گلگت(سعادت علی) ڈی آئی جی گلگت رینج وقاص احمد نے ایس ایس پی گلگت راجہ مرزا حسن کے ہمراہ ایس ایس پی آفس گلگت میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نلترمیں گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ کھلی دہشت گردی ہے اور اس واقعے میں خاتون سمیت 6 بے گناہ افراد کو بے دردی سے قتل اور معصوم بچے سمیت 8افراد کو شدید زخمی کیاگیا انہوں نے کہا کہ نلتر واقعہ دہشت گردی کی بدترین مثال ہے جس پر انسداد دہشت گردی دفعات کے تحت 16 نامزد ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور اس واقعہ میں ملوث نامزد 16افراد میں سے 11ملزمان کو گرفتار کیاگیا ہے جن سے تفتیش کے لئے حساس اداروں کے ذمہ داروں پر مشتمل پانچ رکنی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے انہوں نے مزید کہا کہ نلتر واقعہ کے بعد پولیس نے بروقت ملزمان کی گرفتاری کے لئے اقدامات اٹھائے اور اب تک 11 ملزمان کو گرفتار کیا گیاہے بہت جلد دیگر تمام ملزمان کو بھی گرفتار کرکے کیفر کردارتک پہنچایا جائیگا ڈی آئی جی نے کہا کہ نلتر میں گزشتہ مہینوں ہونے والا ایک واقعہ زمین اور دیگر تنازعات کا شاخسانہ تھا جب تک ان تناعات کے پائیدار حل تلاش نہیں کیاجائیگا اس طرح کے واقعات کی روک تھا م ممکن نہیں ہے انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز نلتر میں دہشت گردی کے واقعہ کو پولیس ترجمان کی طرف سے ذاتی دشمنی قراردینے پر ہم معذرت خواہ ہیں پولیس ترجمان کی نیت پر شک نہیں کیاجاسکتا ہے تاہم وہ الفاظ کے صحیح استعمال نہیں کرسکے ہیں ڈی آئی جی گلگت رینج نے کہا کہ گلگت بلتستان میں حالات پرامن ہیں اور وفاقی وزارت داخلہ کے احکامات کی روشنی میں سیکورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے اور حالات مکمل قابو میں ہیں واقعے کی آڑ میں کسی کو بھی پرامن حالات کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاۓ گی ڈی آئی جی نے مذید کہا کہ نلتر چوکی پر تعینات پولیس اہلکاروں کو فوری تبدیل کرنے کے لئے احکامات جاری کئے گئے ہیں انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ اس کیس کی تہہ تک پہنچ جائیں گے اور لواحقین کو مکمل انصاف فراہم کیاجائیگا اور اس کیس میں نامزد تمام ملزمان گرفتار کئے جائیں گے جبکہ 24گھنٹوں میں گیارہ ملزمان کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے
سانحہ نلتر واقعے کے نامزد 16دہشت گردوں میں سے 11 کو گرفتار کیاگیا ہے ساتھ میں جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے ڈی ائی جی کا پریس کانفرنس
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا