چلاس (خصوصی رپورٹ ٹی این این ) گلگت کا مضافاتی علاقہ نلتر کے مقام پر گزشتہ روز پیش آنے والا دل خراش واقعے کے بعد گلگت بلتستان کا امن ایک بار پھر خطرے میں ہے۔ اس حوالے سے گلگت بلتستان بھر میں تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے۔ عوامی حلقوں میں خوف وہراس طاری ہو چکا ہے۔ عوامی حلقوں کی نظریں گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کے اقدامات پر ہیں۔ اس واقعے کے بعد جہاں گلگت بلتستان بھر میں تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے وہیں دیامر اور کوہستان کے عوام سڑکوں پر بھی نکل گئے ہیں۔ دیامر کا تحصیل داریل ، تھور، گونر فارم اور کوہستان کا علاقہ شتیال کے مقام پر نلتر واقعے کی خلاف شدید احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ احتجاجی مظاہرین میں شدید غم و غصہ پایا جارہا تھا۔ احتجاجی مظاہرین نے صوبائی حکومت گلگت بلتستان کو ڈیڈ لائن دے دی۔ مظاہرین نے حکومت کو ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ایک ہفتے کے اندر اہم ملزمان کو فوری گرفتار کرے۔ اہم ملزمان کی عدم گرفتاری پر انکا تعاقب خود کریں گے۔ حکومت اگر گرفتار نہیں کرتی ہے تو آنے والے سنگین حالات کی ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوگی۔ دوسری جانب اس واقعے سے متعلق گلگت بلتستان پولیس کی جانب سے جاری کردہ بیانہ پر بھی عوامی حلقوں میں شدید تحفظات ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ کیسی ذاتی دشمنی ہے کہ وین میں بھرے مسافروں پر اندھا دھند فائرنگ کرے۔ دشمنی کسی ایک گھرانے یا خاندان سے ممکن ہوسکتی ہے لیکن وین میں بھرے مختلف لوگوں سے ذاتی دشمنی کیسے ہو سکتی ہے۔ عوامی حلقوں کا مذید کہنا ہے کہ یہ کاروائی سوچی سمجھی سازش کے تحت کی گئی ہے۔ دہشت گردوں نے اس واقعے کے ذریعے گلگت بلتستان کا پرامن ماحول کو کھلم کھلا چیلنج کیا گیا ہے۔ پولیس دہشت گردی کے واقعے کو ذاتی دشمنی قرار دے رہی ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔ یاد رہے گزشتہ روز گلگت بلتستان کا علاقہ نلتر ویلی میں دلخراش واقعہ پیش آیا۔ نلتر پائین کے مقام پر نامعلوم افراد نے گلگت سے نلتر جاتی مسافر گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں 5 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ اس افسوس ناک واقعہ میں بچہ سمیت 8 افراد زخمی ہوئے ہیں۔تمام جاں بحق اور زخمیوں افراد کو سٹی ہسپتال کشروٹ گلگت منتقل کردیا گیا ہے جہاں ایک خاتون زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی ہے،جاں بحق افراد کی تعداد 6 ہوگئی ہے۔اس واقعہ کی وجہ سے گلگت بلتستان کی فضاء سوگوار ہوگیا ہے۔
سانحہ نلتر واقعے پر کوہستان اور چلاس میں شدید احتجاج حکومت کو ڈیڈلائن دے دیا
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا