ہمارے گلگتی بھائی مزاقنا کہتے ہیں کہ بلتی (بلتستانی) پانچ بھی ہوں تو اکیلے ہوتے ہیں 😀 اس کے پیچھے کیا کہانی ہے ، یہ ہمیں نہیں پتہ ۔ ۔ ۔ ٹیم بلتستان نے جب سکردو سے گلگت کی طرف سفر کرنے کا فیصلہ کیا تو قدرتی طور پر 5 اراکان کی ہی ٹیم بنی گو کہ بہت سارے احباب نے قافلے میں شامل ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تھا مگر وسائل کی کمی کے ڈر سے ہم انہیں شامل نہ کر سکے اور پھر خدا اور پنجتن کا نام لیکر “پانچ بلتی اکیلے” ہی چل پڑے ۔ ۔ ۔
جیسے جیسے ہم آگے بڑھ رہے تھے ہمیں لگ رہا تھا کہ بہت سارے لوگ ہمارے ساتھ چل رہے ہیں, چاہنے والے جگہ جگہ استقبال کر رہے تھے ، فون کر کے حوصلہ بڑھا رہے تھے ، سوشل میڈیا پر تو ایک شور اٹھا ہوا تھا اور ہر دوسرا شخص “سرمائی سیاحت” پر کچھ نہ کچھ لکھ رہے تھے ، سو ہمیں لگا کہ ہم “پانچ بلتی اکیلے” نہیں بلکہ 5 ہزار کا قافلہ ہمارے ساتھ چل رہا ہے۔ ۔ ۔ جیسے جیسے ہم گلگت کی طرف بڑھتے جا رہے تھے قافلہ پھلتا پھولتا جا رہا تھا ، واک کے اختتامی روز گلگت کے شہریوں نے بھی ہمارا بھرپور استقبال کیا اور کامیابی کا ٹھپہ لگا دیا ۔ ۔ اگلے روز التت اور غلکن کے عمائدین کی دعوت پر ہم ہنزہ گئے ۔ ۔ ۔ التت میں ہمارا شاندار استقبال ہوا ، یہاں یو این ڈی پی کے تعاون سے مقامی یوتھ آرگنائزیشن لتت سکارف کے زیر اہتمام ایک قدیم ٹریک کا افتتاح ہونے والا تھا۔ تنظیم کے صدر صادق معاملات سنبھال رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ سکندر اعظم کے لشکریوں نے پہاڑی کی طرف پانی کی تلاش کے دوران اس راستے کو بنایا تھا ، سفید رنگ کی شرٹس میں ملبوس نوجوان بچوں اور بچیوں کی کثیر تعداد جمع ہو رہی تھی ، تھوڑی دیر میں ایک گلی سے کچھ جوان پاکستان کا جھنڈا تھامے نکلے اور ٹیم کی قیادت سنبھال لی، ایک گلی سے بزرگ خواتین آرہی تھیں، جنہوں نے ہاتھوں میں تھالیاں اٹھا رکھی تھیں ، پہلی ںزرگ خاتوں کے ہاتھ میں موجود تھالی کے اوپر رومال ڈالا گیا تھا البتہ اندازہ ہو رہا تھا کہ اس میں کھانے کی کوئی شے رکھی ہوئی ہے، دوسری خاتون کے ہاتھ میں موجود تھالی میں آٹا تھا ، تیسری کی تھالی میں گل گل جل رہا تھا (گل گل ایک پہاڑی پودہ ہے جس کو سوکھا کر جلاتے ہیں) جس کے باعث ارد گرد کے ماحول میں بھینی بھینی خوشبو پھیل رہی تھی ۔ ۔ ۔ اسی اثنا میں بانسری بجنے کی آوازیں آنے لگیں ، پھر ڈھول بجنے لگے اور سازندوں نے سب سے اگلی صف سنبھال لی۔ ۔ اس طرف سے گاوں کے بزرگ روایتی شوقہ پہن کر نمودار ہوئے اور ہمارے ساتھ مل گئے ۔ ۔ فیتہ لگا دیا اور قینچی آگئی ، ایک بزرگ نے دعائیں پڑھیں اور فیتہ کٹ گیا۔ ۔ ۔ بزرگ خواتین آگے بڑھیں اور تھال سے کپڑا ہٹایا جس میں ۔۔۔ مقامی کھانا تھا (مکھن اور دیسی روٹی)، بزرگ نے مخوص انداز میں ہاتھ ہلا ہلا کر سلامی دی ، ایک لقمہ اٹھایا اور جیب سے پیسے نکال کر تھال میں ڈال دیے، بٹ صاحب نے بزرگ کی تقلید کی ۔ ۔ ایک خاتوں آگے بڑھی اور تھال سے آٹے کی چٹکیاں بھر بھر کر ہمارے کندھوں پر ڈالنے لگی ، وہ ساتھ خیر و برکت کی دعائیں دیتی جا رہی تھیں۔ اس رسم کو مقامی زبان میں بروم ہنک کہتے ہیں جو شادی بیاہ اور تقریبات کے آغاز کے موقع پر ادا کی جاتی ہے)
اس سے پہلے ہمیں صاف ستھرے اور قدیم طرز کی گلیوں سے گزار کر التت فورٹ کے پہلو میں لیجایا گیا تھا، ماحول مین عجیب تازگی تھی ، ایک طرف سے رباب بجنے کی پرسوز آواز آرہی تھی، پھر ہم نسبتا کھلی جگہ پہنچے ، چاروں طرف گھر بنے ہوئے تھے جن کی دیواروں کے ساتھ ساتھ بزرگ خواتین اور بچے بیٹھے ہوئے تھے ۔ ۔ ٹاون منجمنٹ سوسائٹی کے صدر عرفان کریم صاحب بتا رہے تھے “یہ فورٹ 11 سو سال پرانا ہے، جب یہاں کے شہزادے نے بلتستان (شگر) کی ایک شہزادی سے شادی کی تھی، شہزادی کے ساتھ بہت سارے ہنرمند اور کاریگر آئے تھے جنہوں نے نہ صرف یہ محل بنایا بلکہ آس پاس بلتستانی طرز تعمیر کی بہت سارے مکانات بنائے ، ان بلتیوں میں سے اکثر یہاں رہ گئے جو آج بھی یہاں مقیم ہیں یہ مشکن کچھ کہلاتے ہیں۔ ادھر ساتھ ہی گلی میں 421 سال پرانا گھر ہے جسے اہل علاقہ متبرک سمجھتے ہیں کیونکہ حاضر امام پرنس کریم آغا خان 2006 میں اس گھر میں تشریف لائے تھے بعد میں ملکی اور غیر ملکی سطح کی بڑی شخصیات اس گھر میں آتی رہیں ۔ ۔ اندر 3 خواتین تھیں اور ایک بچہ موجود تھا ، ہمیں خوش دلی سے خوش آمدید کہا ، یہ ایک چھوٹا سا کمرہ ہے ، دروازے کے ساتھ والی دیوار پر نظر ڈالیں تو لگتا ہے کہ یہ کچن ہے، دوسری نظر میں روایتی بچھونوں سے سجا ہوا کمرہ کسی بادشاہ کی آرام گاہ لگتا ہے، دوسری طرف کی دیوار میں ایک چھوٹا دروزہ ہے جو سٹور کا ہے۔ بخاری لگی ہوئی ہے، پرانے وقتوں میں بخاری نہیں تھی چنانچہ کمرے کے درمیان میں چولہا جلتا تھا جس سے اٹھنے والا دھواں نکالنے کےلئے چھت کے بیچوں بیچ روشن دان بنایا گیا تھا ، روشن دان نیا لگ رہا تھا مطلب اس کی بعد میں مرمت کی گئی تھی ، یہ روشن دان پانچ کونوں والا تھا اسی طرح پانچ ستونوں نے اس گھر کو اٹھا رکھا تھا ، ستونوں اور دروازوں پر جو نقش و نگار بنے تھے ان پر بھی پانچ کا عدد نمایاں تھا اور ان سب کو دیکھنے کےلئے بلتی بھی پانچ ہی تھے ۔ ۔ ۔ 🤪
یہاں سے فارغ ہوئے تو ہم رشید الدین صاحب کے ہمراہ غلکن کی طرف چل پڑے جہاں سرمائی کھیل جاری تھا (یہ قصہ کل سپرد قلم کرونگا، انشاللہ).
ادھر پانچ بلتیوں کی واک کو پورے جی بی میں پزیرائی مل رہی تھی، التت کے نوجوانوں کے کارواں نے پہاڑی پر ٹریکنگ ختم کر لی تھی ، شگر سے ایک قافلہ سکردو کی طرف چل پڑا تھا ، روندو سے ایک قافلہ پرانے راستوں پر سفر کا پروگرام بنا رہا ہے ، چلاس سے ایک گروپ تانگیر کی طرف واک کرنے کی حکمت عملی بنا رہا ہے، غذر کے نوجوان خلٹی جھیل کی طرف چلنے کو تیار ہیں ، یہ قافلہ کل صبح گلگت سے غذر کی طرف چل پڑے گا جس میں ہم “پانچ بلتی” بھی علامتی طور پر شریک ہونگے۔ ۔ ۔ !
تحریر۔ ذیشان مہدی ۔ ۔ ۔
More Stories
1971 کی جنگ نے خطہ لداخ کی محبت سے کی ہوئی شادی شدہ جوڑے کو کس طرح جدا کردیا درد ناک کہانی
خطہ بلتستان لداخ بارڈر پر پاک بھارت کے فوجی ایک دوسرے سے سگریٹ ڈرائی فروٹ کا تبادلہ کرتے ہیں مگر بچھڑے ہوئے خاُندانوں کو ملنے کیلئے لداخ سکردو روڈ آخر کیوں نہیں کھول رہا؟
عوامی ایکشن کمیٹی دو گروپوں میں تقسیم کے بعد ایک گروپ نے غذر روڑ بند کرنے کا اعلان کردیا اور غذر کے عوام کا بڑا بیان سامنے اگیا