سابق/قائم مقام وی سی الجامعہ بلتستان یونیورسٹی کی کارکردگی کا مختصر جائزہ

0 0

• بلتستان یونیورسٹی سکردو بلتستان ڈیژن کی واحد یونیورسٹی ہے جو بلتستان یونیورسٹی چارٹر 2016 کے تحت 2017 میں وجود میں آئی۔

• ابتدائي طور پر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سکردو کیمپس کو یونیورسٹی میں تبدیل کیا گیا اور کیمپس ڈائرکٹر ڈاکٹر ارشاد علی کو اس کا منتظم بنایا گیا۔

• 31 مئی 2018 کو اس وقت کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی سفارش پر صدر مملکت و چانسلر بلتستان یونیورسٹی نے پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم کو اس نوزائیدہ یونیورسٹی کا پہلا وائس چانسلر مقرر کیا ۔

• ڈاکٹر نعیم نے21 جون 2018 کو سکردو پہنچ کر اپنا عہدہ سنبھالا جس پرابتدائی طور پر بلتستان کے عمائدین اور مقتدر حلقوں نے اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا۔

• وائس چانسلر نے کیمپس ڈاکٹر ارشاد علی کو رجسٹرار مقرر کیا جس پر عوامی حلقوں نے بھی اعتماد کا اظہار کیا ۔

• بدقسمتی سے مارچ 2019 میں ڈاکٹر ارشاد کا انتقال ہوا اور یہیں سے یونیورسٹی کی زبوں حالی کا سلسلہ شروع ہوا۔

• ڈاکٹر نعیم نے اکیڈمک اور تحقیقی امور پر توجہ دینے کے بجائے سب سے پہلے مقتدر حلقوں اور عمائدین شہر میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا شروع کیا اور کئی مؤثر شخصیات کو یونیورسٹی کا اعزازی سفیر بنا کر ان کی حمایت حاصل کرنے کی کاوشیں شروع کردیں اور ان نام نہاد سفیر بعد میں ان کی ہر غیر قانونی، غیر اخلاقی اور خلاف قاعدہ اقدامات کی تائید اور حمایت کرتے رہے۔

• ڈاکٹر نعیم نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر سینئیر اور پی ایچ ڈی کے حامل اساتذہ کی موجودگی میں یونیورسٹی کے بہت ہی جونئیر اور نان پی ايچ ڈی استاد کو بطور قائم رجسٹرار یونیورسٹی کے سب سے اہم انتظامی عہدے پر مقرر کیا جس کی وجہ سے بلتستان کے عوامی حلقوں میں بے چینی اور بے اعتمادی کی فضا قائم ہونا شروع ہوئی۔

• ڈاکٹر نعیم نے رجسٹرار کے عہدے پر تقرری کے لئے تین بار اشتہار شایع کروایا جس میں رجسٹرار کی تعلیمی اور تجربے کی شرایط کو کم سے کم کرتے ہوئے اپنے منظور نظر قائم مقام رجسٹرار کی تعلیمی کوائف اور تجربات کے مطابق کر دیا اور بالاخر 23 اعلی تعلیم یافتہ امیدواروں میں سے سب سے کم تعلیم یافتہ شخص کو 20 گریڈ میں رجسٹرار مقرر کر دیا جس کے بارے میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ 2020 میں بھی تشویش اورعدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔

• ڈاکٹر محمد نعیم کے منظور نظر رجسٹرار نے ان کی آشیرباد سے میرٹ کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے خلاف قاعدہ اور اقربا پروری کی بنیاد پر کئی اسٹاف اور افسران کو بھرتی کیا ہے۔

• ڈاکٹر نعیم کی غیر سنجیدہ حرکتوں کی وجہ سے یونیورسٹی کی ساکھ بری طرح متاثر رہی ہے ۔ عوامی سطح پر ان کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں جو ان کی غیر مقبولیت کی دلیل ہے۔

• ڈاکٹر نعیم کی غیر ذمہ دارانہ رویوں اور خلاف قاعدہ اقدامات نیز یورسٹی چارٹر اور قوانین کی من مانی تشریحات اور بے ضابطگیوں کے خلاف اکیڈمک سٹاف کے سات شعبوں میں سے چھ کے سربراہان سمیت ڈائریکٹر اکیڈمکس اور دیگر اساتذہ نے اکیڈمک کونسل اور سینڈیکیٹ اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔ عدالتوں اور انتظامیہ کو ان اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا اور یونیورسٹی کی علمی اور تحقیقی فضا سخت متاثر رہی جس کی وجہ سے یونیورسٹی سیاسی اکھاڑہ بن گئی ہے۔

• ڈاکٹر نعیم نے مختلف ملکی اور غیر ملکی این جی اوز کو خوش کرنے کے لئے مقامی تاریخ، تہذیب ، ثقافت اور اقدار کو مسخ کرنے کی مذموم کوشش کرتے رہے ہیں جس کی واضح مثال تحقیقی اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر ایک تعمیراتی پتھر کو گیارہوں صدی کی مسیحی صلیب قرار دینا ہے جس کی اخباری تشہیر کے ذریعے موصوف نے علاقے کی تاریخ کو مسخ کرنے کے ساتھ مسیحی برادری کو بھی بے وقوف بنانے کی کوشش کی ہے۔

• بلتستان یونیورسٹی کا مرکزی کیمپس سکردو میں ہونے کے باوجود زیادہ اجلاس اسلام آباد میں رکھے جاتے ہیں جس کی وجہ سے یونیورسٹی کے فنڈ کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔

• اکتوبر کے مہینے سے لے کر مارچ تک مرکزی کیمپس خالی ہوتا ہے اور ڈاکٹر نعیم اپنی ٹیم کے ساتھ اسلام آباد میں براجمان ہوتے ہیں اور یونیورسٹی کے انتظامی اور تعلیمی امور سخت متاثر ہوتے ہیں۔

• ڈاکٹر نعیم نے سینیٹ اور سلیکشن بورڈ میں زیادہ تر اپنے دوستوں کو ہی ممبر بنایا ہوا ہے جو ان کی ہر خلاف قاعدہ اقدامات کی تائید کرتے نظر آتے ہیں۔

• ڈاکٹر نعیم غیر اخلاقی سرگرمیوں میں بھی ملوث رہے ہیں جس کی مثال ان کی وٹس ایپ اور فیس بک پر طالبات سے کی گئی نازیبا گفتگو کی سکرین شاٹس ہیں جس کے بعد ان کو فیس بک اکاؤنٹ اور وٹس ایپ بند کرنا پڑا۔ عوامی سطح پر ایف آئی اے کے ذریعے اس معاملے کی چھان بین کا مطالبہ کیا گیا لیکن خاموشی سے پورے معاملے کو دبا دیا گیا۔

• ڈاکٹر نعیم کی مدت ملازمت ختم ہونے کے باوجود اسی کو قائم مقام وائس چانسلر بنانا یونیورسٹی کے چارٹر 2016 کے شق نمبر 4 چپٹر 3 سیکشن 11 کے خلاف ہے۔

• ڈاکٹر نعیم کے خلاف قاعدہ اقدامات اور بدعنوانیوں کے خلاف آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ 2020-2021 میں مالی، انتظامی اور تعلیمی امور کے حوالے سے کافی الزامات لگائے گئے ہیں جو اس شخص کے کرپٹ اور غیر ذمہ ہونے کا واضح ثبوت ہے لیکن ان الزامات پر کوئی کاروائی عمل میں نہیں آئی۔

ان تمام نکات کی روشنی میں یہ شخص اگر بلتستان یونیورسٹی سب سے وائس چانسلر کے عہدے پر دوبارہ منتخب ہو جائے تو یہ بلتستان یونیورسٹی اور پورے گلگت بلتستان کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی ہوگی۔

لہذا مقتدر اداروں سے ہمارا مطالبہ ہے کہ عوام اور طلبا کی طرف سے مسترد شدہ اور ناپسندیدہ شخص کو دوبارہ اس عہدے پر تعینات نہ کیا جائے بصورت دیگر عوام اور طلبا اس فیصلے کو تسلیم نہیں کریں گے۔

 

 

 

تحریر: ڈاکٹر نذیر بیسپا

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website