چلاس(ابن نعیم سے)چلاس شہر کے عقب میں واقع پرائمری سکول بٹو کوٹ کی بلڈنگ کی حالت قابل رحم ،بلڈنگ کی خستہ حالی اور جگہ جگہ سے دیواروں میں دراڑیں پڑنے کی وجہ سے طلبہ کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں ،سکول کے دروازے اور کھڑکیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور چاردیواری نہ ہونے کی وجہ سے سکول بھینسوں اور بھیڑ بکریوں کا آمجگا بن چکاہے ،سکول کے کلاس رومز کی بگڑتی ہوئی صورت حال کی وجہ سے طلبہ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔محکمہ ایجوکیشن کے ناک تلے سکولوں کی یہ حالات دیکھ کر ہر گزرنے والا محکمہ تعلیم کے زمہ داروں پرتنقید کئے بغیر نہیں رہ سکتا ہے ۔بٹوکوٹ چلاس کے مکین فیاض الرحمن نے کے پی این کو بتایا کہ محکمہ ایجوکیشن کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے اس پرئمری سکول کی حالت قابل رحم ہے ،سکول کھنڈرات کا منظر پیش کررہا ہے مگر محکمہ ایجوکیشن کے زمہ داروں کی کانوں میں جوں تک نہیں رینگتی ۔چلاس شہر میں سکولوں کی یہ حالت ہے تو نالہ جات میں واقع سکولوں کی حالت کیا ہوگی ۔انہوں نے وزیر اعلی ،چیف سیکرٹری اور کمشنر دیامر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نوٹس لیکر پرائمری سکول بٹوکوٹ کی بلڈنگ کی مرمت اور دیگر تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اُٹھائیں اور گزشتہ کئی سالوں سے اس سکول کو لاوارث رکھنے والے زمہ داروں کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جائے ۔
Gilgit-Baltistan’s first online premier news network
GilgitBaltistan
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا