شگر( نمائندہ خصوصی) ملک کے دیگر شہروں کے نسبت گلگت بلتستان کے خواتین کو حقوق حاصل ہے تاہم جبری نکاح کرنا اور وراثت میں حصہ جیسے حقوق سے اب بھی محروم رکھا جارہا ہے۔شگر جیسے پسماندہ علاقے میں بھی خواتین کی حقوق کیلئے پلیٹ فارم قائم ہونایہ ایک خوش آئند بات ہے الشہباز ویمن آرگنائزیشن شگر کی خواتین کی حقوق کیلئے جدوجہد قابل ستائش اور سکینہ بی کی خواتین کو باعزت روزگار اور ان کی بہتری کیلئے کاوشیں قابل تقلید ہے۔ ان خیالات کا اظہار صدر پریس کلب سکردو محمد حسین آزاد ،سینئر صحافی قاسم بٹ ،حسن شگری،باقر حاجی،تاج بیگم، سکینہ بی اور شکیلہ بتول نے الشہباز ویمن آرگنائزیشن شگر کی جانب سے منعقد ہ پانچ روزہ ویمن ورکر گروپ ورکشاپ اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔پریس کلب سکردو کے صدر محمد حسین آزاد نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک کے دیگر شہروں کے نسبت گلگت بلتستان کے خواتین کو حقوق حاصل ہے تاہم جبری نکاح کرنا اور وراثت میں حصہ جیسے حقوق سے اب بھی محروم رکھا جارہا ہے۔۔بلتستان کی میڈیا نے ہمیشہ خواتین کی حقوق کیلئے آواز اٹھائی ہے ۔ اگر پھر کہی کسی خاتون کیساتھ کوئی ظلم ہورہا ہے تو ہم خواتین کی حقوق اور ان پر ہونے والی ظلم کیخلاف آواز بنیں گے۔میڈیا ہمیشہ خواتین کی حقوق کو ترجیح دینگے۔ معروف صحافی قاسم بٹ نے کہا کہ شگر جیسے پسماندہ علاقے میں بھی خواتین کی حقوق کیلئے پلیٹ فارم قائم ہونایہ ایک خوش آئند بات ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروجیکٹ منیجر حسن شگری نے کہا کہ الشہباز ویمن آرگنائزیشن شگر کی اغراض و مقاصد اور اس کے کارکردگی سے شرکاء کو آگاہ کیا۔اور پرجیکٹ کے حوالے سے بھی آگاہ کیا اور کہا کہ یہ پروجیکٹ یو ایس ایڈ کے پروگرام SGAFPکی جانب سے شگر کے تین یونین کونسل میں پچھلے ایک سال سے جاری تھا۔ جس میں گاؤں سطح پر 70سے زائد سیشن منعقد ہوئی جہاں ہماری وکلاء نے خواتین کی حقوق سے آگاہی مہم چلائی جبکہ خواتین کی مسائل کی حل کیلئے لیگل ایڈ سنٹر قائم کیا گیا تھا جہاں ان خواتین کی مسائل کیلئے قانونی معاونت اور مشاورت دی گئی۔صدر الشہباز ویمن آرگنائزیشن شگر سکینہ بی نے اپنے تقریر میں کہا کہ میں اکیلے خواتین کی حقوق کیلئے نکلی تھی۔ آج اتنے سارے خواتین میدان میں دیکھ کر مجھے خوشی ہورہی ہے۔انہوں نے کواتین پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق کو اس پلیٹ فارم کو مضبوط بنائیں۔ ساتھ ہی انہوں نے نومنتخب ڈسٹرکٹ لیڈر ویمن پروٹیکشن شگر شکیلہ احمد کو مبارکباد دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ وہ خواتین کی مسائل کو اجاگر کرنے اور حقوق کیلئے آگے بڑھیں گے۔ نومنتخب لیڈر شکیلہ احمد نے اپنے خطاب میں لیڈر منتخب کرنے پر تمام خواتین ورکر زکا شکریہ ادا کیا۔ اور س عزم کا اظہار کیا ہے خواتین کی حقوق کیلئے اب ہم میداں میں آئی ہے۔ اور شگر کی کسی بھی کونے میں کسی خاتون پر ظلم ہوا تو ہم اس کی مدد کیلئے آواز بلند کرینگے۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا