گلگت بلتستان قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے ریاست پاکستان کی سنجیدہ کاوش اور ہماری تیاری دو مختلف پہلوں نظر آتے ہیں وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہ گلگت کے موقع پر یہ اعلان کیا تھا کہ حکومت گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ اور پارلیمنٹ میں نمائندگی دیگی اس کے لئے ٹھوس بنیادوں پر معاملات کو سلجھا رہی تھی کہ گلگت بلتستان اسبملی الیکشن قریب آگئی اور پاکستان کے تمام اپوزیشن کی قیادت نے یک زبان ہوکر یہ موقف اختیار کیا کہ گلگت بلتستان میں جو بھی اصلاحات نافذ کرنا مقصود ہو تو الیکشن کے بعد ہی کیا جائے جس کے وجہ سے بظاہر اس عمل میں تعطل پیدا ہوا وزیراعظم عمران خان نے چودہ جنوری کو پاکستان کی پہلی قومی سیکیورٹی پالیسی کی باقدہ اعلان کی تقریب میں گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی عمل کو مذکورہ پالیسی پر عمل درآمد کا حصہ قرار دیا۔ لفظ عبوری صوبہ کا نظریہ پہلی دفعہ سید منظور حسین گیلانی سابق چیف جسٹس آزاد جموں کشمیر نے دیا انہوں نے اس پر مفصل تحقیق جس میں آئین پاکستان کے مختلف شقوں کو بطورے حوالہ پیش کر تے ہو ئے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو پاکستانی قومی دھارے میں شامل کرنے کی تجویز دیا ان کا مزید کہنا تھا اس سے مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف جو اقوام متحدہ میں اختیار کی ہوئی ہے پر کوئی اثر نہیں پڑےگا ۔اس مہم کو مزید موثر بنانے کےلئے انہوں نے ایک تھنک ٹینک اسوسی ایشن فار دی رائڈز آف دی پیپلز آف جموں کشمیر تشکیل دی جس میں سابق بیوروکریٹس اور ماہرین کو شامل کیں افضل شگری، وزارت خارجہ کے سابق افسران آصف ایذی اور انعام الحق جو وزیر مملکت برائے خارجہ رہے ہیں نمایاں ہیں ان سب نے ایک کتابچہ بھی تحریر کیا جس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو پاکستان کا عبوری صوبہ اور پارلیمنٹ میں شامل کرنے کی حکومت سے استدعا کیے گئے سرتاج عزیز کمیٹی اسی سلسلے کے تسلسل تھی اور اس کیمٹی کی غیر سرکاری رپورٹ جو ہم تک پہنچی اس کے مطابق گلگت بلتستان کو تین نشستیں قومی اسمبلی میں اور چار سنیٹ میں دینے کی سفارش کی گئی لیکن بوجوہ اس پر مسلم لیگ کی حکومت عمل درآمد نہ کرسکی،یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ گلگت بلتستان کی اکثریت اپنے آپ کو پاکستان کی مین سٹریم سے منسلک رہنے پر خوش ہیں راقیم نے ریکنسلیشن ریسورس اور سنٹرل فار پیس ڈیویلپمنٹ اینڈ ریفارمز کے تحت سن دوہزار بارہ میں ایک سروے کرایا جس میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے جوان طلبہ سے پوچھے گئے سوالات میں بیاسی فیصد نے گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ بنانا نے پر مصر تھے اس کے علاوہ مختلف ذرائع اور عام وخاص موقعوں پر خواص اور عوام نے اپنے مطالبہ کا اعادہ کئی دہائیوں سے کرتے رہیں کہ گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں صوبہ قرار دیا جائے ساتھ پارلیمنٹ میں نمائندگی ۔ہم مطالبہ ضرور کرتے رہیں لیکن اس کی عمل درآمد کن بنیادوں پر ہونی چاہیے اس پر کم ہی توجہ دیتے ہیں اب چونکہ مشاورت اور صلاح کا وقت آن پہنچا ہیں اس کے لئے سب سے پہلے ہمیں اس کی پس منظر کی جانب نظر دہرانا ہوگا۔ گلگت بلتستان میں آئنی اصلاحات کئ کمیٹی جس کا سربراہ وفاقی وزیر قانون ہے نے ایک مسودہ پیش کیا ہے جس کی تحت جی بی کو قومی اسمبلی میں تین نشستیں تینوں انتطامی ڈویژن یعنی گلگت ۔بلتستان اور دیامر جبکہ کے لئے ایک نشست خواتین کے لئے جبکہ سینٹ میں چار نشست اس تجویز کے لئے یہ جوازپیش کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی آبادی تقریبا پندرہ لاکھ اور دیگر شہروں میں مقیم افراد کو شامل کر کے کل آٹھارہ لاکھ بنتے ہیں جبکہ اسلام آباد کی آبادی تیس لاکھ کے ساتھ تین قومی اسمبلی کی نشستیں ہیں۔کمیٹی سے عرض ہے کہ کیا فاٹا کو بطورے مثال پیش نہیں کرسکتی جس کو خصوصی رعایت کے ذریعے قومی اسمبلی میں بارہ اور سینٹ آٹھ نشستیں کی نمائندگی حاصل ہیں جبکہ فاٹا کی دو ہزار سترہ کی مردم شماری کے مطابق اڑتالیس لاکھ ہیں اب جب فاٹا خیبر پختونخواہ میں ضم ہوا تو ان کی قومی اسمبلی میں چھ پختونخواہ اسمبلی میں سولہ نشستیں ہوگی اس کمی کو پورا کرنے کےلئے تیرہ مئی دوھزار انیس کوقومی اسمبلی میں اپوزیشن رکن محسن ڈاور اور حکومتی رکن وفاقی وزیر نورالحق قادری نے بل پیش کیا کہ فاٹا کی پرانی تعدا یعنی بارہ قومی اسمبلی کی نشستیں برقرار رکھی جائے اس بل کے حق میں دو سو بیاسی ووٹ ملے جبکہ مخالف میں کوئی بھی نہیں یہ بل اسوقت سینٹ سےپاس ہونا باقی قوی امیدہے کہ سنیٹ سےبھی بل متفقہ پاس ہوگی کیونکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی حمایت فاٹا کے عوام کو حاصل ہیں کیا اسی طرح کی حمایت گلگت بلتستان کے عوام کے لئے حاصل نہیں؟
۔گلگت بلتستان کو پاکستان جموں کشمیر تنازعہ کی تناظر میں دیکھتی چلی ارہی ہیں اور اقوام متحدہ کی قراردادیں نمایاں ہیں جس طرح تنازعہ کشمیر کے وجہ سے پاکستان آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو خصوصی توجہ سے معمولات چلا رہی ہیں اسی طرح ہندوستان مقبوضہ جموں کشمیر اور مقبوضہ لداخ کو مخصوص سیاسی رعایت دی گئی ہیں ہندوستان نے لوک سبھا میں مقبوضہ لداخ کی آ بادی دو لاکھ چوہتر ھزار پر ایک نشست مختص کی ہے جبکہ ملک کا سب سے بڑی ریاست اتر پردیش جس کی آبادی بیس کروڑ سے زیادہ ہے کی نشستیں لوک سبھا میں صرف اسی ہے یعنی اتر پردیش میں پچیسں لاکھ پر ایک لوک سبھا کی نشست بنتی ہیں اس طرح کی مخصوص سیاسی رعایت بہت سے جمہوری ممالک اپنے معاشرے کے مختلف گروہوں کی احساس شمولیت اور احساس ملکیت کو مزید مستحکم کرنے کے لئے آئین اور ریاستی ڈھانچے میں اس عمل یقینی بنائے جاتے ہیں۔المختصر ہم سب حکومت اپوزیشن اور گلگت بلتستان کے عوام یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب سمجھنے چاہیے کہ گلگت بلتستان کو سابق فاٹا کی طرح خصوصی رعایت کے ذریعے قومی اسمبلی میں کم ازکم آٹھ نشستیں ملنی چاہیے جو گلگت بلتستان میں آبادی کی بنیاد پر تقسیم ہو اگر ارباب اختیار قومی اسمبلی کی نشست کے لئے آبادی کو پیمانہ بنانا ہی ہے تو عبوری صوبہ گلگت بلتستان کو دوسرے مستقل صوبوں کی طرح سینٹ میں مساوی نمائندگی دی جائے یہی انصاف کا عین تقاضہ ہے۔۔
تحریر: تقی آخونزادہ
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟