اگرچہ گلگت بلتستان کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے پہاڑی سلسلےاور دشوار گزار جغرافیہ ہونے کی وجہ سے کافی عرصے تک دنیا کی نظروں سے اوجھل رہا ہے مگر چار ایٹمی طاقتوں کے درمیان موجود ہونے اور منفرد حیثیت کی حامل ہونے کی وجہ سے عالمی طاقتوں کی بلواسطہ یا بلاواسطہ توجہ کا مرکز بھی ہے۔یہ خطہ یکم نومبر 1947 کو مقامی فوجیوں کی ڈوگرہ راج کے خلاف بغاوت کے نتیجے میں آزاد کرا کر جمہوریہ گلگت کے نام سے ریاست کا قیام عمل میں لایا گیا اور راجہ شاہ رئیس خان کو صدر ریاست اور حسن خان آرمی چیف منتخب ہوئے مگر میجر براون کی سازش اور برٹش حکمت عملی کی وجہ سے نو مولود ریاست زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکی 16 نومبر 1947 کو خیبر پختونخواہ سے آنے والے نائب تحصیلدار سردار عالم خان نے ریاست کا خاتمہ کر کے ایف سی آر نافذ کیا اور صدر ریاست کو سول سپلائی میں منشی بھرتی کیا گیا ۔اور ہر طرح کی سیاسی سرگرمیوں اظہار رائے تحریر و تقریر کے ساتھ کسی طرح کی سیاسی جماعت کی تشکیل پر پابندی لگا دی گئی ۔ایف سی آر اور پولیٹیکل ایجنٹ کی آمد کا سلسلہ 1947 سے لیکر 1970 تک جاری رہا ان ادوار میں بھی گلگت بلتستان کے مقامی باشعور لوگوں نے بنیادی انسانی حقوق و شناخت کیلئے انفرادی و مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم تشکیل دینے کو کوشش کرتے رہے جن میں کرنل حسن خان جوہر علی خان اور امان اللہ خان مرحوم شامل ہیں ۔
ان حالات میں سب سے پہلے مقامی سیاسی جماعت گلگت لیگ کی بنیاد کرنل حسن خان نے 1956 میں رکھی جسکا مقصد ایف سی آر کا خاتمہ اور بنیادی انسانی حقوق کیلئے جد و جہد تھا مگر گلگت لیگ پر 1958 میں پابندی لگا دی گئی ۔
ساٹھ کی دہائی میں ایک بار پھر ایف سی آر کے خاتمے اور حقوق کیلئے جد و جہد کرنے کیلئے جوہر علی خان ایڈووکیٹ کی قیادت میں تنظیم ملت کی بنیاد رکھی گئ بہت جلد تنظیم ملت مقبول جماعت بن گئ اور زبردست عوامی مزاہمت کے نتیجے میں لیڈرشپ کو پابند سلاسل کیا اور عوام نے جیل توڈ کر اپنے قائدین کو رہا کیا جسکے نتیجے میں ذوالفقار علی بھٹو نے دورہ کر کے ایف سی آر کے خاتمے کا اعلان کر کے سیاسی اصلاحات کا آغاز کرنے پر جوہر علی خان نے تنظیم ملت کو پاکستان پپلز پارٹی میں ضم کر کے اپنی سیاسی ساخت کو نقصان پہنچانے کے علاوہ مزاحمتی تحریک کا خاتمہ کر دیا۔
1952میں کشمیری لیڈر شپ نے دورہ کرکے مسلم کانفرنس کی بنیاد رکھی مگر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے درمیان زمینی و سیاسی رابطوں کا فقدان کی وجہ سے بہت جلد یہ پارٹی بھی ختم ہوگئی شاہراہ قراقرم کی تعمیر کی وجہ سے گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع سے نوجوان طلبہ حصول علم کے لئے پاکستانی شہروں میں جانے لگے کراچی بلوچستان لاہور میں میڈیکل انجینئرنگ و دیگر شعبوں میں حصول علم کے لئے آنے والے طلباء نے جب دیکھا کہ شہروں میں کالجوں یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلباء اپنے حقوق کے لئے مطالبات کیلئے احتجاج کر رہے ہیں تو انکو دیکھتے ہوےگلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے بھی اپنی مسائل حقوق سے محرومی کے خاتمے کیلئے ایک سیاسی مقامی جماعت بنانے کے لیے غور فکر کیا اور کئی بار میٹنگ فکری نشستیں کرنے کے بعد 80 کی دہائی میں قراقرم نیشنل مومنٹ و قراقرم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیاد رکھنے کیلئے قاسم شیر الیاٹ کی قیادت میں کئ فکری نشستوں کا انعقاد کیا گیا قاسم شیر الیاٹ کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع نگر کے گاؤں سمائر سے تھا ان کے والد راجگی نظام کے خلاف مزاحمت اور بغاوت کرکے جلاوطنی اختیار کرکے بلوچستان جا کر آباد ہوئے تھے اور ان کا بیٹا بھی اپنے والد کی طرح اپنے علاقے سے محبت کرتے تھے اور حقوق کے لئے جدوجہد کرتے رہے قاسم شیر الیاٹ کے سندھ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی قوم پرست و ترقی پسند جماعتوں کے لیڈروں کے ساتھ بہت اچھے سیاسی و دوستانہ تعلقات تھے 1984میں بولان میڈیکل کالج بلوچستان میں قاسم شیر الیاٹ کی قیادت میں پہلی بار باضابطہ قراقرم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن و قراقرم نیشنل مومنٹ کی بنیاد رکھی گئی ابتدائی نظریہ و دستور تشکیل دیا گیا ہے ڈاکٹر شریف استور ڈاکٹر بہادر ڈاکٹر اشدر ودیگر طلبہ بانی اراکین میں شامل تھے 1986 میں کراچی میں 14 طلبہ تنظیموں کو ختم کر کے کے ایس او کے این ایم کی بنیاد رکھی گئ اور 1989 میں گلگت شاہی پولو گراونڈ میں مرکزی کنونشن رکھا گیا جسمیں پاکستان وکشمیر سے قوم پرست و ترقی پسند رہنماوں نے شرکت کی اور سیاسی جمود توڈا اور 88 میں فرقہ کے نام پر ضیاء الحق کی سرپرستی میں ہونے والی لشکر کشی کو بے نقاب کیا اور قوم کو اپنے قومی پلیٹ فارم پر بلا تفریق رنگ نسل فرقہ ذات پات سے بالاتر ہو متحد ہو کر ایک قوم بننے کی دعوت دیا۔
قراقرم نیشنل مومنٹ نے قومی سوال پر آواز اٹھاتے ہوئے خطہ قراقرم کے عوام کو ایک علیحدہ شناخت قوم قرار دیتے ہوئے اپنی شناخت کے لیے لفظ شمالی علاقہ جات کا خاتمہ کر کے علاقے کے نام کو قراقرم رکھنے کا مطالبہ کیا تاکہ قومی شناخت بحال کی جاسکے اور قومی شناخت کے ساتھ سماجی معاشی سیاسی قانونی حقوق اور قومی خودمختاری کا حصول اپنے نظریے کا حصہ بنایا قراقرم نیشنل موومنٹ کے کئی کارکنوں اور رہنماؤں نے دوران جدوجہد شہید ہوئے جن میں شہید کامریڈ افلاطون شہید غازی انور شہید شاہ زمان شہید انجینئر جمہ گل اور شہید اکبر کے علاوہ کئ کارکنوں اور رہنماؤں نے غداری بغاوت کے مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے قید و بند کی تکالیف برداشت کیے جن میں کامریڈ افتخار کربلائی جنہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی اور سب سے زیادہ سیاسی قید کاٹنے کے بعد رہائی ملی سابق چیئرمین محمد جاوید شاہ زمان صابر علی شاہ ممتاز نگری نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں قراقرم نیشنل مومنٹ ایک ترقی پسند قوم پرست جمہوری جماعت ہے جو کسی طرح کی شخصیت پرستی یا ڈکٹیٹر شپ سے آزاد ہے اور پارٹی آئین و منشور کے مطابق ہر دو سے تین سال میں قیادت کا انتخاب کیا جاتا ہے ہر متحرک کارکن کو قیادت کا موقع ملتا ہے قراقرم نیشنل موومنٹ کے بانی و قائد قاسم شیر 2005 میں دل کا دورہ پڑنے سے داعی اجل کو لبیک کہہ گئے مگر ان کا لگایا گیا پودا ایک تناور درخت بن چکا ہے اور اسی پلیٹ فارم سے سینکڑوں کارکنوں رہنماوں کی ایسی تربیت و شعور آگاہی سے لیس ہو کر قومی تحریک میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں موجودہ دور میں قراقرم نیشنل موومنٹ کا یہ موقف ہے کہ مسئلہ کشمیر کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونے تک گلگت بلتستان میں آئین ساز اسمبلی کا قیام عمل میں لایا جائے سٹیٹ سبجیکٹ رول بحال کیا جائے ، غیر مقامی بیوروکریسی کا انخلا عمل میں لایا جائے اور تاریخی راستوں کو بحال کیا جائے سی پیک میں حصہ دیا جائے دیامر ڈیم و بونجی ڈیم کی رائلٹی گلگت بلتستان کو دی جائے قراقرم نیشنل موومنٹ نے اپنے اپنے جد و جہداور مقاصد کے حصول کیلئے مختلف سیمنار ورکشاپ کنونشن کا انعقاد کرتی رہی ہے ضلع گلگت ،دیامر،چلاس ہنزہ نگر غزر اور بلتستان کے علاوہ پاکستان کے شہروں میں بے شمار نظریاتی کارکن ہیں۔ 1985 میں بلتستان سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی گئی گی جس کے ابتدائی مقاصد میں طلبہ کے حقوق کا حصول شامل تھا مگر بہت جلد بلتستان سٹوڈنٹ فیڈریشن نے بھی گلگت بلتستان کے قومی سوال کو اپنی جدوجہد کا حصہ بنایا اور ان کے بانی رہنماؤں میں منظور پروانہ شہید حیدر شاہ رضوی غلام شہزاد آغا شبیر مایار شامل ہیں 90 کی دہائی میں بالاورستان نیشنل فرنٹ کی بنیاد نواز خان ناجی اور عبدالحمید خان نے رکھی اور آزاد بالاورستان ریاست کا نعرہ لگایا اس جماعت بہت تیزی کے ساتھ پذیرائی ملی مگر 2005 میں چیئرمین شپ و مرکزی قیادت پر اختلافات کے باعث یہ جماعت دو دھڑوں میں تقسیم ہوئی دونوں دھڑے ے بی این ایف حمید بی این ایف نا جی گروپ کے نام کے ساتھ سیاسی سرگرمیاں کرتے رہے حمید خان یورپ میں بیٹھ کر سیاسی سرگرمیاں کرتے تھے جن پر راء کے ساتھ کام کرنے کی الزامات ہیں اور انکی پارٹی کے خلاف کریک ڈاون کرکے بہت سارے کارکنوں کو گرفتار کیا گیا مگر بعد میں سب کو رہا کیا گیا اور 2020 میں اپنی تحریکی جدوجہد سے سرنڈر کرنے کے بعد حمید خان گلگت سے ملحقہ شہر دنیور میں آباد ہیں جبکہ نواز خان ناجی نے گلگت میں بیٹھ کر سیاست کو ترجیح دی الیکشن میں بھی حصہ لیا اور ابتدائی تین الیکشن میں ہارنے کے بعد مسلسل بعد میں تین الیکشن جیتے رہے ہیں اور گلگت بلتستان اسمبلی میں قومی سوچ کی توانا آواز بنے ذاتی طور پر نواز خان ناجی نے بڑا نام بنایا مگر اپنی پارٹی کو ضلع غزر کے دیگر دو حلقوں میں اپنے امیدوار تک پیدا نہیں کر سکے اور اپنی پارٹی کو اپنے حلقے کے اپنے ضلع کے علاقے تک محدود کیا جس کی بدولت ناقدین کا یہ بھی خیال ہے کہ انہوں نے ریاستی اداروں سے ہاتھ ملانے کے بعد اپنی جماعت کی سرگرمیاں محدود رکھنے کا سمجھوتہ کیا ہےتو ایک سیٹ جی بھی اسمبلی میں مسلسل جیت رہے ہیں مگر نواز گانا جی جی بی اسمبلی کے مسلسل ممبر منتخب ہونے کے باوجود اپنی جماعت کو گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع میں پھیلانے میں تنظیم سازی میں میں مکمل ناکام رہے اور مشترکہ قومی جدوجہد میں بھی عدم دلچسپی و توجہ کا بھی شکار ہیں
2000 کی دہائی میں بھی مختلف لوکل پارٹیاں وجود میں آتی رہی ہیں جن میں گلگت بلتستان نیشنل موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر غلام عباس استوری، گلگت بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ کے بانی اور سربراہ منظور پروانہ گلگت بلتستان جمہوری محاذ کے رہنما انجینئرنگ شجاعت علی خان بلور ریسرچ فورم سلطان مدد انجینئر امان اللہ گلگت بلتستان عوامی ایکشن تحریک کے سربراہ احسان علی ایڈوکیٹ جن کی سیاسی کارکنوں اور رہنماؤں کے لیے بے شمار خدمات ہیں گلگت بلتستان تھنکرز فورم کے سربراہ وجاہت علی خان جو کہ جرمنی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں عوامی ورکرز پارٹی جن کے گلگت بلتستان میں سربراہ بابا جان ہیں جو کہ ایک وفاقی پارٹی ہے گلگت بلتستان کے قومی سوال پر یہ بھی مقامی سیاسی پارٹیوں کے نقطہ نظر سے متفق اور مشترکہ جد و جہد پر یقین رکھتے ہیں اس کے علاوہ مشترکہ جدوجہد میں گلگت بلتستان نیشنل الائنس گلگت بلتستان ڈیموکریٹک الائنس اور عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان بچاو تحریک اور گلگت بلتستان سپریم کونسل کے پلیٹ فارم سے بھی یہی پارٹیاں قومی حقوق و شناخت کے لئے جدوجہد کرتے رہے ہیں
جبکہ مختلف وفاقی و مذہبی جماعتیں جنکی حکومت پاکستان میں ہوتی ہے انہیں کی حکومتیں یہاں بھی قائم کی جاتی ہے جنکا گلگت بلتستان کے قومی سوال پر کوئی خاص نقطہ نظر نہیں کیونکہ ان جماعتوں کی رسی لاڑکانہ رائیونڈ اور بنی گالہ سے ہلایی جاتی ہے اور انکے کارکن اپنی مرکزی احکامات کے پابند ہیں اور قومی سیاسی جدوجہد میں یہ پارٹیاں ایک بڑی رکاوٹ ہیں اور یہاں کی مذہبی جماعتوں کا بھی قومی سوال پر کوئی ٹھوس موقف نہیں ہے۔
تحریر: تعارف عباس ایڈووکیٹ
شعور کیلئے
Mashaallah zabrdst Allah ap sub ko mazed kamyabe ata karay amen