چلاس(قادر حسین سے)پیپلز پارٹی دیامر کے جزل سیکرٹری سید امان بٹو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ واپڈا دیامر میں غیر قانونی بھرتیاں ہورہی ہیں، دیامر کے منتخب ممبران اسمبلی کی کال پر واپڈا کے اندر غیر قانونی بھرتیاں کا سلسلہ جاری ممبران اسمبلی اپنے رشتہ داروں کو بھرتی کرنے کیلئے واپڈا کے مالیشی پالیشی افسران کی اخبارات میں تعریفیں کررہے ییں ۔انہوں نے کہا کہ جی ایم واپڈا متاثرین ڈیم کو نظر انداز کررہے ہیں اور متاثرین کو دیوار سے لگایا گیا ہے ۔انہوں نے کیا کہ واپڈا میں ہونے والی غیر قانونی بھرتیوں کی تحقیقات کی جائیں رشوت اور سفارش کے بل بوتے پر بھرتی ہونے والے مقامی اور غیر مقامی ملازمین کو ادارے سے فارغ کیا جائے ۔انہوں نے مزید کہا کہ واپڈا حکام نے دیامر کے متاثرین کے ساتھ کئے گئے تمام معاہدوں پر کوئی عمل نہیں کیا ہے ، آئے روز غیر مقامی افراد بھرتی ہورہے ہیں جبکہ مقامی بے روز گار ہاتھ میں ڈگریاں لیئے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ییں ۔انہوں نے کہا کہ واپڈا کی طرف سے دیامر کے نالہ جات میں 5 کلومیٹر تک بننے والی سڑک پر ناقص میٹریل کا استعمال کیا جارہا ہے ،کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ چلاس کی تمام سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں واپڈا نے چلاس شہر کی کی تعمیر و ترقی کیلئے ابھی تک کوئی اقدامات نہیں اُٹھایا ہے ، جو کہ لمحہ فکریہ ہے ۔انہوں نے کیا کہ واپڈا میں کرپشن کا بازار گرم ہے ۔چلاس کے تمام اداروں کے سربراہان چلاس کی دولت سمیٹ کر راتوں رات کروڑ پتی بن رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چلاس میں عوام پر ظلم کی انتہا ہورہی ہے ، مگر منتخب ممبران اسمبلی انہیں افسران کی تعرفیں اور اپنے رشتہ داروں کو نوازنے کیلئے بیوروکریسی کی بوٹ پالش کررہے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر کرپٹ آفسر کو کرپشن کرنے کیلئے چلاس بھیج دیا جاتا ہے ۔چلاس میں محکمہ صحت، محکمہ پانی و بجلی کی ناقص انتظامات کی وجہ سے عوام بے موت مررہے ہیں ۔چلاس ہسپتال میں ڈاکٹرز نہیں ہے شہر میں بسنے والے لوگوں کو پانی اور بجلی نہیں مل رہا، عوام پریشان ہیں اور موجودہ ممبران اسمبلی کو ووٹ دے کر پچھتارہے ہیں ۔چیف سیکرٹری نوٹس لیکر نظام کو درست کریں ورنہ عوام احتجاج پر مجبور ہونگے۔
واپڈا دیامر میں غیر قانونی بھرتیاں ہورہی ہیں، دیامر کے منتخب ممبران اسمبلی کی کال پر واپڈا کے اندر غیر قانونی بھرتیاں کا سلسلہ جاری ممبران اسمبلی اپنے رشتہ داروں کو بھرتی کرنے کیلئے واپڈا کے مالیشی پالیشی افسران کی اخبارات میں تعریفیں کررہے ہیں ۔ رہنما پی پی پی دیامر
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا