کتب بینی کے فوائد سے کون وقف نہیں ہے ہم سب کو بخوبی علم ہے کہ ایک کتاب انسان کی زندگی میں کس طرح مثبت تبدیلیوں کا موجب بنتی ہے ،وہی کتاب اگر ہم پورے معاشرے کے لئے فراہم کرینگے تو سوچئے ہمارے معاشرے کی اندر کتنی بڑی مثبت تبدیلیاں آئینگے اور مثبت سوچ میں وسعت پیدا ہوگی۔
جہاں موجودہ زمانے میں ٹیکنالوجی کی وجہ سے معاملات زندگی آسان ہوئے ہے وہی اب بھی کتاب کی اشد ضرورت ہر سطح پے محسوس کی جارہی ہے کتاب کے بغیر معاشرہ مکمل نہیں ہوتا ہے۔
کتب بینی کی انفرادی فوائد سے لیکر اجتماعی فوائد پر لکھنا شروع کرے تو شاید قلم کی سیاسی کم پڑے مگر کتب بینی کے فوائد کم نہیں ہونگے۔
ضلع دیامر گلگت بلتستان کا گیٹ ہے ہونا تو یہی چاہے تھا کہ گیٹ وے ہونے کی ناطے ضلع دیامر گلگت بلتستان کا ترقی یافتہ ضلع ہوتا مگر دیامر کو آج تک ہر سطح پر پسماندہ رکھا گیا ہے تعلیمی شعبے میں تو دیامر سب سے پیچھے ہے۔
جب سے ڈپٹی کمشنر دیامر فیاض احمد نے اپنی زمہ داریاں سنبھالیں ہے انہوں نے دیامر کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے اور عوام میں علم دوستی پیدا کرنے کے لئے معتدد اقدامات کیے ہے جس میں سرفہرست سٹریٹ لائبریریوں کا قیام ہے۔
دیامر میں سٹریٹ لائبریری کی قیام ایک خاموش انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں تعلیمی شعبہ سب سے پیچھے ہو اور قبائلی رسم و رواج ہونے کی وجہ سے دیامر کو بندوق کے حوالے سے ایک منظم سوچ اور پروپیگنڈے کے زریعے بدنام کیا گیا ہے وہاں نوجوان کے ہاتھ میں کتاب دینا اور عوام کے لئے تعلیم کے لئے دروازے کھولنا کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔
ڈپٹی کمشنر دیامر فیاض احمد نے اپنی علم دوستی اور ویژن کو بروئے کار لاتے ہوئے شہر کے مختلف مقامات میں سٹریٹ لائبریریوں کی قیام کی منظوری دے دی جس پر باقاعدہ عملدرآمد شروع ہوچکا ہے جلد شہر کے بازار اور عوامی مقامات پر کتب عوام کی دہلیز پر موجود ہونگے۔
عوامی سطح پر سٹریٹ لائبریریوں کی قیام پر بھرپور پزیرائی مل رہی ہے اور عوامی دلچسپی بھی بڑھ رہی ہے جسے دیکھتے ہوئے سٹریٹ لائبریریوں کو مستقبل میں پورے ضلعے میں وسعت دینے کے لئے اقدامات کئے جارہے ہے۔
ڈپٹی کمشنر دیامر فیاض احمد کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر چلاس/ ایڈمنسٹریٹر چلاس حسین شاہ کی نگرانی میں سٹریٹ لائبریریوں کی قیام کے لئے عملدرآمد اور دیگر اقدامات پر تیزی سے کام جارہی ہے۔
ڈپٹی کمشنر دیامر کا پہلی بار اس اہم اقدام سے علاقے کی عوام میں کتب بینی کے لئے دلچسپی دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ بابا چلاسی کی سرزمین دیامر سے ایک بار پھر ہمیشہ کی طرح امن و بھائی چارگی اخوت کا پیغام عام ہوگا۔
عنایت اللہ شمالی کا خواب “میرے دیامر سے امن وہ محبت کے وہ پھول کھلیں گے جس سے پورا گلگت بلتستان مہکے گا پورا ہوجائے گا۔”
گلگت بلتستان کے پہلے سی ایس ایس آفیسر مرحوم جہانگیر خان جنکا تعلق ضلع دیامر سے ہر نوجوان اب ملکی سطح پر مقابلے کے لئے مرحوم جہانگیر خان جیسا بننے کی کوشش کرے گا اور قلم کتاب کے زریعے تبدیلی ہماری نصب العین ہوگی۔
ضلع دیامر کے لئے اس طرز کی مثبت تبدیلی کی آغاز کرنے پر عوام دیامر ڈپٹی کمشنر دیامر فیاض احمد کو ہمیشہ یاد رکھیں گے ۔
تحریر۔عمران اللہ مشعل
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟