گلگت (پ ر) صوبائی سیکریٹری اطلاعات پاکستان پیپلزپارٹی و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کے جوانوں کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی صوبائی حکومت بالخصوص صوبائی وزیر خزانہ کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا وفاقی حکومت ڈھائی سال کے عرصے میں پہلی بار وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا مگر گلگت بلتستان میں وزراء اس حوالے سے عدم دلچسپی کا اظہار کررہے ہیں۔ وفاق میں نیازی حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں اور آئی ایم ایف کی خوشامدیوں کی وجہ سے مہنگائی آسمان سے باتیں کررہی ہے ،مزدور اور کم تنخواہ دار طبقہ بھی ان پالیسیوں کے سبب فاقہ کشی پر مجبور ہے۔ ان حالات میں ملازمین کی تنخواہ بڑھانے کی بجائے ان کو کئی مہینوں سے تنخواہ ہی ادا نہیں کی جارہی اور جب اس حوالے سے حکومت سے پوچھا جاتا ہے تو جھوٹ بولتے ہیں کہ بجٹ ریلیز کردیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عبوری صوبہ پاکستان پیپلزپارٹی کے منشور میں شامل ہے جس پر آج تمام سٹیک ہولڈرز متفق ہیں وہ پاکستان پیپلزپارٹی کا ویژن ہے پاکستان پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے عوام کی محرومیوں کا مکمل ازالہ چاہتی ہے انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبوری صوبے کی معاملے پر صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کی خاموشی حیران کن ہے۔ عبوری صوبے کے قرارداد کا دفاع کرنا تو دور کی بات تحریک انصاف عبوری صوبے کے لفظ کو بھی اپنے منہ میں لانے سے کتراتے ہیں۔ ان کی خاموشی سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ لوگ کتنے سیاسی طور پر شعور و آگہی رکھتے ہیں اسمبلی سے اتفاق رائے سے پاس ہونے والی قرارداد کے متن کو عوام تک پہنچانا اور اس کا دفاع کرنا حکومتی اراکین اور وزراء کا کام ہے جس میں یہ لوگ مکمل طور پر ناکام ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے کچھ عناصر عبوری صوبے کی قرارداد کے حوالے سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں جو آئندہ دنوں میں حکومت کی اس نالائقی کی وجہ سے ان کادرد سر بن سکتے ہیں۔
کچھ عناصر عبوری صوبے کی قرارداد کے حوالے سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں ممبر صوبائی اسمبلی سعدیہ دانش
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا