دہشت گردی کا عفریب اور حکومت کا رومانس

0 0

ضرب عضب کی طویل لڑائی اور ستر ہزار سے زائد قیمتی جانوں کی قربانیوں کے بعد پاکستانیوں نے سکھ کا سانس لیاتھا ،دھماکوں کی گونج تھمتی دیکھ کر غیر ملکی سرمایہ کارپاکستان کا رخ کرنے لگے تھے ،جسے دیکھ کر لگتا تھا خوشحال اور پر امن پاکستان کا خواب اب شرمندہ تعبیر ہونے کو ہے ،لیکن یکا یک خطے میں ایک بڑی تبدیلی نے سارا منظر نامہ ہی تبدیل کردیا ،برادر اسلامی اور ہمسایہ ملک افغانستان میں طالبان جنگجو طویل جد و جہد کے بعد فاتح بن کر ایک بارپھر سے حکمران بن گئے ۔ افغانستان میں آنے والے اس انقلاب نے الجھنوں کا شکار پاکستان کو مزید امتحانوں میں ڈال دیا۔افغانستان میں امریکی شکست اور اندرونی خانہ جنگی نے جنوبی ایشیا ء بلخصوص پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ۔ 15اگست کو طالبان کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے اعلان کے بعد پاکستان کے حالات میں غیر معمولی تبدیلیاں وقوع پزیر ہوئیں،پاکستانی حکومت اور عوام نے طالبان کی فتح کو مذہبی فتح سے جوڑتے ہوئے اسے اپنی فتح قرار دیا اور ملک بھر میں طالبان نواز نظریات کو تقویت دی جس پر بائیں بازو سے تعلق رکھنے والوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ،ریاستی حلقوں میں افغان طالبان کے لئے نرم گوشہ دیکھ کر ملک میں سرگرم ٹی ٹی پی اور دیگر شدت پسند گروہوں کے بھی حوصلے بڑھے اور انہوں نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی ٹھان لی ۔جس کے اثرات حالیہ دنوں میں شدت پسندی کی لہر میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ عوامی رد عمل اپنی جگہ مگر حکومت اور ریاستی اداروں کی جانب سے بچگانہ بیان بازی پر تمام دور اندیش نہ صرف حیران تھے بلکہ تشویش کا اظہار بھی کر رہے تھے ،کیونکہ سپر پاور سمیت کئی طاقتیں جو پہلے سے ہی اپنی شکست کا ذمہ دار پاکستان کو سمجھتی تھی، وہ حکومتی اور ریاستی سطح پر طالبان کی کامیابی کا جشن مناتا دیکھ کر پاکستان کے مفاد کے خلاف اقدامات پر اتر آیے۔ اس بات کا احساس شاید حکمران جماعت اور اس کے وزرا کو بھی ہوا یا یوں کہہہ لیں احساس دلایا گیا کہ ہم نے بین الااقوامی قوتوں سے ٹکراکر نہیں بلکہ اپنے مفادات کا تحفظ کر کے فہم و فراست سے قدم بڑھانا ہے ،جس کے بعد طالبان کو تسلیم کرنے کی رٹ لگا رکھنے والی حکومت نے موقف اپنایا کہ افغان حکومت تو تسلیم کرنے کا فیصلہ بین الاقوامی برادری کو اعتماد میں لینے کے بعد کیا جائے گا،تاہم طالبان سے حکومتی اور ریاستی اداروں کا جو رومانس کھلے عام جاری تھا اسے اب روک دیا گیا ہے یا کم از کم پردے کے پیچھے ضرور کردیا گیا ہے ،دنیا بھر کی مخالفت ،سپر پاور کی ناراضگی اور نیٹو یورپی ممالک سے تعلقات کی کھٹائی کا خطرہ مول لینے کے بدلے پاکستان کو طالبان کیا دے سکتے ہیں ؟یہ آنے والا وقت بتائے گا لیکن افغان طالبان کی جانب سے بعض اوقات اس طرح کے بیانات بھی دیئے جاتے رہے ہیں جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ گویا وہ پاکستان کو پیغام دے رہے ہوں کہ بھائی اپنی اپنی خود سنبھالو،پاکستان کے خلاف افغان سرزمین استعمال ہونے کی بارہا نشاندہی کا بھی طالبان حکومت کی جانب سے کوئی مثبت جواب نہیں دیا جاتا اور اگر جواب دیا بھی جاتا ہے تو وہ صرف جواب کی حد تک ہی ہوتا ہے سرحد پار سے دہشت گردوں کی جانب سے پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر گاہے بگاہے حملے کیے جاتے رہتے ہیں جس میں کئی پاکستانی جوان شہید بھی ہو چکے ہیں ،بھارت و امریکہ نواز سمجھے جانے والے اشرف غنی کی حکومت کا دھڑن تختہ ہونے کے بعد پا کستان نے سکھ کا سانس لیا تھا کہ کم از کم اب ایک بارڈر محفوظ ہوگا اور افغانستان کی جانب سے پاکستان میں در اندازی نہیں کی جائے گی لیکن فی الحال ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آرہا ،بین االقوامی دنیا میں یہ تاثر ہے جو کسی حد تک درست بھی ہے کہ پاکستان افغان طالبان پر گہراکنٹرول رکھتاہے اور وہ دنیا کے خدشات جو ماضی کے طرز حکمرانی سے ہیں پاکستان ان خدشات کو ذائل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے گا لیکن یہ بیل منڈیر چڑھتی دکھائی نہیں دیتی کیونکہ طالبان اس طرح کے کسی بھی مشورے کو اپنا ذاتی معاملہ قرار دیکر ٹکہ سا جواب دے رہے ہیں۔پاکستان کے لئے افغان معاملات اس لئے بھی ضروری ہیں کہ افغانستان میں ہونے والے تمام واقعات کے کم یا زیادہ پاکستان پر اثر ضرور پڑتا ہے خاص طور پر دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی طویل جنگ جو تا حال جاری ہے کی کامیابی کو دوام دینے کے لئے ضروری ہے کہ افغانستان کی ریاست اور طالبان حکومت اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو اور اس کے ساتھ پاکستان کو خود اپنی سالمیت کا تحفظ کرنا ہوگا بجائے اس کے کہ ہم اپنے دشمنوں سے خیر کی توقع رکھیں ہمیں اپنے بچاو کی اور ایک بار پھر سے منظم ہونے والے دہشتگردوں کی کمر توڑنے کے لئے اقدامات کرنے ہونگے ،حالیہ واقعات میں جن میں درجنوں جوان شہید ہوئے ،دہشت گردوں کی جانب سے جدید ہتھیار اور جنگی آلات استعمال کئے گئے ہیں ،یہ جدید آلات و ہتھیار ان دہشت گردوں کو کون اور کیسے دیتا ہے اس کا پتہ لگانا پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے لئے ایک بڑا چیلنج اور سوالیہ نشان ہے ، دشمن ہماری غفلت کا فائدہ اٹھا کر ،بلوچستان اور سرحدی علاقوں میں مہرے بٹھا رہا ہے اگر ہم اسی طرح بیٹھے اونگھتے رہے تو شاید ہمارے پاس چلنے کو کوئی چال ہی نہ بچے ،وزیر داخلہ کی جانب سے پشاور میں طالبان کے بھتہ لیئے جانے کا بیان جہاں ایک جانب تشویش ناک ہے وہیں یہ حکومتی ناکامی کا بھی اعتراف ہے جس میں کچلے ہوئے شدت پسندوں کو منظم ہونے کا موقع مل رہا ہے ،شدت پسندی اور طالبان کے حوالے سے ریاست اور حکومت کے بیانات اور حکمت عملی نا قابل فہم ہیں ،کہا کچھ جاتا ہے ،کیا کچھ جاتا ہے، اور ہوتا کچھ اور ہی نظر آتا ہے ،کبھی ٹی ٹی پی سے مذاکرات کی بات کی جاتی ہے کبھی فائر بندی کی تو کبھی آپریشن کا کہا جاتا ہے ،لگتا ایسا ہے کہ ریاست اور حکومت خود بھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہی کہ اصل میں کرنا کیا ہے ،پاکستان کی ریاست اور حکومت کو جلد یہ فیصلہ کرنا ہوگا ہم شدت پسندی کے خلاف ہیں یا پھر ہمارا رومانس غیر مشروط طور پر طالبان سے جاری رہے گا ،اگر ایسا ہوا تو پاکستان کو سیاسی تنہائی کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے لئے پڑوسی ملک بھارت اپنی پوری قوت کے ساتھ ہمہ وقت مصروف نظر آتا ہے ۔

تحریر ؛عبدالحسین آزاد

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website