۔
1948 کی تقسیم بر صغیر میں ایسے المناک واقعات ہیں جنہیں کتابی شکل میں لانے کی ضرورت ہے تاکہ آیندہ آنے والے نسلوں تک اپنے آبا و اجداد کی قربانیوں کی داستانیں پہنچا سکیں کہ یہ وطن جسے ہم پاکستان کہتے ہیں کسی نے پلیٹ میں سجا کر نہیں دئیے بلکہ اس کیلئے وہ قرض بھی چکائے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے ۔
حاجی ابراھیم معروف کاروباری شخصیت ، متدین ،علماء پرست ،شب زندہ دار جنکا چشمہ بزار سکردو میں افضل برادرز کے نام سے دکان ہے ۔
آج میں انکی کہانی لیکر حاضر ہوا ہوں انہوں نے اپنے اولاد اور پوتوں ،نواسوں کو بھی اپنی کہانی یاد کروایا تھا۔
زاھد حسین انکا نواسا ہے ان سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ میرا نانا بھی مہاجر ہے اور انکا انتقال 2018 میں 85 سال کے قریب ہوا ۔
جب تقسیم کا زمانہ تھا تو نانا جان 18 سال کا نوجوان تھا انکا چھوٹا بھائی بہت تیز اور صحت مند تھا لیکن نانا تھوڑا کمزور اور سست تھا ۔
انہیں انکے ابا جان نے سب کچھ سمیٹ کر پاکستان کی طرف نکلنے کا حکم دیا کیونکہ انکا محبوب راہنما قائد اعظم تھا وہ ہر وقت دعا کرتا رہتا تھا کہ محمد علی کامیاب ہوں ۔
اب جبکہ پاکستان بن چکا تھا تو دیر کس بات کی پہلے سارے گھر والوں کو نکالا پھر مال مویشی لینے کیلئے چھوٹے بیٹے کو بچی کھچی مال مویشی کو ساتھ لانے دوبارہ بھیجا وہ بچی کھچی مال مویشی وغیرہ سمیٹ کر واپس آرہا تھا کہ جیسے ہی دریا پار پہنچا اچانک سیز فائر ہوگیا اب دریا کے اس پار ایک بھائی پاکستانی کہلایا تو دریا پار موجود چھوٹا بھائی ہندوستانی کہا جانے لگا ۔
دونوں بھائی ایک میل تک ایک دوسرے کو اللہ حافظ کہتے ،روتے پیٹتے بھاگتے بھاگتے تھک ہار کر جدا ہوگئے ۔
اور وہ جدائی دو سال بعد ابدی جدائی میں بدل گیا حاجی ابراھیم 1950 میں بزریعہ واھگہ ہندوستان اپنے بچھڑے بھائی سے ملنے گیا ۔
لیکن افسوس 😢درد جدائی اتنا شدید تھا کہ چھوٹا بھائی عین جوانی میں اپنوں سے بچھڑنے کا دکھ سہہ نہ سکا اور داعی اجل کو لبیک کہہ چکا تھا ۔
حاجی ابراھیم بھائی کی تربت پہ پہنچ کر بے ہوش ہوگیا اور ہوش میں آکر بھائی بھائی پکار تا مگر جواب نہ ملتا تو خود ہی بولتا ہاں مجھے معلوم ہے تم مجھ سے ناراض ہے ۔
لیکن میں مجبور تھا میں تمہیں لینے آیا ہوں اب اٹھو جلدی کرو تمہیں پاکستان بلا رہا ہے ۔
تحریر
بو علی رضوانی
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟