شیخ سحر تیں عدد چھوٹی ڈائریاں اور خزانہ

0 0

 

شیخ سحر صاحب کا جنازہ مرکزی جامع مسجد میں رکھا گیا تھا جہاں ان کے چاہنے والے جمع تھے ، ہم بھی ان کے ادنی عاشقوں میں سے تھے سو میت کے پاس افسردہ بیٹھے تھے ۔ ۔ اسی دوران محمد حسن حسرت صاحب نے جیب سے پلاسٹک کی ایک تھیلی (شاپنگ بیگ) نکالی اور شیخ صاحب کے ایک مرید خاص توصیف احمد کے حوالے کیا ۔ ۔ حسرت صاحب نے کہا “توصیف اسے سنبھال لو، یہ شیخ صاحب کا کل اثاثہ ہے۔” ۔ ۔ میں نے توصیف کے ہاتھ سے تھیلی اٹھائی اور سامان نکال کر کارپیٹ پر پھیلا دیا ۔ ۔ تیں عدد چھوٹی ڈائریاں جن میں سے دو کے کور (جلد) بوسیدہ ہو کر غائب ہو چکے تھے ، ایک کی جلد سلامت تھی مطلب یہ حالیہ دنوں خریدی گئی تھی۔ ایک اور پلاسٹک کی پوٹلی سی تھی جس میں غالبا ایک انگھوٹھی اور اسی نوع کی کچھ چیزیں تھیں، ہماری (میری اور انجم کی) دلچسپی ڈائریوں میں تھیں سو ہم نے ڈائریوں کی ورق گردانی شروع کی جن میں اڑھی ترچھی لکریں ڈالی گئی تھیں مگر ہم سمجھ سکتے تھے کہ یہ شعر کی آمد کے موقعوں کی کھینچھی گئی ہیں اور ان لکیروں میں بڑے پیغامات چھپے ہوئے ہیں ۔ ۔ موقع ایسا نہ تھا کہ تفصیل سے ایک ایک چیز دیکھتے تاہم جلدی جلدی کچھ چیزیں دیکھیں، کچھ صفحات کی تصاویر بنائیں اور سامان توصیف کو واپس کر دیا۔ ۔ ۔ آج بیٹھ کے ان تصاویر پر غور کر رہا تھا ، جن میں ایک مکمل کلام بھی موجود تھا ۔ ۔ سوچا یہ کلام شیخ صاحب کے چاہنے والوں کے حوالے کر دیا جائے۔

کلام سحر

مـــــولا تھکے نہیں ہم تجھ کـــــــو بلا بلا کر
ہم نے ظـــــــہور چاہا غـــــــیبت کا در ہلا کر

ہم دن کی روشنی میں تکـــــــتے ہیں راہ تیری
اور شب کو ڈھونڈتے ہیں تجھ کو دئیے جلا کر

تیرا ظہور جـــــــلدی مـمکن نہیں ہے پھر بھی
اک ہی جـــــــھلک دکـــــــھانا پردہ ذرا ہٹا کر

ہم تیری جـــــــستجو میں آوارہ ہو گئے ہیں
کرتے ہیں یاد تـــــــجھ کو ہر چیز کو بھلا کر

احـــــــباب نے ہمارے یہ کہہ دیا ســــحر سے
عـــــــرضی ہماری دینا مــــولا کو تم اٹھا کر

تحریر : ذیشان مہدی

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website