تخلیقی اظہار

0 0

بچہ جب قلم پکڑنا سیکھ لے اور یہ جان لے کہ یہ وہ آلہ یا اوزار ہے جس سےوہ اپنی تخیلات کا اظہار کر سکتا؍سکتی ہوں، اپنی سوچ کو مرستم کر سکتاہو، اور یہ جان لے کہ وہ لکیروں میں اظہار ِرائے کے قابل ہو سکتاہے، تو یوں سمجھ لیں کہ بچے نے آموزش کی ایک بہت بڑی سفر کے پہلے سیڑھی پر قدم رکھ لی ہے۔یہ قدم جس قدر پائیدار، خوشگوار اور ثابت قدم ہو، نقطوں اور لکیروں میں اظہار کی سفر اسی حد تک خوشگوار، پُرتاثیر، پائیدار ، توانا اور خوبصورت ہوگا۔
قرآن مجید میں سورۃ نو ن کی پہلی آیت :
ن والقلم و ما یسطرون
ن قسم ہے قلم کی اور جو کچھ اس سے لکھا جاتا ہے؍ مرتسم ہوتا ہے۔
حرف ’ن‘ میں ایک دائروی لکیر اور ایک نقطہ ہے۔ جو قلم سے وجود میں آتا ہےاوراسی نقطے اور لکیر کی آمیزش سے تمام حروف ، پھرحروف سے الفاظ ، الفاظ سے بامعنی جملے ، جملوں سے مفاہیم پر مشتمل عبارتیں، عبارتوں سے ابواب اور ابواب سے کتابیں، کتابوں سےعلوم اور علوم سے انسانی عظمت و رفعت کے ساتھ ترقی و عروج کی داستانیں رقم ہوتی ہیں۔
جس کو قلم پکڑنا آجائے، اس کے وظیفے ، اس کے استعمال ،عمل اور عظمت کا اندازہ ہو، اس کی تقدس کا خیال ہو تو سمجھ لیں وہ علوم کا شناسا ہوگیا۔
ضروری نہیں کہ نقطوں اور لکیروں میں اظہار صرف رسمی قلم سے ہو، یامروجہ زبانوں کی الفاظ یا گرائمر کی اصول و ضوابط میں مقید ہوں۔ یہ علامات، نقش و نگار، فلو چارٹ، مختلف رنگوں کی آمیزش، تصویری اظہار، یا کسی بھی قسم کی دیگر نقاشی کے ذریعے ہوسکتی ہے۔ اسی طرح اظہار کا ذریعہ کاغذ، کینوس، دیوار، بورڈ، کی بورڈ،سکرین، ریت، تختی، لکڑی یا پتھر کہیں بھی مختلف نقوش، کھدائی، رنگوں، یا دیگر میڈیا کے ذریعے ممکن ہے۔ بس فکر کی بہاؤ کو مرتسم کرنے کا نام قلم ہے، جو مرستم کیا جائے (وما یسطرون)۔ اگر اس طرح فکرکی بہاؤ اور اظہارکی روانی کو خواہ جس کیفیت میں ہو رکنے نہ دیں، تو بولنے کی آزادی، لکھنے کی آزادی، اشارات میں تکلم کی آزادی، جسمانی حرکات و سکنا ت سے اظہار کے ذریعے بچے باہر کی دنیا کو اپنے من کی دنیا میں دعوت دینے کا اہل بنتے ہیں۔ یہاں سے وہ حسن جنم لے سکتی ہیں جن کا بڑے توقع بھی نہ کرے ۔
کوشش کی جائے کہ بچے جس رنگ میں دنیا کو دیکھتے ہیں ، جس ترنگ میں سنتے ہیں، اسی رنگ و آہنگ اور ترنگ میں اپنی دنیا کو آپ کے سامنے پیش کر سکے۔ یہ بچے کا اصل بچہ ہوگا۔ جب ہم اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہیں تو ہمیں بادلوں میں مختلف شکلیں، درو ودیوار کی ساخت میں معنی خیز تصویریں، کبھی الفاظ میں رنگوں کی قوس و قزح تو کبھی رنگوں میں کہانیاں نظر آتی ہیں۔ کبھی مناظر میں ترنم سنائی دیتی ہیں تو کبھی آوازوں میں مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ کیا ہم اپنے بچوں کے ایسی نادر تجربات کو محفوظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیاہم ان کو ان تجربات کےاظہار کی اجازت دیتے ہیں یا حوصلہ افزائی کرتے ہیں؟
عموماً ہم عمر میں بڑے لوگ، والدین یا اساتذہ بچوں کو وہ کچھ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں جو ہمیں نظر آتا ہے، وہ کچھ سنانے کی کوشش کرتے ہیں جو ہم سنتے ہیں، اور ان سے وہ کچھ کہلوانے کی کوشش کرتے ہیں جو ہم سننا چاہتے ہیں؟ یوں بچوں کو وقت سے پہلے بوڑھا کرنے میں ہمارا سب سے زیادہ ہاتھ ہوتا ہے۔ ہم بچے کو بچہ رہنے نہیں دیتے ۔ تخلیقی صلاحیتوں سے عاری قوم کا المیہ یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ یہی پابندیاں بعد میں خوئے غلامی کا ضامن بنتا ہے۔ اور ہر تخلیقی فکر والے اجنبی نظروں سے تکنا ان کی عادت بن جاتی ہے۔
در و دیوارپر لکھنے کی کوشش کریں تو سختی سےمنع، سکول میں بورڈ پرلکھنے کی اجازت صرف ٹیچر کے پاس،کتابوں کی صفحات اور حاشیوں پر تحریر غیر قانونی، ریت پر لکھنے کے لئے مہینوں میں فرصت نکال کر کسی دریا کے کنارے یا ریگستان میں جانا پڑتا ہے، کاپی پر ایسی لکیریں بنانا شروع کرے جو بڑوں کی سمجھ نہ آئے تو کاغذ کا ضیاع سمجھ کر منع کیا جاتا ہے، اگر کبھی غلطی سے کوئی بچہ بڑوں کی مزاج کے مطابق کوئی’’نا مناسب ‘‘ نقش و نگار بنائیں تو واہیات، انسانی شکلیں بنیں تو بدعت، حیوانی شکلیں بنیں تو بے کار، وغیرہ وغیرہ۔ بے چارہ بچہ بنائے بھی تو کیا بنائے۔ جب ابتدائے بچپن سے ہی اظہار کی ہرطورطریقے پر پابندیاں ہوں تو لکھاری کیسے بنے گا، آرٹسٹ کہاں سے آئے گا۔ کوئی آرٹسٹ بنے بھی تو تخلیقی نمونے کہاں سے برآمد ہوں گے۔لکھاری بنے بھی تونقالی سے ہٹ کر کیا لکھ پائے گا ۔ کاغذوں کی پیٹ بھرنے والوں کو لکھاری سمجھنا انہی عادات و اطوار اور ایسے ہی ماحول میں پلے بڑھے افراد کی نشانیاں ہیں۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی کتاب کے کئی صفحات ہی نہیں کئی ابواب پڑھ لینے کے بعد بھی کوئی با معنی ، مفید جملہ ہاتھ نہیں لگتا۔ جبکہ اگر ہمیں کسی اصل لکھاری کو پڑھنے کو موقع ملے تو ہر جملے میں ایک نیاپیغام، نئے مواد، نیا آہنگ اور مفید باتیں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ ہاں ایسا ضرور ہوتا ہے کہ اس طرح کی تحریریں پڑھنے کے بعد جدتِ افکار کو ہظم کرنا مشکل ہوتا ہے اور اعتراضات کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جو کسی تحریر میں جدت افکار کی نشاندہی کرتی ہے۔
جب کوئی ایسا اہل قلم ، قلم اٹھا تا ہے تو ایک ایک شعر پر سالوں کی قید وبندکا انعام ملتا ہے۔ پھربھی باز نہ آئے تو غداری کے میڈل دیے جاتے ہیں اور اگرپھر بھی تائب نہ ہو تو توہین مذہب کی وال چاکنگ کے ساتھ اُس صاحب ِ قلم کو واصلِ عقبا یا بدرجہ شھادت پہنچانے کی انتظامات مکمل کیے جاتے ہیں۔
نہیں معلوم جن لوگوں کو سچے الفاظ ہظم نہیں ہوتی، انہیں ملکی خزانے اور عوام کے سرمائے کیسے ہظم ہوتے ہیں؟ شاید الفاظ ہظم کرنے کے لیے دماغ کی ضرورت ہوتی ہے اور سرمائے ہظم کرنے کے لیے صرف پیٹ ہی کافی ہے۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں۔ پیٹ پھاڑ لیں تو معدہ اور انتڑیوں سے کیا نکلے گا یہ تو سبھی جانتے ہیں، دماغ کھول دیں تو کھلےدماغوں سےکیابرآمد ہوگا اس کا بھی اندازہ ہے۔ لیکن کیا کیا جائے ، چند لکیروں کا لفظ ہظم نہیں ہوتا کیونکہ ایسے لوگوں کے الفاظ کا نظام ِانہظام ہی خراب ہے یا اس نظام کا سرے سے وجود ہی نہیں، جبکہ کروڑوں اربوں کے اثاثے ایسے ہڑپ کر جاتے ہیں جیسے اس سے فضلے میں نہیں فضائل میں اضافہ ہوگا۔ کسی شاعر نے کیا منظر کشی کیا ہے۔
بلند اقبال ہوتا جا رہا ہے ،شکم فٹ بال ہوتا جارہا ہے،
نہ جانے کیا کھلاتی ہے حکومت، حرامی لال ہوتا جارہا ہے۔
کیا کروں جب بھی آزادئ تحریر پر لکھنا شروع کروں، ہزار کوشش کے با وجود میر اکی بورڈ پھسلتا جاتا ہے۔ بات نقطے اور لکیر سے نکلی تخلیقی اظہار سے آغاز کیا لیکن نہ جانے کیوں بات کشادہ شکم افراد کی فضائل تک جا پہنچی۔ معاف کیجئے، ہمارے کی بورڈ سے اچھے الفاظ ہی نکلتے ہیں۔ ہاں ان الفاظ کی تیزی نشتر سے کم نہیں۔ جو پوسٹ مارٹم کے لیے ضروری ہے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد خوشبو پھیلے یا بد بو، اس کے ہم زمہ دار نہیں۔
کسی صحافی نے سچ کیا بول دیاکہ قیامت آگئی۔ کسی لکھاری نے تصویر کیا دکھائی کہ آئینہ دیکھ کر برا مان گئے۔ کسی شاعر نے ایک شعر کیا سنایا کہ محفل کی تیور بدل گئی ،کسی مقرر نے صورت حال کی ترجمانی کیا کی کہ قوم کو بغاوت پر اکسانے کا جرم ثابت کر دیا۔ کسی آرٹسٹ نے ایک چھوٹا سا کارٹون کیا بنایاکہ مہا بلی کی اصل صورت اور کارٹونسٹ کی شامت سامنے آگئی ۔ اب تخلیق اور آذائی اظہار کے مقدس ناموں پر اس طرح کی تخریب کاری کی اجازت تو نہیں دی جا سکتی۔ کارٹونسٹ نے توگستاخی کی حد کر دی کہ ناک ماتھے پر چڑھا دیا ،اور پاؤں ننگا رکھ کر بوٹ ہاتھوں کو پہنادی ۔کسی بھی مہذب منافق معاشرے میں ایسی گستاخی کی اجازت تو کسی طرح بھی نہیں دی جا سکتی۔ کارٹونسٹ کاپنسل میرا کی بورڈ تھوڑا ہے کہ اس طرح پھسلنے کی اجازت دی جائے۔کارٹونسٹ کو چاہیے کہ فوٹو شاپ پر ضل الہٰی کی خوبصورت سی تصویر بنا دے نیچے کم از کم دس لائک کے ساتھ اپنا نام لکھ دے تاکہ جان بخشی ممکن ہو۔ اسی طرح اربابِ اختیار کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ایسے گستاخ لکھاریوں سے اپنے شان میں قصائد کے چند جملے یا مصرعے ضرور لکھوائے جائیں تا کہ سند رہے۔ لیکن یہ لوگ بھی اس قدر ضدی ہیں کہ کچھ اور ہی لکھ بیٹھتے ہیں اور آرام سے جیل جا کر افیسران ِ بالا سے کہتے ہیں، کہ بیٹا تم نے اتنا کمایا نہیں جتنا میں نےٹھکرایا ہے۔جالؔب کو کسی سادہ لوح نے شاید صعوبتوں سے بچانے کے لیے کچھ اچھا لکھنے کی تجویز دی تھی ، تو جواب میں حضرت جالبؔ نے پوری غزل لکھ ڈالی ’’کیا لکھنا۔۔۔۔‘‘ ۔ سب کچھ لکھ تو دیا اب اور کیا لکھنا۔
ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا
پتھر کو گہر، دیوار کو در، کرگس کو ھُما کیا لکھنا
لکھنا ہو تو اس طرح لکھنے کی عادت ڈالو، ورنہ اپنا سیاہی اور کاغذ، دوسروں کا وقت اور دماغ ضائع مت کرو۔
صحرا کو چمن، بَن کو گلشن، بادل کو رِدا کیا لکھنا
ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا!

تحریر ۔ ڈاکٹر ذاکر حسین ذاکر

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website