وھی خبر جس کے سننے کی تاب مشکل تھی وہ آگئی۔۔۔ کہ راجہ محمد علی شاہ صبا اس جہان رنگ ؤ بو جس کو واھمہ، عارضی ، سراب، ناپائیدار اور نہ جانے کیا کیا کہا گیا ھے سے اس سفر پر جا نکلے جہاں سے کبھی کوئی لوٹ کر نہیں آیا۔ بلتستان کے مشہور شاعر راجہ محب علی خان نے بے ثباتی دنیا کا کیا خوب نقشہ کھینچا ھے
“آخر پو نا عنقا نہ خپیرا سونگسے ستروےسنگ
دی دوں چرخی دوریکھہ دونگ دور بیاسے لدینگ”
کیا خاندانی وجاھت، اس پر ذھانت کی سان اور اوپر سے خداداد صلاحیت یعنی رب کی عطا متشکل ھوتی ھے تو راجہ محمد علی شاہ صبا کا روپ پہن لیتی ھے۔ صدیوں سے ان کا خاندان شگر میں طمطراق سے حکومت کرتا رھا اور اماچہ کہلایا۔ ان کی اپنی تحقیق اور دیگر محققین کے مطابق ان کے آباؤ و اجداد نگر سے ھسپر گلیشیر کے راستے شگر آئے چونکہ نگر کے حکمران خاندان سے تھے لھذا بہت جلد اپنی لیاقت اور شاھی نسب کی وجہ سے شگر میں اپنی حکمرانی قائم کردی اور اماچہ خاندان کی داغ بیل ڈالی۔ اس طرح دیکھا جائے تو راجہ محمد علی شاہ صبا غالباً تیسویں پشت کے ھیں۔
ان کے قریبی عزیز اور سابقہ سیکرٹری ہیلتھ ڈاکٹرحسن خان اماچہ کی ایک تحریر کے مطابق راجہ محمد علی شاہ صبا کی تاریخ پیدائش 1924 کی ھے 1948 کی جنگ آزادی بلتستان میں راجہ صاحب نے دامے درمے سخنے مدد کی اور فوج میں افسری بھی مگر جلد استعفی دے کر سول ملازمت اختیار کی اورترقی پا کر اسسٹنٹ کمشنر ریٹائرڈ ھوئے۔ علاقے کے جاگیر دار اور پولو کے مشہور کھلاڑی ھو نے کی وجہ سے ان کا شہرہ عام تھا مگر انھوں نے علم و ادب کی جو خدمت کی اور نام کمایا وہ برسوں نہیں بھلایا جاسکتا۔
بلتی زبان و شاعری میں تو حد درجہ عبور تھا ھی ساتھ ساتھ اردو تحریر اور شاعری بھی مرصع اور حسن و بیان کا تمام رنگ سمیٹے ھوئی تھی۔ سید شاہ عباس اورشیخ غلام حسین سحر کی سر زمین شگر سے راجہ محمد علی شاہ صبا ادب کی ضوفشانی میں ایک الگ اور منفرد طرز بیاں کا وہ آفتاب جس کی تمازت تا دیر محسوس کی جائے گی۔
ان سے پہلے پہل ملاقات غلام حسن حسنی کے توسط سے ھوئی۔ حسنی صاحب موجودہ سٹار مارکیٹ سکردو جو ان دنوں کچی پکی دکانوں پر مشتمل تھی وہیں ایک چھوٹے سے ھوٹل جسے چائے خانہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا اسی کے ایک نیم روشن کمرے میں ھفتہ وار طرحی مشاعرہ کا اھتمام کرتے تھے تو راجہ صاحب کبھی کبھار وہاں تشریف لاتے تھے اور اردو بلتی شاعری سے ھم سب کو معطر کر جاتے۔یوں گزشتہ تین دہائیوں سے بھی زائد عرصہ سے راجہ صاحب کے ساتھ محبت اور نیاز مندی کا رشتہ رھا۔
خپلو پیلس (یبگو کھر) کی تجدیدی کام کےدوران میں وہاں کچھ ذمہ داریاں نبھا رھا تھا وہیں راجہ تہور علی خان یبگو کے ساتھ روزانہ نشتیں رھتی تھی، یہ ان کی محبت اور بڑا پن تھا کہ مجھ جیسے ادب کے ادنی طالب علم کو نہ صرف اچھا خاصا وقت دیتے بلکہ بلتی ادب اور موسیقی پر گھنٹوں گفتگو کرتے تھے۔ ان نشستوں کے دوران لازماً راجہ محمد علی شاہ صبا کا ذکر آتا تھا اور راجہ تہور علی خان مجھے صبا صاحب کے کلام کے مختلف ٹکڑے سناتے اور ھم دیر تک سر دھنتے رھتے۔ تہور صاحب خاص طور پر راجہ صبا کی یہ غزل بار بار لحن میں پڑھتے۔۔
” سننگ لا ژھیک مید پی دی توسنن پے اثر سونگسے تھونگید”
یوں اس غزل کا ساتھ میرا ایک جذباتی سا رشتہ بن گیا اور مجھے بے حد پسند ھے۔ راجہ تہور علی خان نے ایک دن کمال مہربانی سے یہ غزل اپنے ہاتھوں سے لکھ کر مجھے تحفہ کردیا۔ مجھے اس تحفے کی بے حد خوشی تھی اس کو مذید دو بالا کرنے کے لئے میں کچھ عرصے بعد راجہ محمد علی شاہ صبا کی خدمت میں حاضر ہوا اور راجہ تہور علی خان کا دیا گیا تحفہ ان کے سامنے رکھا۔ راجہ محمد علی شاہ صبا کھل اٹھے اور قلم سے اسی غزل والی کاغذ کے اوپر ہدیہ محبت لکھ کر اپنے دستخط ثبت کئے۔
راجہ محمد علی شاہ صبا نے اپنی خاندان اور سماجی حیثیت پر کبھی بھی زیادہ فخر محسوس نہیں کیا بلکہ ان کی خواہش تھی کہ انہیں شاعری اور علمی و ادبی کام کے حوالے سے زیادہ یاد رکھا جائے اسی لئے وہ اپنے نام کے ساتھ صرف نیاز کیش محمد علی شاہ صبا لکھتے تھے۔
راجہ صاحب نے 1986 میں “نقیب آذادی” کے نام سے کتاب لکھی جو دراصل ایک طرح سے شگر کے ساتھ ساتھ بلتستان کی اختصاری تاریخ ھے۔ اس میں انھوں نے راجہ حیدر خان اماچہ جو رشتہ میں ان کے دادا ھیں کی ڈوگرہ سامراج کے خلاف کی گئی جدوجہد کو بیان کیا ھے۔ اس 1842 میں لڑی جانے والی لڑائی میں وقتی فتح تو ضرورحاصل ھوئی مگر غلام گردشوں میں پنپنے والی سازشوں اور اپنوں کی بے وفائی نے آذادی کو پھر غلامی کے اندھیروں میں گم کر دیا۔
ان کی دوسری کتاب “بلتی لغت” دراصل ڈکشنری ھے جو کسی مقامی محقق کی پہلی خامہ فرسائی ھے ورنہ زیادہ تر یہ کام تو فرنگیوں کا کیا ھوا ھے جو مختلف حوالوں سے یہاں آتے رھے ھیں۔اس لغت کی ایک خاص بات کہ اس کی اشاعت کا اہتمام مقتدرہ قومی زبان نے کیا ھے۔
عمر کے آخری حصے میں انھوں نے بلتی صوفیانہ شاعری کے بادشاہ سید محمد عباس جو بوا عباس کے نام سے معروف ہیں کے کلام کی فنی محاسن کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ تشریح و تحلیل کا کام بھی کیا ھے۔ اس طرح بوا عباس کا کلام جو بڑے بڑوں کو سمجھنے میں ادق لگتا تھا کسی حد تک قابل فہم ھو گیا ھے۔ اس سلسلے میں ان کی محنت شاقہ
“شوق بجیس” کے نام سے منصہ شہود پر آ گئی ھے لیکن ان کی حیات میں اس کا پہلا حصہ چھپ گیا دوسرا حصہ تا دم تحریر اشاعت کے لئے منتظر ہے۔
ان کی بلتی غزلیں زیادہ تر فرمان علی مرغوب نے گائی ھیں جس میں سر ماسٹر عبداللہ نے بکھیرا ھے اور کیا لطف سماعتوں کو ملتا ھے وہ صرف اھل ذوق ھی جانے۔
تحریر
عاشق فراز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟