دیامر بھاشا ڈیم پر کام کرنے نہیں دینگے: پاکستان پیپلزپارٹی نے اخر یہ اعلان کیوں کیا؟ تفصیلات کیلئے لنک کریں

0 0

گلگت(سعادت علی)واپڈا دیامر بھاشا ڈیم سےمتعلق 2010 میں ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوۓ 80 فیصد غیر مقامی لوگوں کو ملازمتیں دے رہا ہے ریاست سے ہونے والے 2010 کے معاہدے کے تحت دیامر بھاشا ڈیم میں سکیل 1 سے 19 تک ملازمتوں پر گلگت بلتستان والوں کا حق ہے جبکہ واپڈا سفید ہاتھی بن کر ریاست کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد نہیں کررہا اور نہ ہی عدالتی حکم مان رہا ہے اگر اسی طرح وفاق کی طرف سے فیصلے تھونپے گٸے تو دیامر بھاشا ڈیم پر کام کرنے نہیں دینگے اور جی بی کے حقوق کے تحفظ کے لیے آخری حد تک جاٸینگے۔ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے رہنما بشیر احمد۔ جمیل احمد و رکن گلگت بلتستان اسمبلی غلام شہزاد آغا و دیگر نے منگل کے روز سنٹرل پریس کلب گلگت میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم میں ملازمتوں پر دیامر اور گلگت بلتستان والوں کا حق ہے جبکہ دیامر بھاشا ڈیم میں 80 فیصد ملازمتوں میں کے پی کے والے ہے اور نوکریوں پر ٹیسٹ انٹرویو بھی دوسرے صوبوں میں رکھے جارہے ہے جو کہ دیامر بھاشا ڈیم کی ملازمتوں پر غیر مقامی افراد کھپانے کی سازش ہے جو کسی صورت قبول نہیں ہے دیامر بھاشا ڈیم میں 75 فیصد زمین دیامر والوں کی ہے پھر نام دیامر بھاشا ڈیم کیوں رکھا جارہاہے داسو ڈیم میں 11 کلو میٹر دیامر کا حصہ بھی شامل ہے لہزا داسو ڈیم کا نام داسو دیامر ڈیم رکھا جاۓ بصورت دیگر ہمیں دیامر بھاشا ڈیم نام منظور نہیں ہے صرف دیامر ڈیم نام رکھا جاۓ انہوں نے مزید حدود تنازعہ میں دیامر والے پورے جی بی کی جنگ لڑ رہے ہے اور اپنی ایک ایک انچ زمین کی حفاظت کرینگے جی بی کے حقوق کا تحفظ کرنا ہمارا فرض ہے اگر ہم جی بی کے حقوق کا تحفظ نہیں کرسکتے تو ہمیں سیاست کرنے کا حق ہی نہیں دیامر بھاشا ڈیم کے متعلق 2010 کے معاہدے اور عدالتی فیصلے پر فوری عمل درامد کیا جاۓ عوامی ملکیتی زمینوں پر نیشنل پارک عوام کی اجازت کے بغیر نہیں بناۓ جاسکتے جنگلات کے تحفظ کے لیے ایف سی کی بجائے جی بی سکاوٹس تعینات کیے جاۓ کٹھ پتلی حکومت ایک وزیر کے کہنے پر سر ہلاتی ہے وزیراعلی خالد خورشید ابھی بچہ ہے پہلی بار الیکشن جیت کر اسمبلی میں آیا ہے اس کو کچھ بھی پتہ نہیں ہے گنڈاپور اپنی جولی بھڑنے اور من پسند افراد اور اداروں کو نوازنے کے لیے جی بی کے منصوبوں کے ٹینڈر اسلام اباد میں کروا رہے ہے گلگت بلتستان میں موجود اداروں کے ٹیسٹ اور انٹرویو دوسرے صوبوں میں کروانے کی بجائے گلگت بلتستان میں ہی منعقد کرواۓ جاۓ انہوں نے مزید کہا کہ دیامر بھاشا ڈیم پاکستان کے لیے خوشحالی لانے والا منصوبہ ہے لہزا عوامی احتجاج سے پہلے گلگت بلتستان کے حقوق کو تسلیم کرکے مقامی افراد کو ملازمتیں دی جاۓ دیامر کے عوام 2010 کے معاہدے پر قاٸم ہے واپڈا بھی معاہدے پر عمل درامد یقینی بناۓ تاکہ منصوبہ بر وقت مکمل ہوسکے

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
× News website