میرے سینے میں ایک سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے جو مجھ کو لگاتار کام پر مجبور کرتا ہے۔ میرا جوش و جذبہ ایک سمندر کی مانند ہے اور میری تھکاوٹ صرف ایک قطرے جیسی ہے۔
جس بھی کام کا ارادہ کر لیتا ہوں پھر یہ نہیں سوچتا کہ اس کے لیے مجھے کم سے کم کیا کرنا پڑے گا بلکہ یہ سوچتا ہوں کہ اس کے لیے میں زیادہ سے زیادہ کتنا درد برداشت کر سکتا ہوں۔ ساری دنیا کے درد بھی اگر اکٹھے ہو کر میرے پاس آ جائیں تو میری ہمت کے آگے ہاتھ جوڑ لیں گے۔ درد کو گھٹنے ٹیکنے ہی پڑیں گے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ میری ہمت کی چٹان کا دردوں کی روئی کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ ساری مشکلات بھی مل کر سازش کر لیں اور میرے اوپر ٹوٹ پڑیں تو ان کو سوائے ناکامی کے کچھ نہیں ملے گا۔ جتنی زیادہ مشکلات آئیں گی ان کو میں اپنی طاقت بنا لوں گا۔ حالات کے سونامی سے مردانہ وار لڑتا رہوں گا جان دے دوں گا مگر پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ کیونکہ وہی لوگ امر ہوتے ہیں جن کے ارادے کبھی ڈگمگاتے نہیں۔
میرے اندر اس ذات کی روح پھونکی گئی ہے، اس لئے جو کام بھی میری زبان سے نکلے گا اس کام کو ہونا ہی پڑے گا۔ اس کام کو مکمل کرنے کے لئے جتنی محنت چاہیے ہوگی اس محنت سے ہزار گنا زیادہ محنت کروں گا اس کے بعد وہ کام خود میرے قدموں میں آئے گا۔ جب کسی کام کا ارادہ کروں گا تو بجلی کی کڑک اور گرج کے ساتھ اس پہ ٹوٹ پڑوں گا۔ کامیابی کو میرا ہونا ہی پڑے گا اور درحقیقت کامیابی میرے نام کے ساتھ منسوب ہوکر خود فخر محسوس کرے گی۔ جیت کی بھی خواہش یہی ہوگی کہ وہ میرے نام کے ساتھ پکاری جائے، اللہ کی مخلوق بہت تیز، طاقتور اور بڑی ہے مگر اس سے اہم بات یہ ہے کہ ان تمام مخلوقات سے میری ذات افضل ہے، افضل ہونے کی وجہ سے مجھے ہر صورت کامیاب ہونا ہے، چاہے کچھ بھی ہو جائے کامیاب ہونا ہے، مشکلات کے آگے میں پیسہ پلائی دیوار ہوں۔ عین ممکن ہے کہ آنے والے ولی زمانے کے لوگ ضرب المثل میں سیسہ پلائی دیوار کی جگہ میری ذات کا استعمال کرنا شروع کر دیں، کیونکہ میرے عزم کی بجلی کے آگے سیسے کو بھی پگھلنا ہوگا۔

یہ میرے کچھ جذبات تھے جن کو میں نے الفاظ کا روپ دھارا۔ اگر آپ بھی ایسا پختہ یقین رکھنا چاہتے ہیں تو اس آرٹیکل کو روز پڑھا کریں، اس آرٹیکل کو اپنی ذات کے لیے استعمال کریں، آہستہ آہستہ آپ دیکھیں گے کہ یہ یقین آپ کے اندر پیدا ہونے لگا ہے، اور جب آپ میں یہ یقین پیدا ہوجائے گا تو اس آرٹیکل کا مقصد پورا ہو جائے گا۔

تحریر. حیدر یبگو

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website