1972ء سے 2022ء کے سفر کے دوران گلگت بلتستان پولیس کو عروج و زوال کا سامنا رہاہے ۔ اس دورانئے میں وقتاََ فوقتاَ َ چند ایک اصلاحات بھی لائی گئیں ہیں مگر مجموعی طور پر اس اہم ترین ادارے پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی ضرورت تھی ۔ نظم و ضبط کا قیام اور قانون پر عملداری ہر معاشرے کی ضرورت ہوتی ہے اور اسی ضرورت کے پیشِ نظر ہر معاشرے میں پولیس کا ادارہ بھی موجود ہے اور تمام ترقی یافتہ معاشروں میں اس ادارے پر خصوصی توجہ بھی دی جاتی ہے ۔ گلگت بلتستان پولیس کے ماضی پر نظر دوڑائی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس سرمد سعید کا دور محکمے کے لئے سُنہرا رہاہے جس میں محکمے نے تاریخی ترقی کی ہے ۔ سرمد سعید کے اس سُنہرے دور میں اُس وقت کے ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر حُسین اصغر کا بھی قابلِ ذکر کردار دکھائی دیتا ہے اِن دونوں ذمہ دار پولیس آفیسران کی باہمی مشاورت اور تعاون سے گلگت بلتستان پولیس میں افرادی قوت دُگنی کی گئی اور وسائل یعنی ساز و سامان (گاڑیاں ، اسلحہ وغیرہ) بھی بڑی تعداد میں مہیا کیا گیا ۔ آئی جی پولیس سرمد سعید خان اور ڈی آئی جی حسین اصغر ہی کے دور میں گلگت بلتستان پولیس کی تاریخ میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سات ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (DSsP) اور محکمانہ ٹیسٹ انٹرویو کے ذریعے 60 اسسٹنٹ سب انسپکٹرپولیس (ASIs) تعینات کرکے قابل اور باصلاحیت نوجوانوں کو دور جدید کے تقاضوں کے مطابق محکمے میں خدمات انجام دینے کا موقع فراہم کیا ۔ سرمد سعید کے ہی دور میں سپاہیوں کو بھی خالصتاََ اہلیت کی بُنیاد پر بھرتی کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اس میں ڈی آئی جی امجد خان کا بھی کردار رہاہے اسی کردار کی وجہ سے اُن تینوں آفیسروں کو اج بھی گلگت بلتستان بھر میں یاد کیا جاتا ہے ۔ سرمد سعید خان کے دور میں آفیسروں اور جوانوں کو ملک اور بیرون ملک میں جدید طرز کے تربیتی کورسزکے مواقع فراہم کئے گئے جبکہ گلگت بلتستان میں ایلیٹ فورس کی الگ یونٹ تشکیل دے کر عصری تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت دی گئی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس یونٹ نے گلگت بلتستان میں دہشت گردی کے کئی بڑے واقعات میں بڑا اہم کردار ادا کیا ۔ اج اگر پندرہ سولہ سال بعد اج 2021-2022 کے دور پرنظر دوڑاتے ہیں تو اج کے ناظم اعلیٰ گلگت بلتستان پولیس محمد سعید وزیر بھی ادارے میں اصلاحات لانے کی قابلِ تعریف کوششیں بروئے کار لارہے ہیں ۔ گلگت بلتستان کوقدرتی حُسن او مناظر فطرت کے پیشِ نظر دُنیا بھر میں اہم مقام حاصل ہے اور ان علاقوں کو سیاحت کے لئے دُنیا کے بہترین علاقوں میں شُمار کیا جاتاہے یہی وجہ ہے کہ دُنیا اور بیرون دنیا سے سالانہ لاکھوں کی تعداد میں سیاح گلگت بلتستان اتے ہیں ۔ سیاحت کے فروغ اور سیاحوں کی حفاظت و رہنمائی کے لئے آئی جی پولیس گلگت بلتستان محمد سعید وزیرایک ایس ایس پی کی زیر نگرانی اعلیٰ تعلیم یافتہ قابل اور تربیت یافتہ آفیسروں اور جوانوں پر مشتمل ٹوریسٹ پولیس کی الگ یونٹ تشکیل دی جس کی کارکردگی کو ملک اور بیرون ملک میں بھر پور سراہا جاتاہے ۔ ٹوریسٹ پولیس کے لئے جدید طرز کی گاڑیا ں اور موٹر سائیکل بھی فراہم کئے جاچکے ہیں جبکہ کئی ایک مقامات پر ٹورسٹ پولیس کی طرف سے سیاحوں کی سہولت کےلئے Tourist facilitation Centers بھی قائم ہیں ۔ سعید وزیر کے اس دور میں پولیس آفیسروں اور جوانوں کی فلاح و بہبود پر بڑی حد تک توجہ دی گئی ہے جسے عوامی سطح پر بھی بے حد سراہا جارہاہے ۔ پولیس ویلفئیر فنڈ سے پولیس آفیسروں اور جوانوں کے علاج معالجے کے لئے مالی مدد اور پولیس اہلکاروں کے بچوں کے لئے تعلیمی وظاءف یقینا سراہے جانے والے اقدامات ہیں اِن ہی مقاصد کے لئے سعید وزیر ہی کی ہدایات پر تمام اضلاع میں ویلفئیر پراجیکٹس کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے جس کی آمدنی پولیس اہلکاروں کے فلاح و بہبود پرخرچ ہوگی جبکہ تمام تھانہ جات اور دیگر آفیسز کی تزئین و آرائش اور آٹومیشن پراجیکٹ کا قیام جس کے ذریعے پولیس کے تمام ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ بنایا جاسکے گا ۔ محمد سعید وزیر کے دور میں بھی پولیس آفیسروں اور جوانوں کو ملک اور بیرون ملک مختلف نوعیت کے تربیتی کورسز کرانے کے ساتھ پولیس ٹریننگ کالج گلگت میں بھی مختلف نوعیت کے تربیت کورسز جاری ہیں ۔ حال ہی میں گلگت بلتستان پولیس میں افرادی قوت میں کمی کو محسوس کرتے ہوئے آئی جی محمد سعید وزیر ہی کی ذاتی کوششوں سے مختلف سکیل کی ایک ہزار آسامیوں کی منظور دی جاچکی ہے جن پر عنقریب تعیناتی او رترقی بھی ہوگی ۔ گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ محمد سعید وزیر ہی کی کوششوں سے گلگت بلتستان کے تین مقامی پولیس آفیسروں کو پولیس سروس آف پاکستان میں شامل ہوچکے ہیں جس کے بعد گلگت بلتستان پولیس کے مقامی آفیسروں کو ملک کے دیگر صوبوں میں خدمات انجام دینے کا موقع میسر آ چکا ہے اور دوسری طرف اُن کے پی ایس پی کیڈر میں انضمام سے گلگت بلتستان پولیس میں سپاہی سے ڈی آئی جی تک ترقی کے مواقع بھی میسر آئیں گے ۔ پورے جی بی میں منشیات کے تدارک، قانون پر عملداری، ٹریفک کی بہتر طریقے سے روانی سمیت پولیس اور عوام کے مابین دوستانہ تعلقات کے لئے بھی محمد سعید وزیر اور اُن کی ٹیم نے قابل قدر کردار ادا کیا ہے ۔ گلگت بلتستان پولیس کی روزمرہ کارکردگی سے عوام الناس کو آگاہ رکھنے کے لئے محکمہ پولیس میں شعبہ اطلاعات پر بھی اس دور میں بھر پور توجہ دی گئی جس کا مثبت اثر دیکھنے میں ایا ۔ بلتستان رینج میں ڈی آئی جی بلتستان کیپٹن ریٹائرڈ لیاقت علی ملک کی طرف سے رواں ماہ مبارک رمضان کے دوران تھانوں ، لائینوں ، پولیس اسٹیشنوں ،پولیس چیک پوسٹوں اور پولیس پوسٹوں کے لئے افطار پیکیج کی فراہمی شہداء اور دوران ملازمت وفات پانے والے پولیس اہلکاروں کے خانوادے کے لئے تحاءف ،خواتین پولیس اہلکاروں کے لئے عید کے لئے کپڑوں کی فراہمی اور جوانوں کے ساتھ آفیسروں کی افطاری جیسے اقدامات کو بھی اس دور کے بہترین اصلاحات میں شُمار کیا جاتا ہے ۔
جی ایم شجاع
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟