دنیا کی سب سے عظیم دیومالائی داستان نے بلتستان (تبت خورد) اور آس پاس کے علاقوں میں جنم لیا اور رفتہ رفتہ سارےتبت میںن زبان زد عام ہونے کے ساتھ ساتھ چین و منگولیا اور روس کے تمام مشرقی علاقوں میں عوام کا محبوب داستان بن گئی اور وقت کے ساتھ ساتھ اس داستان نے ہر علقہ اور ریاست میں انفرادی صورت اختیار کرتی گئی ۔یہ انتہائی دلچسپ اورسبق آموز داستان ماضی بعید سے اب تک بلتستان کے لوک ادب ‘ تہذیب و ثقافت ‘ تاریخ عہد عتیق کا منبع ہے۔چونکہ ماضی میں کئی صدیوں تک تبت اصلی اور اسکے گردو نواح کے علاقوں بدھ مت کی زبردست پرچار ہوتی رہی اور اس مذہب کے مبلغین اور استادوں نے ان علاقوں کی ہر چیز کو بدھ مذہب کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی۔اسی کوشش میں انہوں نے اس داستان کو بھی بدھ مت کی اساطیری داستان بنانے کی کوشش میں اس داستان میں اتنی زیادہ بدھسٹ عقائد اور لاماوں کی آمیزش کی کہ یہ تبت و چین و منگولیا میں کیسر کی جگہ ایک لامائی داستان بن گئی ۔ جب کی بلتستان میں چند صدیاں بدھ مت کے رائج رہنے کے باوجود اس داستان کو اپنا مذہبی داستان نانے سے گریز کیا اور جہاں تک ہوسکے اسے اپنی اصل صورت میں ہی نہ صرف کئی صدی بلکہ دو تین میلینم سے ہی محفوظ رکھا۔اس داستان کو اس کی خوبیوں اور اس کے اندر موجود عقل و دانش کی وجہ سےبلتستان کے باشندوں نے ہر دور میں اسے اپنی روزمرہ زندگی کی ترتیب و تذہیب کے لئے اس داستان کو ایک اعلیٰ نمونہ اور عقل و دانش کی تجوری کے اپنے سامنے رکھا۔ماضی میں موسم سرما کی طویل راتوں میں کسی اچھے داستان گو سےاس داستان کو سننا مستقل رواج بن گیا۔ جیسا کہ بتایا گیا ہے کہ یہ داستان تبتی دنیا کے چھوٹے بڑے علاقوں مثلا ہنزہ ‘ استور ‘ گلتری ‘ بلتستان ‘پوریگ ‘ لداخ‘ بھوٹان‘ چین کے صوبہ جات یونان ‘ سیچھوان ‘ گانسو ‘ اندرون منگولیا ‘ آزاد منگولیا کے علاوہ روس کے وسیع علاقوں میں ہر دلعزیز داستان ہے لیکن بلتستان میں جو داستان ہے وہ بہت حد تک اپنی اصل صورت میں ہونے کی وجہ سے بہت اہمیت رکھتا ہے۔بلتستان میں بھی اب جدید دور کے زبردست اثرات اور مادہ پرستی کے دوڑ نے اس ؑظیم داستان کو سننے اور سنانے کے رواج نے دم توڑ دیا ہے ۔
بلتستان کا آخری ماہر داستان گو عبدالرحمٰن مستری پا تھا جسے حیران کن حد تک اس داستان کے بارہ ابواب از بر یاد تھے ۔ اس کی آواز بھی بلا کی تھی اور گائکی کے حوالے سے اس کا آواز سات سروں سے بھی بلند لے میں گا سکتا تھا۔ قارئین کو بتاتا چلوں کہ ہندوستان میں گائکی خصوصاً فلموں کی گائکی دنیا بھر میں مشہور رہا ہے اور ہندوستان میں بہت سارے مشہور و معروف پیشہ ور شوقیہ فنکاروں میں سب سے زیادہ کامیاب اور ہر دلعزیز گلوکاروں میں صرف لتا منگیشکر کی ذات ایسی ہے جو سات سروں سے بھی بلند تر لے میں گانے گاسکتی تھی ۔سات سروں سے بلند سر میں گائے ہوے اس کے گیتوں نے پورے ملک میں دھوم مچائی ۔ ان کے ان گانوں میں فلم محل کا گانا ’’ دیپک بغیر کیسے پروانے جل رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ بہت مشہور ہے جس کی کلاکاری پورے سات سروں پر محیط ہے۔عبدالرحمٰن کو اس کی آواز اور فنکاری کی بنیاد پر ریڈیو پاکستان سکردو میں متعارف کروایا ۔میرے کہنے پر اس کی آواز میں کئی لوک گیت ریکارڈ بھی کئے ۔ اور ایک ادھ بار نشر بھی کئے ۔ لیک ریڈہو پاکستان سکردو میں ایک عالاقہ کے لوگوں کی راج گیری تھی اور ان کی یہ مافیا بہت مضبوط تھی اس لئے عبدالرحمٰن کے گیتوں کو غائب کیا گیا۔اور یوں بلتستان کو ایک اعلی گلاکار کے فن اور آواز سے ہمیشہ کے لئے محروم کردیا گیا۔
اس داستان کو راقم اور جرمنی کے ایک خاتون سکالر ڈاکٹر ریناتے سوہنن (Dr.Renate Sohnen)نے سنہ1980 میں اس مشہور داستان گو عبدالرحمٰن مستری کی تلاش میں رونگ یل (རོང་ཡུལ་། ) کی ایک معروف وادی ستک پہنچے۔ وہاں میرے عزیز وزیر محمد خان تھانہ دار تھے۔ انہوں نے ہماری رہائش کے لئے ایک چھوٹی سی عمارت جو برائے نام علاقے کی ڈسپنسری کے نام سے خالی پڑی تھی میں دو چارپائیاں لگوادیں اور عبدالرحمٰن سے ہماری ملاقات بھی کروادی۔اس مدد کے لئے ہم وزیر محمد خان صاحب کے مشکور رہیں گے۔اس وقت اس علاقے میں رشکہ گھاس کی کٹائی کا کام زوروں پر تھا اور عبدالرحمٰن بہت مصروف تھا۔ بیر حال اس نے روزانہ شام کوایک گھنٹہ کو آکر داستان سنانے کا وعدہ کیا۔ چنانچہ ہمیں اس سے پوری داستان کو جو بارہ ابواب پر مشتمل ہے ریکارڈ کرنے میں دس دن لگے ۔ریکارڈنگ کا کام کرکے ہم سکردو پی ٹی ڈی سی موٹل پہنچے جہاں ڈاکٹر سوہنن نے اس کی دو کاپیاں تیار کیں جن میں سے ایک( دس کیسٹوں میں) مجھے میری مدد اور رفاقت کے صلے میں دیا ۔
اس داستان کی عالمی سطح پر اہمیت کے پیش نظر اپنی کم علمی کے باوجود اس کا انگریزی میں ترجمہ کرنے کا کام شروع کیا۔ ساتھ ہی اس داستان کا دنیا کے قدیم تعلق کے بارے میں اور اس داستان قدامت کے بارے تحقیق کرنے ضروری ہوا۔یہ ایک بہت مشکل اور محنت طلب کام تھا جس میں کئی سال لگے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس داستان قدامت یعنی کب یہ داستان معرض وجود میں آئی کو درجن بھر قدیم روایات اور دیومالائی قصوں کی مدد سے تعین کرنے میں کامیاب ہوا۔اس کے مطابق یہ داستان کیسر دوسری میلینیم کے اوائل اور پہلی میلینیم (قبل مسیح) معرض وجود میں آئی ۔ یعنی یہ داستان کیسر دنیا کی قدیم ترین داستانوں میں سے ایک ہے ۔اس بارے میں کچھ احوال قارئین کو بتادوں ۔ کیسر داستان میں کھنگ چک می چک کے بارہ بیٹوں کے سار مختلف حیوانوں کے سروں جیسے تھے ۔ مثلا (کیسر کا دنیوی باپ) فسنگ کھا را سیکس ‘ کھرے بو کھرق تھونگ ‘ بلا میک سنون کے سر اور دوسری میلینم قبل مسیح میں مصر کے لوگوں کے دیوتاووں Khnum جس کا سر مارخر کے سر جیسا تھا اورHorus جس کا سر شاہین کے سر جیسا تھا اور
Anubis جس کا سر لومڑی کے سر جیسا تھا اور۔۔جس کا سر بلی کے سر جیسا تھا سے بالکل ملتے جلتے یا مشابہ ہیں ۔ یہ وہی دیوتا ہیں جن کی فرعون پرستز کرتا تھا۔ اور اسے فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ٹکراو ہو اتھا۔ حضرت موسی ؑ کا زمانہ ماہرین تاریخ نے باہویں صدی قبل اس مسیح معین کیا ہے ۔ اسی طرح کیسر داستان کا برق زگو جیرینگ مو یونانی دیومالا جیسن(Jasson and the argonats) کی داستان میں مذکور بحیرہ فاسفورس میں موجود چٹانی دروازہ (Symplegates) سے ملتا جلتا ہے ۔ اسی یونانی داستان کے ’’بھیڑو کا سنہرا کھال ‘‘(the golden fleec) اور داستان کیسر کا مارخور’’ برونگ خمپا‘‘(འབྲོང་ཁམ་པ་།) آپس میں مشابہ ہیں۔کیسر بچپن میں یشرت کژا (yashirat katsa) نامی غار میں اور جب بادشاہ بنا تو پہاڑ میں شیل کر لدیم کھر་(Shel kar ldem khar-ཤེལ་དཀར་གྱི་ལྡེམམ་ཁར་།)میں اور عوام غاروں میں رہتے تھے ۔ بالکل اسی طرح قرآن مجید کے مطابق قوم عاد و ثمود بھی پہاڑوں کے اندر تراشے ہوے محلوں اور گھروں میں رہتے تھے ۔یہ دونوں بھی آپس میں ملتے جلتے ہیں۔ تواریخ میں قوم عاد ثمود کا زمانہ تقریباً 1800/2000 صدی قبل مسیح بتایا ہے ۔ اس کے داستان کیسر میں ان کے علاوہ اور بہت سارے واقعات اور باتیں ہیں جو بہت قدیم ادوارمصر اور یونان میں تھے ۔ان مماثلت کی بنیاد پر راقم نے بلتستان میں ریکارڈ کردہ داستان کیسر کا زمانہ 900تا1200 قبل مسیح یعنی ہمارے زمانے سے چار ہزار سال پہلے کا تعین کیا ہے ۔ میرا یہ تحقیق اور تخمینہ بھی حرف آخر نہیں ہوسکتا۔ شاید مستقبل میں سائنسی تحقیق کے ذریعے اس داستان کا صحیح زمانہ متعین ہوسکے۔
آپ سوال کرسکتے ہیں کہ یونان و مصر کے اتنے قدیم قصے یہاں پہنچے تو کیسے پہنچے۔مختصرا اس کا جواب اور تاریخی حقایق کہ پہلی اور دوسری میلینیم قبل مسیح میں روم و یونان کی حکومتوں نے موجودہ علاقہ جات لبنان اور یرو شلم وغیرہ کو اپنی سلطنتوں میں شامل کیا تھا اور ان کی جنگیں ہمسایہ مصر کے فراعیں کے ساتھ ہوتی رہتی تھیں ۔ ان جنگوں میں عام لوگ بری طرح متاثر ہوتے اور ان کی زندگی مختلف عذاب سے عبارت ہوتی ۔اس لئے ان علاقوں کے لوگ جن میں یونانی ‘ عرب اور مصری سارے شامل تھے ان حکومتوں کے دستبرد سے دور مشرق کی طرف ہجرت کرنے لگے تاکہ کسی امن کی جگہ جابسیں جہاں انہیں کھانے پینے کی چیزیں بھی آسانی سے دستیاب ہوں ۔یوں کہ یونانی ‘ عرب اور مصری مہاجرین نے ایران وغیرہ سے بھی آگے مشرق کی طرف سفر کرنا شروع کیا اور وہ ہندوکش اور قراقرم کے کوہستانی وادیوں میں جا پہنچے جو یونانی اور مصر ظالم حکومتوں کے دستبرد سے بہت دور اور محفوظ تھے اور کھانے پینے کی اشیاء بھی دستاب تھیں ۔یہ لوگ کہیں علٰحدہ اور کہیں مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر رہنے لگے ۔ ان مغرب کے مہاجرین جہا اپنی زبان بولتے تھے ۔ہاں اپنے اپنے علاقوں کے عقائد اور قصے کہانیاؓ بھی ساتھ لائے تھے جو رفتہ رفتہ مقاملی داستانوں کے ساتھ مل گئے۔ اس آمیزش نے ایک نئے دیومالائی داستان کو جنم دیا ۔چونکہ اس داستان میں کیسر نامی کردار کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور ساری داستان اسی کے گرد گھومتی ہے لہذا یہ داستان کیسر کہلائی۔
قصہ مختصر۔ راقم نے اس داستان کی علمی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوے اس کا ترجمہ انگریزی میں کیا جسے یونیورسٹی آف بلتستان نے Kesar-the son of god کے نام سے شائع کیا جس کے لئے میں یونیورسٹی کا مشکور ہوں۔ اس انگریزی ترجمہ کے ذریعے بلتستان میں رائج داستان کیسر کی دنیا بھر میں پہچان ہوی ہے ۔ساتھ ساتھ یہ بات بھی سامنے آئی کی انگریزی میں ہونے کی وجہ سے اپنے ملک کی بڑی اکثریت جو انگریزی پڑھنے سمجھنے سے قاصر ہیں لہذا اس کا اردو ترجمہ شروع کیا جو کیسر اور لہامو برونگمو کی داستان کے نام سے قارئین کے سامنے ہے
‘ ترجمہ و تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سید محمد عباس کاظمی
پیش نامہ
More Stories
شاہراہ بلتستان ،شاہراہ قراقرم کی زبوں حالی اور سیاحت کا مستقبل۔
دیرینہ کارکنوں کی قربانیاں اور سیاسی جماعتیں
اقوام متحدہ میں گلگت بلتستان کا مقدمہ ہے یا نہیں ؟