بلتستان کی تاریخ کا ایک ورق۔۔۔اخر ایسا کیا ہوا تھا تفصیلات کیلئے لنک کلک کریں۔

0 0

سکردو میں علی شیر خان ثانی کی وفات پر ان کا بڑا بیٹا احمد شاہ تحت نشین ہوا۔ عام طور پر سکردو کے حکمران بلتستان اور آسپاس کے تمام چھوٹے راجاووں کا اقتدار اعلیٰ ’’رگیالفو‘‘ تصور کئے جاتے تھے لیکن کبھی کبھار موقع پاکر کسی علاقے کا راجہ ’’ چو ‘‘ خود مختاری کے لئے تگ دو کرتا تھا۔ سکردو تخت پر حکمران کی تبدیلی پر خپلو کے راجہ مہدی علی خان نے فائدہ اٹھانا چاہا اور بغاوت کردی۔ رگیالفو احمد شاہ نے اسے بغاوت کو فرو کرنے کے لئے اپنے بھتیجے عبداللہ خان شاہ رخ کو ایک چھوٹی سی فوج دے کر بھیجا۔ اس وقت خپلو کے راجے ’’ تھوررژے ‘‘ نامی پہاڑکے سرے پر تھوررژے کھرنامی قلعہ میں رہتے تھے ۔ اس محل سے ذرا نیچے ارد گردبہت سارے کچے پتھریلے مکانات بنے ہوے تھے ہذا جس میں کسی دشمن کے حملہ کی صورت میں خپلو شہر کی پوری آبادی فوراً ان مکانوں میں پناہ لیتے اور دشمن کے ہاتھوں تباہی سے محفوظ رہتے ۔عبداللہ خان شاہرخ ابھی نوجوان اور نا تجربہ کار تھا لہذا اسنے حالات کا جائزہ لئے بغیر تھورژے کھر قلعہ پر حملہ کرنے کے لئے شہر کی طرف سے کھڑی ڈھلان سے اوپر کو قلعہ کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ جب وہ کچھ فاصلہ طے کرچکے تو اوپر سے خپلو کے لوگوں نے بڑے بڑے گول پتھر ان کے اوپر لڑکانے شروع کئے جس نے سکردو کی فوج کو روند ڈالا ‘ عبدا للہ خان شاہ رخ خود بھی بری طرح زخمی ہوکر خپلو کے لوگوں کے ہاتھوں گرفتار ہوا۔ سکردو کےرہے سہے فوجی جان لے کر بھاگے اور سکردو پہنچے۔ ۔ رگیالفو احمد شاہ کو اپنی فوج کی بربادی اور بھتیجے کی زخمی حالت میں گرفتاری کی خبر سے بہت دکھ پہنچا اور اور اس نے فورا اپنے ایلچی خپلو مہدی علی خان کے پاس اس پیغام کے ساتھ بھیجا کہ وہ اپنے زخمی بھتیجے عبداللہ خان شاہ رخ کے وزن کے برابر سونا دینے کو تیار ہے مہدی علی خان اس کے زخمی بھتیجے کو رہا کرے۔ لیکن شومی قسمت سے مہدی علی خان نے اس پیشکش کو نا منظور کیا۔ مہدی علی خان نے زخمی شاہ رخ کو نوبرا میں بھیج کر وہاں ایک قلعہ میں قید رکھا تھا۔ اس نے اپنے آدمی بھیج کر زخمی عبداللہ خان شاہ رخ کے سر میں کیلیں ٹھکواکر مار دیا۔ جب یہ خبر احمدا شاہ کو ملی توہ غضبناک ہوا اوروہ خود ایک فوج لے کر مہدی علی خان کو اس کی سزا دینے خپلو روانہ ہوا۔جب سکردو کی فوج کھرکو کے مقام پر پہنچی تو خپلو کے لوگوں کو اس حملے کی اطلاع مل گئی اور وہ سارے حسب معمول قلعہ کے نیچے پتھر کے جھونپڑیوں میں چلے گئے۔ رگیالفو احمد شاہ نے اپنی لڑکا فوج کو خپلو شہر کی طرف بھیجا اور خود اپنے باڈی گارڈ اور نقار چیوں کو لیکر خپلو شہر کے بالمقابل دریائے شیوک کے دائیں جانب ’’ژھوغا ‘‘ نامی گاوں کے اوپر جو ’’لا ستیانگ ‘‘ نامی شکار گاہ ہے وہاں چڑھ گیا۔ اپنے لئے ایک پتھر کا کمرہ بنوادیا۔ اس جگہ سے دریا کے دوسری طرف خپلو گاوں اور تھورژے کھر کا قلعہ صاف نظر آتا ہے۔احمد شاہ نے دیکھا کہ قلعہ کی طرف فوجیں بڑھانا نقصان کا باعث ہوگا۔ کسی طرح مہدی علی خان کو نیچے لانے کا کام ہونا چاہیئے ۔ اس نے کچھ سوچ کر اپنے شاہی نقار چیوں کو حکم دیا کہ وہ داستان کیسر کے ترک بادشاہ کے باب میں کیسر اپنے امدادی پریوں کو جس گانے میں حکم دیتا ہے اس کی دھن بجائیں ۔ ان شاہی نقارچیوں نے نے اس گانے کو اپنی پوری طاقت سے بجایا کہ دریاکے دوسری طرف خپلو کے شہر میں موجود سکردو کی فوج نے آواز سن لی اور پہچان بھی گیا کہ کونسے گیت کا دھن بجایا جارہا ہے ۔ سکردو کی فوج کا کمانڈر سمجھ گیا کہ اس کا آقا اسے کس بات کا حکم دے رہاہے۔ چنانچہ اس نے اپنی فوجوں کو حکم دیا کہ خپلو شہر کے تمام مکان و درختان اور فصلات کو جلا کر بھسم کر دیا جائے ۔ چنانچہ خپلو شہر میں ہر طرف شعلے ہی شعلے نظر آنے لگے ۔ مکان جل رہے تھے درخت جل رہے تھے فصلیں خاک ہوگئیں تھی۔ قلعہ کی بلندی سے خپلو کے مرد عورتوں نے یہ منظر دیکھا تو ایک قیامت بپا ہوگئی ۔ انہیں اب اپنی موت کا یقین ہوگیا۔ لوگوں نے مہدی علی خان پر زور دیا کہ یہ ساری مصیبت اس کی وجہ سے پڑرہی ہے وہ نیچے جائے اور مردانہ وار سکردو والوں کا مقابلہ کرے ورنہ وہ خود مل کر اسے مار ڈالیں گے ۔ آخر کار مہدی علی خان مجبور ہوا اور انپے فوجی لے کر قلعے سے نکلا اور نیچے شہر میں آگیا جہاں سکردو کے سپاہیوں نے منٹوں میں اسے پکڑلیا ۔ احمد شاہ نے یہ ساری کاروائی اور مہدی علی خان کی گرفتاری لا ستیانگ سے دیکھ لی۔ اس کا مشن پورا ہوچکا تھا وہ نیچے کھرکو اترا۔ اس کی فوج بھی مہدی علی خان کو لئے کھرکھو کے مقام پر اپنے آقا سے مل گئی۔ احمد شاہ نے اپنی اس فوج کے کمانڈر وزیر تقی زگنگپہ پا کو خپلو کا کھرپون بنایا اور مہدی علی خان کو لے کر سکردو پہنچا جہاں اسےقلعہ کھرپو چھے کے نیچے ایک اندھے کنویں میں اتارا اور اسے سخت اذیتیں دے کرمروادیا‘‘۔

تحریر : معروف محقق عباس کاظمی

ترتیب ممتاز ناروی

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website